حافظ سلمان بٹ…ایک شجر سایہ دار

76

شکیل احمد شیخ
محنت کشوں کے حقوق کے حصول کی اجتماعی جدو جہد کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسانی تاریخ ،اگر ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹیں تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محنت کشوں نے اپنے حقوق کے لیے پہلی ہڑتال اس وقت کی تھی جب پہلی اہرام مصر کی تعمیر کا سلسلہ جاری تھا محنت کشوں کو خوراک شاہی خزانے سے فراہم کی جاتی تھی اور اس میں لحسن کی فراہمی روک لی گئی تھی، لحسن صحرائی علاقوں میں انسانی قوت مدافعت میں اہم کردار اد ا کرتا ہے۔ یوں دستیاب انسانی تاریخ کی محنت کشوں کی پہلی اجتماعی جدو جہد اور ہڑتال تھی۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے جب تحریکیں بنتی ہیں تو اس میں قیادتیں بھی ہوتی ہیں پاکستان کی تاریخ میں محنت کشوں کی جدو جہد کا سلسلہ تو روز اول سے ہی جاری ہے لیکن 1969تک اس تحریک پر بائیں بازو کا غلبہ تھا اور سرخ انقلاب محنت کشوں کی منزل قرار پاتا تھا ان حالات میں نیشنل لیبر فیڈریشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس نے محنت کشوں کی تحریک کو ایک نیا رخ دیا۔ یہ سلسلہ نیشنل لیبر فیڈریشن کے قیام کے ساتھ ہی ملک کے بڑے صنعتی اداروں کی یونینیں بھی نیشنل لیبر فیڈریشن کے ساتھ وابستہ ہو گئیں۔ جن میں PIA کا نام نمایاں ہے ، پاکستان ریلویز میں اس وقت بائیں بازو کی یونینوں کا غلبہ تھا جدو جہد جاری رہی اور 1977میں نیشنل لیبر فیڈریشن نے ریلوے میں پریم کے نام سے ایک یونین کے قیام کا فیصلہ کیا اور یونین کے قیام کے بعد سینئر مزدور رہنما عباس باوزیر صدر اور حافظ سلمان بٹ اس یونین کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے حافظ سلمان بٹ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ جب پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے سیکرٹری اور صدر رہے تو پنجاب یونیورسٹی میں ہر طرف ایک ہی نعرہ تھا اسلامی انقلاب کا اسلامی جمعیت طلبہ کا پنجاب یونیورسٹی یونٹ اتنا مضبوط تھا کہ 1984میں طلبہ یونین پر پابندی تک اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ طلبہ ہی یونین کے عہدیدار منتخب ہوتے تھے۔ حافظ سلمان بٹ جب پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈینٹ یونین کے صدر تھے تو انہی دنوں میں انہیں اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم اعلیٰ منتخب کردیا گیا تھا اور انہوں نے اپنی دونوں ذمہ داریاں بحسن خوبی انجام دی۔ نہ اسٹوڈنٹ یونین کا کام متاثر ہوا نہ ہی اسلامی جمعیت طلبہ کی ملگیر تحریک پر کوئی اثر آسکا۔ تعلیم سے فارغ ہوئے تو بظاہر روشن دنیاوی مستقبل حافظ سلمان بٹ کا منتظر تھا اس دور میں ایم فل کے بعد بیروکریسی کا حصہ بننا اور ترقی کے منازل طے کرنا کوئی مسئلہ نہ تھا لیکن دوسری جانب جس انقلابی تحریک سے وابستہ ہو چکے تھے اس کے مقاصد ان کی نظر میں زیادہ اہم تھے یوں دنیاوی بہتر مستقبل کو چھوڑتے ہوئے جماعت اسلامی کی قیادت کا فیصلہ قبول کیا اور پاکستان ریلوے کے محنت کشوں کی حالت زا ر کو بہتر بنانے میں اپنا حصہ ڈالنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ پریم یونین کے قیام کے ساتھ ہی ریلوے کے محنت کشوں کو اپنے رو شن مستقبل کی ایک کرن نظر آئی اور دو ڈھائی سال کے مختصر عرصہ میں عباس با وزیر اور حافظ سلمان بٹ کی قیادت میں پاکستان ریلویز پریم یونین نے 1981میں ہونے والے ملک گیر ریفرنڈم میں ایسی کامیابی حاصل کی جس کی مثال پاکستان ریلویز کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ حافظ سلمان بٹ نے جب ریلوے میں CBAیونین کا سرٹیفکیٹ
حاصل کیا تو ریلوے کے محنت کشوں کی حالت یہ تھی کہ پیٹ میں روٹی ہوتی تھی تو پیر میں چپل نہیں اور پیر میں چپل ہوتی تھی اور سر پر ٹوپی نہیں یونیفارم اور دیگر سہولتوں کا تصور بھی محال تھا۔ افسر محنت کشوں کو ذاتی ملازم نہیں غلام سمجھا کرتے تھے لیکن حافظ سلمان بٹ نے پورے ملک کے دورہ کئے اور ہر چھوٹے بڑے ریلوے اسٹیشن پر نہ صرف محنت کشوں سے ملاقاتیں کی بلکہ افسران کو بھی متنبہ کیا کہ اب ریلوے ملازمین کی عزت کرنا ہے بصورت دیگر افسران کی عزتیں بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔ CBA یونین کسی محنت کش کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور اگر کسی محنت کش کے ساتھ کسی افسر نے زیادتی کی تو وہ افسر بھی جوابی کارروائی کے لیے تیار رہے۔ حافظ سلمان بٹ حقیقی محنت کش رہنما تھے۔ وہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر بیٹھ جانے اور محنت کشوں کے ساتھ چائے کی چسکیاں لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ حافظ سلمان بٹ تین دفعہ قومی اسمبلی کے ممبر رہے ہر دور میں انہیں لالچ دینے اور خریدنے کی کوشش کی گئی کبھی وزارت کی پیش کش ہوئی کبھی خوف زدہ کرنے کی کوشش کی لیکن حافظ سلمان بٹ نے اپنی قیمت مقرر نہیں کی تھی کہ کوئی انہیں خرید سکے اور خوف زدہ ہونا ان کی فطرت میں شامل نہیں تھا وہ خطرات کے کھلاڑی تھے اور طویل عرصہ تک شوگر کا مریض رہنے اور ہفتہ میں دو بار ڈائلیسس کی تکلیف دہ عمل سے گزرنے کے باوجود محنت کشوں کے حقوق کی جدو جہد میں کبھی سستی اور کاہلی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ نہ ہی اپنی بیماری کو محنت کشوں کے حقوق کی جدو جہد پر غالب آنے کا کوئی موقع دیا۔ 2001کے بلدیاتی انتخابات میں ندیم افضل چن کے ساتھ ناظم لاہور ڈسٹرکٹ کے امیدوار تھے اور عملاً انتخابات جیت چکے تھے۔ لیکن مہربانوں نے نتائج بدل دئے اور حافظ سلمان بٹ میں اتنا حوصلہ تھا کہ 2002کے انتخابات کے دوران ایک کارنر میٹنگ میں انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن جیت چکے نتیجہ بدل دیا گیا اب بھی ہم الیکشن جیت رہے ہیں اگر نتیجہ بدل سکتے ہیں تو بد ل دیں حافظ سلمان بٹ کو اس کے راستے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ 2003میں اس وقت کے آمر نے ایک بار پھر حافظ سلمان بٹ کو خریدنے کی کوشش کی تمام اختیارات کے ساتھ وزارت ریلوے کی پیش کش ہوئی اور پیش کش کرنے والا بھی کوئی چھوٹا نہ تھا بلکہ آمر کی آنکھ کا تارا تھا لیکن اس کا ایک کی مطالبہ تھا کہ محنت کشوں کی جدو جہد سے دست بردار ہو جائو ہر آسائش تمہاری منتظر ہے لیکن جب پیش کش مسترد کی گئی اور محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد سے دست بردار ہونے سے صاف انکار کردیا گیا اس کے بعد آزمائش کا ایک سلسلہ شروع ہوا ریلوے پریم یونین میں دھڑے بندی کرائی گئی اور آمروں کے من پسند افراد کوCBAکا درجہ دلا دیا گیا لیکن آزمائش کی اس گھڑی نے حافظ سلمان بٹ کو کندن بنا دیا آمر کا دو ختم ہونے سے پہلے ہی آمر کے لے پالک اپنی موت آپ مر گئے اور حافظ سلمان بٹ ایک مرتبہ پھر ریلوے کے محنت کشوں کی قیادت کے لیے موجود تھے۔ آخری سانس تک حافظ سلمان بٹ نے جدو جہد کا یہ راستہ ترک نہ کیا اور انتقال سے چند دن قبل بھی وزیر اعظم پاکستان ، وزیر ویلوے ، چیئرمین ریلوے بورڈ اور دیگر ذمہ داران سے ملاقاتیں کر کے ریلوے محنت کشوں کا اوور ٹائم نہ صرف بحال کروایا بلکہ اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کروایا۔ نوکر شاہی نوٹیفکیشن جاری کرنے میں لیت لعل سے کام لے رہی تھی لیکن حافظ سلمان بٹ نے کہا کہ میں اس وقت تک چیئرمین ریلوے بورڈ کے دفتر سے نہیں اٹھونگا جب تک یہ نوٹیفکیشن میرے ہاتھ میں نہیں ہوگا اور بل آخر بیروکریسی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی اور نوٹیفکیشن جاری ہو گیا جس کے بعد محنت کشوں کے اوور ٹائم کی بحالی میں کوئی قانونی ہچ باقی نہیں رہی۔ یوں حافظ سلمان بٹ نے آخری لمحہ تک محنت کشوں کی جدو جہد میں عملی کردار ادا کرکے اپنے اس عہد کو پورا کیا جو CBAیونین کی تقریب حلف برداری میں اس نے رب کا گواہ بنا کر کیا تھا۔