معیشت میں مینوفیکچرنگ کا حصہ مسلسل گر رہا ہے، میاں زاہد حسین

214

کراچی: نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں مینوفیکچرنگ کا حصہ مسلسل گر رہا ہے جس سے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔ دوسری طرف سرمائے کا بڑا حصہ غیر پیداواری شعبوں کی طرف جا رہا ہے جس سے چند لوگوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے جبکہ معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ مینوفیکچرنگ کو دیگر شعبوں کے مقابلہ میںمنافع بخش بنائے بغیر اس شعبہ میں نہ تو سرمایہ کاری ہو گی اورنہ ہی بے روزگاری کم ہو گی۔ ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد کروڑوں میں پہنچ گئی ہے جنھیں صرف صنعتکاری کے فروغ کے زریعے ہی با عزت روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں سے ہر سال جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ اوسطاً 0.1 فیصد کم ہو رہا ہے۔ نوے کی دہائی میں جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ پندرہ فیصد تھا جو اب گیارہ فیصد تک گر گیا ہے اور اس میں مذید کمی آ رہی ہے۔ اگر ریفنڈ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا گیا تو منی بجٹ سے صنعتکاری کے عمل کو زبردست دھچکا لگ سکتا ہے جس سے اسکا حجم مذید سکڑ جائے گاجس سے پیداوار، روزگار اور محاصل متاثر ہونگے جبکہ درآمدات پر انحصار مذید بڑھ جائے گا ۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ صنعتکاری کا عمل متاثر ہونے کے سبب پیداوار وبرآمدات متاثر اور درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے جس سے تجارتی خسارہ جنم لیتاہے۔ تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ ہو تو ادائیگیوں کا توازن بگڑ جاتا ہے جس کا نتیجہ قرضوں کی صورت میں نکلتا ہے مگر قرضوں کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اقتدار سنبھالنے والی ہر حکومت کو ابتداء قرضوں سے کرنا پڑتی ہے جس کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ یہ آخری قرضہ ہے مگر جلد ہی ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے دوبارہ قرضہ لینا پڑ جاتا ہے۔میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ جو ملک اپنے اخراجات کنٹرول نہیں کر سکتا اور مالی ڈسپلن کو پامال کرتا ہے اس پر آئی ایم ایف کی حکمرانی کو کوئی نہیں روک سکتا۔