سوشل میڈیا کے اثرات

سوشل میڈیا نے معاشرے کو اتنا سوشل کر دیا ہے کہ صبح کی چائے اور ناشتہ اور نماز کے بعد ہاتھ میں موبائل فون ہوتا ہے۔ایک ساتھ تیس سے پچاس اور پانچ سو تک گڈ مارننگ اور سلام دعا کرتے ہیں۔گویابیس سے تیس نیکیوں کے حصول کا آسان ذریعہ ایک انگلی اور ایک بٹن کے فاصلے پر موجود ہے۔شادی اور منگنی کی تقریب کی خریداری ہو یا گھر کے بیڈ روم کے سامان کی خریداری ہو یاپھرپرانے سامان کو نئے سامان سے بدل دینے کی بات، سوشل میڈیا نے اتنا سوشل کر دیا کہ گھر کے ہر سامان کی تصویر کسی انجانے سیل فون پر عیاں ہو رہی ہے۔
اب لینڈ لائن فون صرف آواز نہیں بلکہ پاکٹ میں موجود ایک ڈبے کے ذریعے جسے موبائل کہتے ہیں چند سیکنڈوں میں آڈیو اور ویڈیو کال کی سہولت عطاکرتا ہے۔
آج نورتن پلاؤ سے لے کر چکن چاؤس تک کا سفر فنگرز ٹپس پرہے۔دہلی اور شاہی کھانوں کے لیے دادی یا نانی کا کردار بھی جدید ٹیکنالوجی نے ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔بیٹی کو سسرال میں کچن کے راز بتانے کے لیے ایک بٹن سے کلک کرنا ہی کافی ہوتا ہے۔اور اسے کھانے کے ذریعے دلوں پر راج کرنا سکھا دیتا ہے۔سوشل میڈیا معاشرے کی سرجری کر کے اس کو ایک نئی شکل دینے کی طاقت رکھتا ہے ۔آج سوشل میڈیا نے بچے کو السلام علیکم کے بجائے نمستے اور جے کرشن سکھا دیا ہے ،عبد اللہ،علی کے بجائے جیٹھ لال کے نام رٹوا دیئے ۔علاقوں کی زبانیں اردو سندھی بلوچی کے بجائے میراٹھی،گجراتی، اور ہندی زبانوں کی شناخت کروانے میں کامیاب نظر آتا ہے۔
سوشل میڈیا کے جیسی جدید ٹیکنالوجی مثبت اور منفی دونوں قسم کے اثرات مرتب کر سکتی ہے،اب یہ اس کے استعمال کرنے والوں پر منحصر ہے کہ آیا وہ اس کا مثبت استعمال کرتا ہے یا منفی۔اس ٹیکنالوجی کو دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا بہت ضروری ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ النساء میں فرمایا:
’’ایمان والو! مقابلے کے لیے ہر وقت تیار رہو‘‘
سوشل میڈیا کا رجحان اگر زیادہ تر کافرانہ رہا تو ایسا نہ ہو ،بقول شاعر
دل میرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا
بت کے بندے تو ملے اللہ کا بندہ نہ ملا

حصہ

2 تبصرے

جواب چھوڑ دیں