اسکولز کے طلبہ و طالبات کو فی الفور کتابیں فراہم کی جائیں ،عظیم صدیقی

221

ڈائریکٹر شعبہ تعلیم جماعتِ اسلامی سندھ اور  اور معروف ماہر ِ تعلیم محمد عظیم صدیقی نے  گزشتہ سال کی طرح امسال بھی سرکاری اسکولوں میں کتابوں کی عدم دستیابی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد تمام اسکولوں میں تدریسی سرگرمیوں کا آغاز ہوگیا ہے مگر سندھ کے محکمہ تعلیم کی عدم توجہی،غفلت اور لا پرواہی کی وجہ سے سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ و طالبات کو ابھی تک کتابیں فراہم نہیں کی گئیں جس کی وجہ سے تدریسی عمل میں نہ صرف دشواریوں کا سامنا ہے بلکہ اس سے طلبہ و طالبات کی تعلیم کا بھی نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے سرکاری نجی اداروں کے لیے پہلی تا باہوریں تک نصاب کی کتاب چھاپ کر فراہم کرنا سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی ذمہ داری ہے مگر ہر سال دو ارب بیس کروڑ سے زائد کا بجٹ رکھنے والا یہ ذمہ داری پوری نہیں کرپاتا ،انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کو مفت ملنے والی کتابیں مارکیٹ میں لائی جاتی ہیں اور مارکیٹ میں دھڑلے سے بکتی ہیں اور المیہ یہ ہے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں جب کہ دوسری جانب والدین بچوں کا کورس پورا کرنے کے لیے صبح شام اردو بازار اور بک شاپس کے چکر لگانے پر مجبور ہیں لیکن پھر بھی کتابیں نہیں مل پاتیں۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے طلبہ و طالبات کو فی الفور کتابیں فراہم کی جائیں تاکہ تعلیمی اور تدریسی عمل بلا تعلطل جاری رہ سکیں۔