ای او بی آئی پنشن قائدے کے مطابق دی جائے

122

حکومت ایمپلائر فیڈریشن اور EOBI نے مل کر صنعتی ورکرز کے ضعیف پنشنرز کا حق عرصہ 10سال رہے ہیں جس میں EOBI کے گورننگ باڈی کے ممبران جو ورکرز کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں وہ برابر کے شریک ہیں۔ کیونکہ عرصہ دس سال سے ایمپلائر فیڈریشن نے سندھ ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر لیا ہے جس کی آڑ میں ایمپلائز EOBI کو موجودہ منیمم ویج تنخواہ کے بجائے 8000 اور 10000 کے حساب سے کنٹریبیوشن جمع کیا جارہا ہے جس سے ضعیف پنشنرز کو بہت بڑا نقصان ہو رہاہے۔ EOBI ورکرز کو قائدے کے بجائے کم ازکم پنشن 8500 روپے دے رہا ہے جبکہ قانون اور EOBI رول کے مطابق ورکرز کو سروس کے حساب کے مطابق پنشن دینا چاہیے جو ورکرز کو نہیں ملتا۔ مثال کے طور پر ایک ورکر کی سروس
35 سال ہے تو اس کی پنشن تقریباً 16، 17 ہزار بنتی ہے کیونکہ 5 فیصد ایمپلائر دیتا ہے اور ایک فیصد ورکرز کی تنخواہ سے کاٹ کر ایمپلائر EOBI کو دیتا ہے۔ لیکن ورکرز کو اس ایک فیصد کا کوئی بینیفٹ نہیں ملتا۔ جب ورکرز EOBI کے افسران سے بات کرتے ہیں کہ ہمیں سروس کے حساب سے پوری پنشن دی جائے اور ساتھ میں ایک فیصد کا بینیفٹ دیا جائے تو EOBI کے افسران کہتے ہیں کہ آپ کے ایمپلائر جب تک قانون کے مطابق
پورا کنٹری بیوشن جمع نہیں کرتا ہم ورکرز کو کم ازکم 8500 ہی دیتے رہیں گے کیونکہ ہائی کورٹ سے ایمپلائر فیڈریشن نے اسٹے لیا ہے۔ ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ تو کیا EOBI کے افسران جو اتنی بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں صرف پوسٹ مین کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ ان کی مراعات کسی بھی سرکاری ادارے سے زیادہ ہیں اور ان کی پنشن 20 ہزار سے لے کر 60 ہزار تک ہیں اور کرپشن میں سر سے پائوں تک ملوث ہوتے ہیں۔ لیکن 10 سال سے ایک اسٹے آرڈر ختم نہیں کرسکے اور نہیں ختم کرنا چاہتے کیونکہ یہ اور ایمپلائر فیڈریشن آپس میں ملے ہوئے ہیں کیونکہ یہی بات جب ایمپلائر سے کی جائے تو ان کا موقف بھی یہی ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کا اسٹے
آرڈر موجود ہے۔ جبکہ اسٹے آرڈر میں کہیں پر یہ نہیں لکھا ہے کہ ایمپلائر منیمم ویج سے کم کنٹریبیوشن جمع کریں۔ اس صورتحال میں EOBI کی گورننگ باڈی میں بیٹھے ورکرز کی نمائندگی کرنے والے لیبر لیڈروں کی بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے لیکن ہم ورکرز کو پتہ نہیں کہ وہاں ہماری نمائندگی کون کررہاہے اور خاص کر سندھ کی نمائندگی کون کر رہاہے اور ان کی اس مسئلے پر کیا کارکردگی ہے۔ بدقسمتی سے محکمہ محنت کی گورننگ باڈیوں میں بیٹھے لیبر لیڈر ورکرز سے زیادہ ان اداروں میں افسران کی مراعات کی جنگ لڑتے ہیں جبکہ ان اداروں میں کرپشن یہی افسران کرتے ہیں۔ وفاقی حکومت، سندھ حکومت، EOBI ایمپلائر فیڈریشن اور گورننگ باڈی میں بیٹھے لیبر کے نمائندے اپنی ذمہ داری کا احساس کریں۔ غریب ضعیف پنشنرز کو پوری پنشن دلائیں اور رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔