ایکٹیویٹ ہو جائیے، قبل اس کے کہ آپ کو ’’ڈی ایکٹیویٹ‘‘ کر دیاجائے

آپ نے نیا موبائل خریدا۔ اس میں نئی سِم بھی ڈالی۔ موبائل میں تمام ایپس بھی موجود ہیں۔ بیٹری بھی چارجڈ ہے۔ آپ نے کال کرنے کو کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہوئے۔ پھر آپ وہ موبائل لے کر دوکاندار کے پاس گئے۔ اس سے کہا کہ دیکھو! ہر چیز اپنی اپنی جگہ درست ہے، موبائل بھی نیا ہے، بیٹری بھی فل ہے، سِم بھی ڈلی ہے مگر کال نہیں ہو رہی۔

دوکاندار نے آپ سے موبائل لے کر چیک کیا۔ وہ ایک منٹ میں مسئلہ کو سمجھ گیا اور آپ سےسوال پوچھا:

’’کیا آپ نے یہ سِم ایکٹیویٹ کروائی ہے؟‘‘

’’نہیں تو۔‘‘ آپ نے جواب دیا۔

دوکاندار نے آپ کو بتایا کہ اگر سِم ایکٹویٹ نہیں کروائیں گے تو کال کیسے ہو سکتی ہے؟

پھر، آپ نے ٹیلی کمیونیکشن والوں سے رابطہ کیا۔ انہوں نے جیسے ہی سِم ایکٹویٹ کی، آپ کے فون نے کام شروع کر دیا۔

پھر، اگر آپ وقت پر بل ادا نہ کریں، یا فون کمپنی کی شرائط کی خلاف ورزی کریں تو وہی سِم ڈی ایکٹیویٹ کر دی جاتی ہے اور آپ کا فون باوجود صحیح سلامت ہونے کے آپ کے لیے بیکار بن جاتا ہے۔

یہی حال انسان کا بھی ہے۔ اس کا جسم اسی دنیا میں، ماں کے پیٹ میں بنتا اور نمو پاتا ہے۔ مگر وہ جنبش تب کرتا ہے جب اس میں روح ڈلتی ہے۔ اور روح کیا ہے؟ اللہ کا حکم۔ یعنی ’’سم کی ایکٹیویشن۔‘‘

جسم چاہے صحیح سالم ہو، آنکھیں، کان، دل، بازو، گردے، پھیپڑے۔۔۔۔ہر ہر چیز اپنی اپنی جگہ بالکل درست حالت میں موجود ہو مگر روح نکل گئی تو گویا سب بیکار۔ یوں سمجھیں کہ مالک کی جانب سے اس بندے کی ’’ڈی ایکٹیویشن‘‘ کر دی گئی اور اس کا بظاہر سالم اور خوبصورت جسم کسی کام نہیں رہتا، لہٰذا مٹی میں دبا دیا جاتا ہے۔

ایکٹیویٹ ہو جائیے، قبل اس کے کہ آپ کو ’’ڈی ایکٹیویٹ‘‘ کر دیاجائے

حصہ

جواب چھوڑ دیں