محمد رضوان دنیائے کرکٹ کے افق پر چمکتا ایک روشن ستارہ

141

کراچی (سید وزیر علی قادری) وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کا تعلق پاکستان کے اُس صوبے یعنی خیبرپختونخوا سے ہے جہاں کے شہریوں کو بہادر اور جفاکش سمجھا جاتا ہے۔ کچھ کرنا تو بس وہی کرنا۔ محمد رضوان بھی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ میں انہی صلاحیتوں کے مالک ہیں اور ان کے اعداد و شمار اس کی واضح دلیل ہیں۔

 گزشتہ ایک سال سے پاکستان کرکٹ ٹیم کا مستقل حصہ بننے والے محمد رضوان نے کورونا وائرس کی عالمی وباء کے غیرمعمولی حالات اور بائیوسیکیور ببل میں کرکٹ کھیلنے کے انوکھے تجربے کے باوجود ہر طرز کی کرکٹ میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا ہے، جس سے ان کی ذہنی پختگی  کا اندازہ ہوتا ہے۔ ابتدائی طور پر اپنی شاندار وکٹ کیپنگ اور ڈائیونگ کیچز سے شہرت پانے والے محمد رضوان کو اب تینوں طرز کی کرکٹ کا ایک مستند اور قابل بھروسہ بیٹسمین سمجھا جاتا ہے۔ جو کسی بھی کنڈیشنز اور حالات میں کسی بھی نمبر پر بیٹنگ کے لیے میدان میں اتر کر پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کو سہارا دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ 63 میچز میں وکٹوں کے پیچھے 83 شکار کرنے والے محمد رضوان نےگزشتہ 12ماہ میں میں کُل 33 میچز میں 1320 رنز بنائے ہیں۔

 اس عرصے  میں بابراعظم کے 1332 رنز کے بعد یہ دنیا بھر میں کسی بھی بیٹسمین کی جانب سے سب سے زیادہ رنز ہیں۔ اس دوران 50.76 کی اوسط سےبیٹنگ کرنے والے محمد رضوان  نے 2 سنچریاں اور 11 نصف بھی بنائیں۔ محمد رضوان کے گزشتہ پانچ ماہ کے اعداد و شمار تو اور بھی حیرت انگیز ہیں۔ یکم جنوری 2021 سے اب تک انہوں نے10 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز میں 106 کی اوسط اور 141.71 کے اسٹرائیک ریٹ سے 530 رنز بنائے، جس میں ایک سنچری اور 5  نصف سنچریاں شامل ہیں  وہ رواں سال کے آغاز سے ا ب تک ٹی ٹونٹی کرکٹ میں سب سے زیادہ 47 چوکے اور نیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل (23) کے بعد سب سے زیادہ 18چھکے لگائے۔موجودہ ٹی ٹونٹی پلئرز رینکنگ کے سب سے بہترین بیٹسمین اور انگلینڈ کے تجربہ کار کرکٹر ڈیوڈ ملان نے اس دوران8میچز میں  21 چوکے اور 9 چھکے لگائےجبکہ  ان کے ساتھی اوپنر جیسن رائے نے7 میچز میں  22 چوکے اور 7 چھکے جڑے۔

 اس دوران انہوں نے  تینوں طرز کی کرکٹ کی 20 اننگز میں 875 رنز بنائے ہیں، جس میں 2 سنچریاں اور 6 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ انگلینڈ ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے کپتان اور موجودہ ٹیسٹ رینکنگ میں پانچویں نمبر پر موجود جوئے روٹ اس دوران  18 اننگز میں 3 سنچریوں کی مدد سے  1038 رنز بناکر سرفہرست ہیں۔ وکٹ کیپنگ ہو یا بیٹنگ کنڈیشنز اور میچ کی بدلتی صورتحال کے مطابق اپنے کھیل میں تبدیلی لانا ہی محمد رضوان کی کامیابی کاراز ہے۔

محمد رضوان کا کہنا ہے کہ انہیں بیٹنگ کرنا ہمیشہ پسند تھا مگر بدقسمتی سے بین الاقوامی کیرئیر کی ابتداء میں وہ اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا بہتر اظہارنہیں کرسکےتاہم بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی ان کے لیے بہت سازگار رہی۔وہ ڈومیسٹک میں انہی نمبر ز پر کھیلتے تھے اب جب نئی ٹیم منیجمنٹ نے ان کو بیٹنگ آرڈر میں ترقی دینے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے منیجمنٹ کے اعتماد پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اوپنرفخر زمان سے گفتگو کرتے ہوئے وکٹ کیپر بیٹسمین نے بتایا کہ انٹرنیشنل کیرئیر کے آغاز میں ایک تاثر تھا کہ محمد رضوان بڑے چھکے نہیں لگاسکتا مگر انہوں نے اس صلاحیت کے حصول کے لیے بہت محنت کی اور بالآخر اس میں بہتری نظر آنے لگی۔

 محمد رضوان کا کہنا ہے کہ محمد حفیظ، ،مشتاق احمد اور شاہد آفریدی نے ان کی ہارڈ ہٹنگ صلاحیت کو بہتر بنانے میں اہم کردار کیا ہے۔ ایک روز رمیز راجہ نیٹ کے پاس سے گزر تے ہوئے مشورہ دے گئے کہ “ہیڈ اسٹل رکھو” جس کا مجھے بہت فائدہ ہوا انہوں نے مزید کہا کہ بحیثیت وکٹ کپیر بیٹسمین ٹیسٹ کرکٹ بہادری اور مستقل مزاجی مانگتی ہے اور اگر تینوں فارمیٹ کھیلنے ہیں تو آپ کو سپر فٹ ہونا چاہیے۔ محمد رضوان نے بتایا کہ  گزشتہ سال انگلینڈ کے دورے سے قبل انہوں نے اپنی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ کے لیے خصوصی مشقیں کی تھیں۔برطانیہ کی کنڈیشنز میں ریڈ بال کے لیٹ سوئنگ ہونے کے باعث گیند آخری وقت تک گھومتا رہتا ہے جس پر قابو پانے کے لیے خصوصی محنت درکار ہوتی ہے، اسی طرح وائیٹ بال میں وہاں ہائی اسکورننگ گیمز ہوتی ہیں، جس کے لیے زیادہ دیر کریز پر ٹھہرنا ضروری ہوتا ہے۔