فیصلوں میں تاخیر سے معیشت کو نقصان ہو رہا ہے ، میاں زاہد حسین

96

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدراورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک کوبچانے کے لیے تیل، گیس اوربجلی کی سبسڈی کا مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ حکومت کا تیل کی قیمت برقراررکھنے کا فیصلہ موجودہ ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں ایک سیاسی فیصلہ ہے جوزمینی معاشی حقائق سے متصادم ہے۔ ناگزیرفیصلوں میں تاخیر سے معیشت کو شدید نقصان ہورہا ہے۔ اگرتیل کی قیمت برقراررکھنی ہے تواٹھارہ مئی کوآئی ایم ایف سے مذاکرات کا نیا دور شروع کرکے وقت اورسرمایہ کیوں ضائع کیا جا رہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لیے ترقیاتی اورغیرترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور ناکام سرکاری اداروں کو پرائیویٹائز کرنا ضروری ہے جبکہ آمدنی میں اضافہ کے لیے ٹیکس اقدامات بشمول کئی ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کرنا بھی ضروری ہوگا جس کے بغیرآئی ایم ایف مطمئن نہیں ہوگا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کمرشل بینکوں سے زیادہ عرصہ تک بھاری قرضے نہیں لے سکے گی اوراگرحالات سے پریشان کمرشل بینکوں نے مزید قرضے دینے سے انکارکردیا تواقتصادی تباہی یقینی ہوجائے گی۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ تیل گیس اوربجلی کی سبسڈی کے خاتمہ سے مہنگائی بڑھے گی اوراگریہ اقدام نہیں اٹھایا گیا تو دوسری صورت میں معیشت دیوالیہ ہونے سے بھی مہنگائی آسمان سے باتیں کرے گی جبکہ ملک بدامنی اورخانہ جنگی کا شکار بھی ہوجائے گا۔ ان حالات میں غیر مقبول فیصلے کرنے کے لیے حکومت کو اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگانا ہوگا اور یہ صرف اس صورت میں ممکن ہوگا کہ لا اینڈ آرڈر کنٹرول کرنے کے لیے کولیشن گورنمنٹ کو مقتدرحلقوں کی مکمل حمایت حاصل ہو۔ اگر مطلوبہ حمایت کی یقین دہانی میسر نہ ہوئی تو حکومت مشکل فیصلے کرنے کے بجائے نئے الیکشن میں جانے کو ترجیح دے گی اور مشکل فیصلے نگراں حکومت پر چھوڑ دیے جائیں گے جس سے ملک کی معیشت مزید معلق رہے گی۔