ملازمت پیشہ خواتین کو ہراسگی سے تحفظ فراہم کیا جائے،میرذوالفقار

127

کام کی دنیا میں جنسی ہراسگی اور تشدد کے خاتمے کے لیے کراچی کے نجی ہوٹل میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز ایمپلائز یونین، سندھ ناری پروہیت کونسل، ورکرز ایجوکیشن اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن، انٹرنیشنل یونین آف فوڈ اور پبلک سروسز انٹرنیشنل نے مشترکہ طور پر آرگنائز کیا۔ اس کی صدارت چیئرپرسن، سندھ کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن محترمہ نزہت شیریں نے کی۔ نزہت شیریں ، میر ذوالفقار علی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ورکرز ایجوکیشن اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن، ماہم صدیقی، شہربانو سینئر صحافی، زہرہ اکبر جنرل سیکرٹری ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریسن، حلیمہ لغاری ذوالقرنین صدر آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین، شمع گلانی، جنرل سیکرٹری آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین ، سعید بلوچ جنرل سیکرٹری فشرفوک فورم، قمر الحسن ڈائریکٹر سائوتھ ایشیا انٹرنیشنل یونین آف فوڈ نے کام کی دنیا میں جنسی بنیاد پر تشدد اور ہراسگی کے خاتمے کے لئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میٹنگ کا مقصد موجودہ قانون سازی کی بہتری کے لیے تجاویز تیار کرنے کے ساتھ ورکرز اور سول سوسائٹی کو بہت سے مسائل سے آگاہ کرنے کی ضرورت اور حکومت پاکستان انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی کنونشن C-190کی توثیق کرنے کی ضرورت پر تھا۔ میر ذوالفقار علی نے کہا کہ پاکستان میں ورکرز کو ہراسگی اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے لئے قانون موجود ہے لیکن انٹرنیشنل کنونشنز اور معاہدوں پر دستخط کرکے ان قانون کو اور زیادہ وسیع اور جامع بنانے کی ضرورت ہے۔ شہر بانو سینئر صحافی نائب صد پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے کہا کہ پاکستان میںکام کی جگہ پر خواتین کر ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ ایکٹ (مارچ2010)پاس ہوئے۔ 11سال گزر جانے کے باوجود کئی میڈیا تنظیموں میں جنسی کمیٹیاں جوکہ قانون کے تحت لازمی ہیں ابھی تک تشکیل نہیں دی گئی ہیں۔ مہمان خصوصی نزہت شیریں نے کہا کہ صرف متحد ہوکر ہی مردوں، خواتین اور خواجہ سرائوں کے درپیش تمام مسائل کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان قوانین اور پالیسیوں پر عملدرآمد کروائے جو پہلے سے موجود ہیں۔ سعید بلوچ نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد ایک دائمی مسئلہ بن گیا ہے کیونکہ خواتین کی زیادہ تعداد ملازمت کے لئے آرہی ہیں لیکن قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو نقصان اٹھانا پڑ رھا ہے۔ قمر الحسن نے ہراساں کرنے اور صنفی بنیاد پر تشدد کے بارے میں لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت زیادہ ہے۔ حلیمہ لغاری ذوالقرنین آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین کی صدر نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد اور ہراسگی جنسی مساوات اور پائیدار ترقی کی راہ میں مسلسل رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین کی جنرل سیکرٹری شمع گلانی نے کہا کہ پاکستان بھر کی تمام لیڈی ہیلتھ ورکرز کی متعدد کوششوں سے ہی اپنے حقوق حاصل کرسکتے ہیں جس کے لئے انہوں نے تشدد، بدسلوکی، جیلوں اور یہاں تک کہ موت کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور اپنے ابتدائی حقوق حاصل کئے۔ میٹنگ کے آخر میں اس کمیشن کو چلانے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، 11 افراد رضا کارانہ طور پر اس کمیٹی کا حصہ بنے جس میں حلیمہ لغاری ذوالقرنین، شہر بانو، شمع گلانی، نزہت شیریں، زہرہ اکبر، قمر الحسن، سعید بلوچ، عبدالحئی، حسن اطہر اور رافعہ گلانی شامل ہیں۔ اس کمیٹی کا کنوینر میر ذوالفقار علی کو مقرر کیا گیا اور یہ کمیٹی اس مہم کو آگے بڑھانے اور ILO کی C-190 کی توثیق کے لئے حکومت سے لابنگ کرے گی اور پاکستان میں پہلے سے موجود دیگر قوانین اور پالیسیوں پر عملدرآمد کرانے میں مدد کرے گی۔ میٹنگ میں عقیلہ پرویز اور کوکاکولا کراچی عظمیٰ، ناصرہ پروین نائب صدر، آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین، حامد خان، قاضی سراج، کمال خان، عبدالحئی، ہمایوں خان، مدیحہ جاوید درخشاں صلاح کے علاوہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اور ایگری کلچر ورکرز اور سول سوسائٹی کے ممبران نے شرکت کی۔