پاکستان ریلوے کوئٹہ کے مزدور مسائل حل کیے جائیں

114

پاکستان ریلوے پریم یونین CBA کوئٹہ ڈویژن کے صدر ارشد یوسفزئی اور جنرل سیکرٹری قدرت اللہ وڑائچ نے گزشتہ دنوں کوئٹہ ڈویژن کے سینئر جنرل منیجر کو خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ریلوے ہائوسنگ سوسائٹی کوئٹہ ڈویژن کی قرعہ اندازی میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا نوٹس لیا جائے۔ کوئٹہ ڈویژن سے چلنے والی تمام بند ٹرینوں کو بحال کرکے بلوچستان کے عوام کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ پاکستان ریلوے کے کئی ڈویژنز میں اسامیوں پر بھرتی ہوچکی ہے لیکن کوئٹہ ڈویژن میں ٹیسٹ انٹرویوز ہونے
کے باوجود بھرتی کا عمل تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر بھرتی کے عمل کا آغاز کیا جائے اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جائے۔ ریلوے میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر وفاقی اداروں کے برابر کی جائیں اور ریلوے کے مختلف شعبہ جات میں کام کرنے والے نظر انداز کیٹیگریز کو اپ گریڈ کیا جائے۔ کوئٹہ ڈویژن کے ریلوے اسپتالوں کوئٹہ، سبی، مچھ، احمد وال، دالبندین اور چمن میں ڈاکٹرز کی 11 اسامیاں خالی ہیں جبکہ اس وقت صرف ایک ڈویژنل میڈیکل آفیسر کام کررہا ہے۔ ڈاکٹرز اور 27 پیرا میڈیکس اسٹاف کی خالی اسامیوں پر تعیناتی عمل میں لائی جائے۔فنڈز ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے گزشتہ 2 سالوں سے ریٹائرڈ ملازمین کی گریجویٹی اور ٹی اے و دیگر واجبات کی ادائیگی نہیں ہورہی۔ فنڈز ریلیز کرکے واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔ ریلوے
ملازمین سے کوارٹروں کی مرمت کی مد میں 5 فیصد کٹوتی کے باوجود کوارٹرز خستہ حالی کا شکار ہیں۔ ٹی ایل اے اور پی ایم پیکیج میں کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کیا جائے۔ ملتان ڈویژن کے طرز پر کوئٹہ میں کام کرنے والے اسکلڈ ملازمین کو بھی 25 فیصد ٹیکنیکل الائونس دیا جائے۔ کوئٹہ میں ٹی ایل اے پر کام کرنے والے گیٹ کیپرز کی تنخواہیں اکثر بند ہوجاتی ہیں اس کا مستقل حل نکال کر مزدوروں کے گھروں کے چولہے بند ہونے سے بچائے جائیں۔ کیرج اینڈ ویگن میں ٹی ایل اے پر کام کرنے والے 10 نکالے گئے ملازمین کو بحال کیا جائے۔