ٹھوس اقدامات کے بغیر مہنگائی ختم نہیں ہوگی،میاں زاہد

256

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ اشیائے خور و نوش کی قیمت کم کیے بغیر مجموعی مہنگائی سے نمٹنا ناممکن ہے۔گندم کی امدادی قیمت2 ہزار روپے من مقرر کرنے سے مہنگائی میں کمی کی توقعات ختم ہو جائیں گی۔مہنگائی سے شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں جہاں مجموعی مہنگائی تمام سابقہ ریکارڈ توڑ چکی ہے۔شہروں کے ساتھ دیہات میں بھی مہنگائی کم کرنے کے اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ ملکی آبادی کا بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے جنھیں ریلیف دینا ضروری ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ40 کلو گندم 22 سے 2400 روپے میں فروخت ہو رہی ہے ۔حکومت کی جانب سے امدادی قیمت1600 روپے رکھنے پر اس کی قیمت اٹھارہ سے انیس سو روپے من تک گر سکتی ہے تاہم اگر اسے صوبہ سندھ اور بعض دیگر سیاستدانوں کی خواہش کے مطابق 2 ہزار روپے تک بڑھایا گیا تو اس کی قیمت میں کوئی کمی نہیں آئے گی بلکہ اس میں اضافہ ممکن ہے جس سے دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ملکی مفادات کے مطابق گندم کی درآمد کی صورت میں بھی اس کی قیمت میں کمی ممکن ہے جس سے مہنگائی کم ہو جائے گی مگر اس کے لیے گورننس کا نظام بہتر بنانا ہو گا جس کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ٹماٹر کی قیمت میں ایک ہفتے کے دوران 47 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ چینی کی قیمت میں 4.2 فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم گنے کی بہتر فصل کی وجہ سے چینی کی قیمت میں معمولی کمی کا امکان ہے ۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ دوسری طرف گردشی قرضہ مسلسل بڑھ رہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے اگر آئی ایم ایف کے دبائوکی وجہ سے ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہو جائے گا اس لیے اس ادارے کی خواہشات پر عمل درآمد موخر کیا جائے تاکہ عوام پر مزید دبائو نہ بڑھے۔ موجودہ مالی سال کے پہلے چار ماہ میں برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہوئی ہیں جنھیں بڑھانے کے لیے بجلی کے نرخ میں کمی سمیت چھوٹی اور بڑی صنعتوں کو ریلیف دینے کے لیے وزیر اعظم کے حکم پر متعدد اقدامات کیے گئے ہیں جو خوش آئند ہیں۔انھوں نے کہا کہ موسم سرما میں عوام اور کاروباری برادری کو گیس کے بحران سے بچانے کے لیے بلا تاخیر ایل این جی کی درآمد شروع کی جائیں۔