پاکستان اسٹیل ملازمین انصاف کے منتظر!

443

پاکستان اسٹیل ملز ملازمین انصاف کے منتظر ہیں ! وہ محنت کش جن کے بنیادی انسانی حقوق تک سلب کیئے گئے ہیں۔ ملازمین آج انصاف کے کرسی پر بیٹھے شخصیات، وکلا، سول سوسائٹی، سرحدوں کے محافظوں اور سب سے بڑھ کر ان ممبران پارلیمنٹ جو انہی محنت کشوں کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں سے مخاطب ہیں کہ وطن عزیز میں قانون پر عمل درآمد کون کروائے گا۔ سپریم کورٹ میں افسران کے پروموشن کیس میں عدالتی ریمارکس کا بہانا بناکر پاکستان اسٹیل ملز کے 5500 ملازمین جبری برطرف کر دیئے گئے سپریم کورٹ نے 20 جولائی 2020 حکومت کو واضح حکم دیا تھا کہ دو ہفتوں میں پاکستان اسٹیل مل کی بحالی کا پلان پیش کیا جائے ، لیکن پلان دینے کے بجائے 27 نومبر 2020 کو 4500 ملازمین برطرف کر دیئے جاتے ہیں۔ ریکارڈ پر ہے کہ اسد عمر صاحب نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ ملازمین کو سپریم کورٹ کے حکم پر برطرف کیا گیا حالانکہ ایسا کوئی حکم سپریم کورٹ نے نہیں دیا کیا اسد عمر صاحب کا بیان توہین عدالت نہیں؟۔ ملازمین سپریم کورٹ کے نوٹس لینے انصاف کے منتظر ہیں۔ 9 فروری 2021 کو سپریم کورٹ سے ایک اور فیصلہ جاری ہوتا ہے کہ پاکستان اسٹیل ملز انتظامیہ اور حکومت دو ہفتوں میں بحالی کا پلان دیں اور ساتھ ہی میں ملک کے نامور وکیل محترم رشید رضوی کو ثالث مقرر کیا گیا کہ وہ انتظامیہ اور ملازمین کے نمائندوں کے درمیان ثالثی کرکے رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کریں ثالثی کا عمل ابھی جاری ہے اور یہ طے شدہ اصول ہے جب تک ثالثی کا عمل جاری ہو اس وقت تک اسٹیٹس کو برقرار رکھا جاتا ہے لیکن اسٹیل مل انتظامیہ تمام تر قوانین کو بالائے طاق رکھ کر 22 مارچ اور 2 جولائی 2021 کو مزید 850 سے زائد ملازمین کو جبری برطرف کردیتی ہے اور میں نوٹس لینے انصاف کا منتظر ہی رہتا ہوں۔ ایک طرف پاکستان اسٹیل مل انتظامیہ خود کیس لیکر لیبر کورٹ جاتی ہے جہاں کیس زیر سماعت ہے اور ملازمین جس عدالتی فورم پر جاتے ہیں تو یہ کہہ کر واپس کردیا جاتا ہے کہ آپ کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لیئے انصاف کے حصول کے لیئے انتظار کریں ! لیکن انتظامیہ پاکستان اسٹیل مل کو غیر قانونی اقدامات سے کوئی روکنے والا نہیں۔ ملازمین پاکستان اسٹیل کا سوال ہے ہمیں انصاف کب ملے گا۔ وکلا تو مظلوم طبقے کی داد رسی اور قانون پر عملدرآمد کے زمیدار ہیں پھر آپ کے برادری سے تعلق رکھنے والا وکیل جو محض اپنی فیس کی وصولی کے لیے اسٹیل مل میں مسلسل غیر قانونی اقدامات کروا رہا ہے، پاکستان اسٹیل مل میں جاری تمام غیر قانونی اقدامات کا ماسٹر مائنڈ وکلاا برادری کے وکیل صاحب ہیں وکلا صاحبان ان کو کب غیر قانونی اقدامات سے روکیں گے؟۔ میرا سوال اپنے منتخب نمائندوں سے ہے۔ آپ قانون بناتے اور اس پر عمل درآمد نہ ہو تو اس کی تدارک بھی آپ ہی کی زمیداری ہے اس پارلیمنٹ نے محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک ایکٹ پاس کیا جس کو IRA-2012 کہتے ہیں۔ پاکستان اسٹیل مل انتظامیہ مسلسل اس قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے آپ کب پاکستان اسٹیل مل انتظامیہ سے جواب طلب کریں گے؟ یا سب کے طرح آپ بھی بس خاموش تماشائی بنے رہیں گے۔ محنت کشوں کو طعنے دیئے گئے کہ گھر بیٹھے تنخواہ لیتے رہے یہ جو لوگ بھی کہہ رہے ہیں ان سے صرف اتنا عرض کروں گا کہ
کبھی آپ نے پاکستان اسٹیل مل کے بلاسٹ فرنس کے پاس سے گزر کر دیکھا تو آپ کو پتا چلتا کہ پاکستان اسٹیل مل کا محنت کش کتنا قیمتی ہے۔ 20 ہزار ماہانہ تنخواہ لینا والا محنت کش بوجھ تھا لیکن اسی پاکستان اسٹیل مل میں 19 لاکھ کا پیکچ لینے والا چیف ایگزیکٹو لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے انچارچ سیکورٹی۔ انچارچ ایڈمنسٹریشن سمیت درجنوں افسران جو کنٹریکٹ پر تعینات ہیں وہ بوجھ نہیں۔ اس پر کوئی نوٹس نہیں۔حالیہ انتظامیہ کی تعیناتی کے بعد پاکستان اسٹیل مل سے اربوں روپیہ کا سامان چوری کیا گیا، اختیارات کا ناجائز استعمال ہوا۔ کوئی نیب FIA کی انکوائری نہیں؟ 8-2006 تک منافع دینا والا۔ ادارہ 2006 میں 10 ارب کا نیٹ پرافٹ دینا والا اسٹیل مل کیوں اور کیسے نقصان میں گیا۔۔ کیوں 2015 میں بحال ہوتے ادارے کی گیس بند کرکے اس کی بربادی کا سامان کیا گیا۔ لیکن آج تک ان سوالوں پر کوئی نیب کی یا ایف آئی اے کی انکوائری نہیں ہوئی۔ آخر وہ کون کسی قوتیں ہیں جو کرپشن کی تحقیقات نہیں ہونے دے رہے۔ بربادی کسی اور نے کی سزا محنت کشوں کو کیوں دی گئی۔ اس سوال کا جواب قرض ہے۔ سول سوسائٹی پر ارکان پارلیمنٹ پر اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں پر اور اس ملک کے اندرونی و بیرونی سرحدوں کے محافظوں پر۔ انصاف کے منتظر پاکستان اسٹیل ملز ملازمین ابھی اس نظام حکومت سے مایوس ہوتے جارہے ہیں ایسے میں ان کے پاس دو راستے ہیں خاموشی سے موت کو گلے لگائیں۔ درجنوں محنت یہ کرچکے ان اموات کی ذمہ دار یہ ریاست اور اس کا نظام عدل ہے۔ دوسرا راستہ اس ریاستی جبر اور ظالمانہ نظام سے بغاوت ہے کیا ریاست کے تمام ستون پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کو اس طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ شاید اس کا جواب ہاں میں ہے کیونکہ اس ریاست میں سرمایہ دار کے بچے مہنگے اداروں میں پڑھتے ہیں اور محنت کش کا بچہ تعلیم سے محروم ہے۔ محنت کش ایک وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے تو اس ملک کے اشرافیہ کے کتے بھی کے ایف سی اور میکڈونلڈ کے برگر کھاتے ہیں اس نظام سے اعلان بغاوت ہی بنتا ہے لیکن ابھی ایک طبقہ ہائے زندگی ہے مجھے کجھ امید اس طبقے سے وہ سول سوسائٹی اور مزدور انجمنیں ہیں۔ خدارا پاکستان اسٹیل مل کے مظلوم ملازمین کے لیئے آواز بلند کریں ایک انسانی المیہ ہے جو اسٹیل مل میں جنم لے چکا ہے اس سے پہلے کہ کوئی بڑا سانحہ ہوجائے ہمیں انصاف فراہم کروائیں ہم کچھ نہیں مانگتے۔ ہم اس ریاست مدینہ کے شہری ہیں ہمیں ہمارہ حق دلائیں۔ سپریم کورٹ سے لیکر پارلیمنٹ تک بیٹھے اعلیٰ ترین شخصیات کو باور کروائیں کہ جو کچھ پاکستان اسٹیل مل ملازمین کے ساتھ کیا گیا وہ غیر قانونی اور غیر انسانی عمل ہے۔ آخری بات سندھ حکومت ہے۔ آپ نے بھی ہم سے کچھ وعدے کیے تھے۔ دو مرتبہ ملازمین نے احتجاج آپ کے کہنے پر ختم کیا آپ نے معملہ وفاقی حکومت کے سامنے اٹھانے ، وفاق کو خط لکھنے سندھ اسمبلی میں قرارداد لانے، اورپاکستان اسٹیل مل ملازمین کا مقدمہ سپریم کورٹ لے کر جانے سمیت معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔ ہم پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین سندھ حکومت کے ان وعدوں کے تکمیل کے منتظر ہیں۔ تمام مزدور انجمنوں اور سول سوسائٹی وکلا اور ارکان پارلیمنٹ سے درخواست ہے کہ حکومت کو باور کروایا جائے کہ عدالتی آڑ لے کر پاکستان اسٹیل ملز ملازمین کی جبری برطرفی غیر قانونی عمل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے حکومت کو ہر حال میں ملازمین کو بحال کرنا ہوگا۔