افغانستان! امریکی فوج کی واپسی، امن کب واپس آئے گا؟ – مسعود ابدالی

225

امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے اپنی فوجوں کی واپسی کا حتمی ٹائم ٹیبل جاری کردیا۔ قوم سے اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ نائن الیون حملے کے بیس سال بعد امریکی فوج کے افغانستان میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ امریکی صدر کا خیال ہے کہ افغان جنگ کے اہداف حاصل ہوچکے ہیں، القاعدہ منتشر ہوگئی، بن لادن کیفر کردار تک پہنچ گئے اور اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کی یہ طویل ترین جنگ ختم کردی جائے۔

نائن الیون سانحہ، اس کے محرکات اور اس افسوس ناک لیکن عقل کو مائوف کردینے والی کارروائی میں افغانستان کے کردار پر خود امریکہ کے دانشور بھی ابہام کا شکار ہیں۔ فلک بوس عمارتوں کو تباہ کرنے کے لیے مسافر بردار طیاروں (جمبو جیٹ) کاجدید ترین میزائیل کے انداز میں استعمال جہازرانی کے ماہرین کو اب تک سمجھ میں نہ آسکا۔ اس مبینہ دہشت گرد کارروائی میں ملوث جن 19 افراد کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے، اُن میں ایک بھی افغان نہ تھا۔ یہ تمام افراد قانونی دستاویزات پر ویزے لے کر امریکہ آئے اور کئی ماہ سے یہاں جہاز اڑانے کی تربیت حاصل کررہے تھے۔ یہ بات بجائے خود حیرت کا باعث ہے کہ ان زیرتربیت ہوابازوں نے اغوا کیے گئے طیارے جس مہارت سے خنجر کی طرح عمارتوں میں پیوست کیے ویسی چابک دستی تو مشّاق ہوا بازوں کے فضائی کرتب میں بھی نظر نہیں آتی۔

امریکی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس پورے معاملے میں افغانستان کا کردار بس اتنا سا تھا کہ وہاں برسرِاقتدار طالبان نے اسامہ بن لادن کو اپنے ملک میں پناہ دی تھی۔ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ اسامہ کو اس کے حوالے کیا جائے، جس کے جواب میں طالبان کا کہنا تھا کہ پہلے کسی غیر جانب دار ادارے سے اس واقعے میں اسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کی تحقیقات کرائی جائے۔ طالبان نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس بھیانک واقعے میں اسامہ بن لادن کی ذمہ داری ثابت ہوگئی تو القاعدہ کے مبینہ سربراہ کو وہ خود سزا دیں گے۔ لیکن سرسری تحقیقات سے بھی پہلے 7 اکتوبر کو امریکہ افغانستان پر چڑھ دوڑا، یعنی واقعے کے صرف 28 دن بعد۔ چار ہفتے کی قلیل مدت میں اس عظیم الشان مہم کی تیاری بھی عسکری ماہرین کو حیران کیے ہوئے ہے۔

اس غیر متعلقہ گفتگو پر معذرت کے ساتھ اب ہم اپنے موضوع پر واپس آتے ہیں۔

امریکی قوم سے اپنے خطاب میں صدر بائیڈن نے کہا کہ نائن الیون واقعے کے بعد جب صدر جارج بش نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے اس کی تائید کی تھی۔ اپنے دورِ نائب صدارت میں وہ خود افغانستان گئے اور کنڑ وادی جیسے علاقوں میں کچھ وقت گزارا، جس سے ان کا یہ خیال پختہ ہوگیا کہ افغانستان کے پائیدار سیاسی حل کے لیے افغان قیادت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میں مستحکم حکومت کے قیام کی ضمانت نہیں۔ میں افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی کی نمائندگی کرنے والا چوتھا امریکی صدر ہوں، اس سے پہلے دو ری پبلکن اور دو ڈیموکریٹک صدر افغانستان کی جنگ کے خاتمے کی کوششیں کرچکے ہیں۔ اور اب یہ ذمہ داری پانچویں صدر کے پاس نہیں جانی چاہیے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ نائب صدر کملا ہیرس، نیٹو اتحادیوں، عسکری قیادت اور ارکانِ کانگریس سے مشاورت کے بعد انھوں نے نائن الیون کی بیسویں برسی یعنی اِس سال گیارہ ستمبر تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے کابل انتظامیہ کو یقین دلایا کہ امریکی حکومت امن مذاکرات میں سہولت کاری اور افغان فوج کی تربیت کے لیے بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی۔

امریکی رہنمائوں کے اس شوقِ کشور کشائی کی جو قیمت افغانوں نے ادا کی اس کا تو تخمینہ بھی لگانا بہت مشکل ہے، لیکن شیطانی اَنا کی تسکین پر چچا سام نے 10 ہزار ارب ڈالر پھونک دیے، ڈھائی ہزار کے قریب کڑیل جوان اپنی جانوں سے گئے اور معذور ہونے والے ہزاروں جوانِ رعنا نشانِ عبرت بنے ہوئے ہیں۔

فوجی ناکامی کے اعتراف کے ساتھ روایتی امریکی تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے دھمکی دی کہ انخلا کے دوران اگر امریکی اور اتحادی افواج پر حملے کیے گئے تو اس کا پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے طالبان کو اُن کا یہ وعدہ بھی یاد دلایا کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ دو جملے امریکی عوام کی تسلی کے لیے تھے کہ ہم پسپا نہیں ہورہے بلکہ طالبان سے شرائط منواکر واپس آرہے ہیں اس لیے کہ یہ یقین دہانی قطر معاہدے میں پہلے سے شامل ہے۔ اپنی تقریر میں انھوں نے پاکستان سے ”ڈومور“ کا روایتی مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے اسلام آباد کی جانب سے مزید اقدامات کی توقع ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ پاکستان کے روایتی حریف نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستانی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نیٹو افواج کی واپسی سے پیدا ہونے والے خلا کو دہشت گرد پُر کرسکتے ہیں اور طالبان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کی بدولت پاکستان بڑا فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔

یہ اعلان اس اعتبار سے کسی حد تک حیران کن تھا کہ جنوری میں اقتدار سنبھالتے ہی صدر بائیڈن نے قطر امن معاہدے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ و عاجلانہ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن معاہدے سے پہلے نیٹو کی واپسی افغانستان بلکہ پورے علاقے کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکہ کے بدلتے تیور دیکھ کر نیٹو نے بھی مزید کچھ عرصہ وہاں رہنے کا خیال ظاہر کیا تھا۔

اسی دوران امریکی صدر کی ہدایت پر سی آئی اے اور امریکی فوج نے زمینی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس مطالعے کی جو رپورٹ امریکی صدر کو پیش کی گئی اُس کے مطابق افغانستان میں صورت حال مایوس کن ہے اور آئندہ سال تک کسی امن معاہدے کا امکان نہیں۔ ہر محاذ پر طالبان کو برتری حاصل ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ سرکاری فوج کے لیے طالبان کے سامنے زیادہ دیر ٹھیرنا ممکن نہیں۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اتحادیوں کے انخلا سے صورت حال مزید خراب ہوگی۔ دوسری طرف طالبان نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر قطر معاہدے کے مطابق مئی تک انخلا مکمل نہ ہوا تو وہ براہِ راست امریکی سپاہ کو نشانہ بنائیں گے۔ اسی خطرے کے پیشِ نظر صدر بائیڈن اپنے فوجیوں کو جلد از جلد وہاں سے نکال لینا چاہتے ہیں۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی اتحادیوں، زیردستوں اور سہولت کاروں کو اعتماد میں لیا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے 14 اپریل کو پاک فوج کے سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے فون پر رابطہ کیا اور انھیں فوجی انخلا کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس دوران باہمی دلچسپی کے اُمور، علاقائی صورتِ حال اور افغان امن عمل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ فوج کے ادارئہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق جنرل باجوہ نے افغان امن کوششوں میں اپنے بھرپور تعاون کا عزم ظاہر کیا۔

نیٹو قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے امریکہ کے وزرائے خارجہ اور دفاع برسلز پہنچے جہاں اعلیٰ سفارتی و عسکری قیادت سے گفتگو کے بعد دونوں رہنمائوں نے نیٹو کے معتمدِ عام جینس اسٹولٹنبرگ (Jens Stoltenber)کے ہمراہ اخباری نمائندوں سے خطاب کیا۔ جناب اسٹولٹنبرگ نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی فوج کے ساتھ افغانستان میں موجود نیٹو کے سات ہزار فوجیوں کی واپسی بھی یکم مئی سے شروع ہوگی اور انخلا 11 ستمبر تک مکمل کرلیا جائے گا۔ برطانیہ پہلے ہی اپنے تمام فوجی ستمبر تک واپس بلالینے کا اعلان کرچکا ہے۔ اس وقت برطانیہ کے 750 عسکری ماہرین کابل اکیڈمی میں سرکاری فوجوں کو تربیت دے رہے ہیں۔

کابل میں اپنے نیازمندوں کو امریکی عزائم سے اگاہ کرنے کے لیے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن خود کابل تشریف لائے۔ حسبِ معمول اس دورے کا پہلے سے کسی کو علم نہ تھا، اور اس کا اعلان اُس وقت کیا گیا جب واپسی کے لیے وزیر باتدبیر کا جہاز کابل سے اڑان بھر چکا تھا۔ کابل قیام کے دوران امریکی وزیر نے قصر صدارت میں ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ جناب بلنکن نے اپنے افغان دوستوں کو یقین دلایا کہ انخلا کے بعد بھی امریکہ افغان حکومت کی مدد و اعانت جاری رکھے گا۔ کابل کے امریکی سفارت خانے میں مسٹر بلنکن نے افغانستان کے سماجی و سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی۔ حزبِ اسلامی کے امیرگلبدین حکمت یار نے اس ملاقات میں شرکت نہیں کی۔ جناب حکمت یار غیر ملکی فوج کے مکمل انخلا سے پہلے امریکی حکام سے ملنے کے حق میں نہیں۔ اسی کے ساتھ افغان امن کانفرنس کی نئی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا۔ ترکی، قطر اور اقوام متحدہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ افغانستان اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان ایک غیر معمولی کانفرنس 24 تا 4 مئی استنبول میں ہوگی۔ اس سے پہلے یہ بیٹھک اس ماہ کی 16 تاریخ کو ہونی تھی۔

انخلا کے فیصلے پر صدربائیڈن کو امریکہ کے قوم پرستوں اور قدامت پسندوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ خود ان کی ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹر محترمہ جین شاہین نے کہا ”میں صدر بائیڈن کی جانب سے افغانستان سے نکلنے کے لیے ستمبر کی ڈیڈلائن مقرر کرنے کے فیصلے سے بہت مایوس ہوں۔ اگرچہ امریکہ نے یہ فیصلہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشورے کے بعد کیا ہے، لیکن امریکہ نے افغانستان کے اندر استحکام لانے کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں اور اب وہ ایک محفوظ مستقبل کی قابلِ بھروسا یقین دہانی کے بغیر وہاں سے نکل رہا ہے“۔ ری پبلکن پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹ کی بجٹ کمیٹی کے نائب سینیٹر لنڈے گراہم نے کہا کہ صدر بائیڈن نے جنگ ختم نہیں کی بلکہ جنگ کو وسیع کردیا ہے۔ امریکی قوم ایک اور نائن الیون برپا ہونے کے خلاف انشورنس پالیسی سے محروم ہورہی ہے۔ سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف مچ مک کانل نے لگی لپٹی رکھے بغیر افغانستان سے انخلا کو بہت بڑی غلطی، پسپائی اور طالبان کی فتح کا اعتراف قرار دیا۔

کیا فوجی انخلا کا نیا سنگِ میل طالبان کے لیے قابلِ قبول ہے؟ اس ضمن میں طالبان کے اشارے نفی میں ہیں۔ طالبان کا اصرار ہے کہ امریکہ قطر معاہدے کا احترام کرے جس کے تحت غیر ملکی فوجوں کی واپسی کے لیے یکم مئی کا ہدف طے کیا گیا تھا۔ طالبان کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ طالبان پورے اخلاص کے ساتھ قطر معاہدے پر عمل کررہے ہیں، اور اگر امریکہ نے وعدے کی پاس داری نہ کی تو تمام نقصانات کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔

طالبان استنبول میں ہونے والی افغان امن کانفرنس میں شرکت پر بھی تیار نہیں، انھوں نے پہلے ہی کہا تھا کہ افغانستان سے غیر ملکی فوج کے انخلا سے پہلے وہ افغان مستقبل کی صورتِ گری کے لیے بلائی جانے والی کسی نشست میں شریک نہیں ہوں گے۔ اتوار کو طالبان کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا کہ انخلا کی نئی تاریخ (یعنی یکم مئی) کے اعلان سے پہلے اپنی شرکت کے بارے میں طالبان کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔

اس ضمن میں دوسری جانب سے بھی متضاد اشاروں کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے ترکی کے وزیرخارجہ مولود داؤد اوغلو نے اپنے افغان ہم منصب حنیف اتمار اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل سے گفتگو کے بعد ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا ”آنے والے دنوں میں افغانستان کی مدد کے لیے نیٹو متبادل بندوبست پر غور کررہا ہے“۔ ترک وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ”اس سلسلے میں کئی تجاویز پر غور ہورہا ہے جن میں نیٹو کے ساتھ دوسری اقوام یا بین الاقوامی حمایت یا افغان حکومت کے ساتھ مل کر ایک قابلِ قبول ڈھانچہ شامل ہیں“۔ وزیر موصوف کی گفتگو اس لحاظ سے مبہم تھی کہ انھوں نے ”آنے والے دنوں“ کی وضاحت نہیں فرمائی کہ اس سے مراد اب سے مکمل انخلا تک کا عبوری دور ہے، یا وہ انخلا کے بعد کے حفاظتی اقدامات کا ذکر کررہے تھے۔ نیٹو کے نکل جانے کے بعد کسی بھی شکل اور نام سے کوئی دوسری غیر ملکی فوج طالبان کے لیے قابلِ قبول نہیں۔

دوسری طرف امریکی وزارتِ دفاع (پینٹاگون) نے عارضی طور پر کچھ اضافی دستے افغانستان بھیجنے کی بات شروع کردی ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ فوجی انخلا کو تحفظ دینے کے لیے اگلے ہفتے یا مہینے کچھ مزید فوجی افغانستان روانہ کیے جارہے ہیں۔ ترک وزیرخارجہ کی طرح جناب کربی نے بھی زیادہ تفصیل بیان نہیں کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ افغانستان خشکی سے گھرا ملک ہے اور واپس ہوتی فوج پر حملہ خارج از امکان نہیں، چنانچہ پیش بندی کے طور پر اضافی دستوں کی تعیناتی سمیت کئی دوسرے حفاظتی اقدامات کے بارے میں سوچ بچار جاری ہے۔

امریکیوں کا خیال ہے کہ پاکستان طالبان کو انخلا کا نیا ہدف قبول کرنے پر رضامند کرسکتا ہے اور انھیں توقع ہے کہ اسلام آباد طالبان کو استنبول کانفرنس میں شرکت پر بھی راضی کرلے گا۔ اس سلسلے میں امریکی وزیرخارجہ کی جنرل باجوہ، اور شاہ محمود قریشی کی اپنے ترک و افغان ہم منصبوں سے گفتگو کو بہت اہمیت دی جارہی ہے۔ بلاشبہ پاکستان نے بین الافغان مذاکرات پر طالبان کو راضی کرنے میں اہم لیکن خاموش کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور متحدہ عرب امارات ہی وہ تین ممالک تھے جنھوں نے 1996ء میں کابل پر قبضے کے ساتھ ہی طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا تھا، لیکن امریکی حملے کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں پرویزمشرف نے جس بے شرمی کے ساتھ امریکہ کو مدد فراہم کی اُسے طالبان اپنی پشت میں خنجر زنی سمجھتے ہیں۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے حالیہ بیان پر کہ ”پاکستان کابل پر طالبان کے دوبارہ قبضے کا حامی نہیں“ طالبان نے شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا۔ دوسری طرف کابل سرکار پاکستان پر اعتماد نہیں کرتی اور اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار اسلام آباد کو قرار دیتی ہے۔ امریکہ امن عمل میں پاکستان کے کردار کو تسلیم تو کرتا ہے مگر اسلام آباد پر واشنگٹن کو بھی مکمل اعتماد نہیں۔ نائب صدر کی حیثیت سے جوبائیڈن پاکستان کو ”ناقابلِ اعتماد“ اتحادی قرار دے چکے ہیں۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ فوجی انخلا کا نیا نظام الاوقات طالبان کے لیے ناقابلِ قبول ہے، اور اسی بنا پر استنبول افغان امن کانفرنس میں بھی ان کی شرکت کا فی الحال کوئی امکان نہیں۔ تاہم واشنگٹن کے صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ زلمے خلیل زاد طالبان سے رابطے میں ہیں اور انخلا کے لیے اپنے عزم و اخلاص کے اظہار اور اعتماد و خیر سگالی کے طور پر وہ طالبان کو کچھ اضافی مراعات پیش کررہے ہیں جن میں تمام جنگی قیدیوں کی رہائی اور دہشت گرد فہرست سے طالبان رہنمائوں کے ناموں کا اخراج شامل ہے۔ قطر معاہدے کے بعد طالبان کے 5000 قیدی رہا کردیے گئے تھے لیکن اب بھی 7000 کے قریب طالبان، افغان حکومت کی قید میں ہیں۔ یعنی مایوسی کی طویل سرنگ کے سرے پر امید کی مدھم سی روشنی نظر آرہی ہے۔

ہم اپنی گفتگو کا اختتام حزب اسلامی افغانستان کے امیر گلبدین حکمت یار کے طالبان کے نام اس مشورے پر کرتے ہیں کہ ”آپ فوری امن چاہتے ہیں یا جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہیں، بات چیت کا دروازہ بند نہ کریں اس لیے کہ تنازعے کا فیصلہ آخرِکار بات چیت سے ہی ہوگا۔“

(This article was first published in Friday Special)