فرانس کیخلاف ملک گیر مظاہرے ، سفیر کو نکالنے کامطالبہ

130

کراچی/لاہور/اسلام آباد/پشاور/کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر+ نمائندگان جسارت+خبر ایجنسیاں) فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوںکی اشاعت کیخلاف پاکستان بھر میں چھوٹے بڑے احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔شرکاء نے ہاتھوں میں کتبے اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر فرانس کے مکروہ اقدام کے خلاف نعرے درج تھے اور فضا فرانس مردہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی جبکہ فرانسیسی صدر کا پتلا بھی نظر آتش کیا گیا۔ مظاہرین نے وزیراعظم عمران خان سے فرانسیسی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی کال دینے اور فرانسیسی سفیر کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔ کراچی، لاہوراورپشاور، سمیت بیشتر شہروں میں عدالتوں میں وکلا کی ہڑتال رہی۔ وکلا نے بھی گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، کراچی بار ایسوسی ایشن اور وکلا تنظیموں کی اپیل پر چیف جسٹس ہائیکورٹ نے عدالتی کارروائی معطل کرنے کا حکم دیا۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف ایم اے جناح روڈ تک احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی جس میں وکلا کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ،وکلا نے ایم اے جناح روڈ پر علامتی دھرنا بھی دیا اور فرانسیسی صدر کے پتلے بھی نذر آتش کیے۔ بعد ازاں سند ھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے علیحدہ علیحدہ جنرل باڈی اجلاس ہوئے جس میں نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیاکہ فرانس کی نہ صرف مصنوعات کا بائیکاٹ ہونا چاہیے بلکہ مغربی طرز زندگی کا بھی بائیکاٹ کیا جانا چاہیے،حکومت فرانس کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کرے، ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوسکتا ہے ۔سابق صدر سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن محمد یاسین آزاد ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ چھوٹے چھوٹے معاملات پر جوائنٹ سیشن بلوائے جاتے ہیں اور گستاخی کے بعد پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن کیوں نہیں بلایا گیا،حکومت کو جو ایکشن لینے چاہیے تھے وہ نہیں لیے گئے،ترکی کی طرح پاکستان کو بھی فوری طور پر سفیر کو واپس بلوانا چاہیے جبکہ فرانسیسی صدر کی معافی تک مصنوعات کے بائیکاٹ جاری رہنا چاہیے۔جامعہ کراچی سمیت ملک کی دیگر جامعات کے طلبہ واساتذہ بھی فرانس کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور ریلیاں نکالیں۔ گوجرانوالہ میں جماعت اسلامی نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاج کیا جس میں طلبہ نے بھی شرکت کی۔ گوجرانوالہ میں ہی سابق صدر چیمبر آف کامرس عاصم انیس، ایگزیکٹو ممبر عطا فرید چودھری کی قیادت میں تحفظ ناموس ریلی نکالی گئی جو بس اسٹاپ سے ہوتی ہوئی جی ٹی روڈ شیرانوالہ باغ جاکر ختم ہوئی۔لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ میں صدرانجمن تاجران لاہور مجاہد مقصود بٹ کی قیادت میں تاجروں نے احتجاجی ریلی نکالی۔ انہوں نے فرانس کے صدر کی تصاویر پر پاؤں رکھے اور شدید نعرے بازی کی۔نارنگ منڈی میں بھی انجمن تاجران نے ناموس رسالت ریلی نکالی جس میں تمام مسالک کے علما،امن کمیٹی،سیاسی رہنماؤں سمیت سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔بدین کے علاقے کھوسکی میں نوجوان اتحاد کی کال پر ہڑتال ہوئی اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ حیدرآباد میں مختلف جامعات کے طلبہ نے مشترکہ طور پر پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ فیصل آباد کے شہر سمندری میں مختلف مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔راولپنڈی میں تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کی جانب سے راجہ بازار اور سیٹلائٹ ٹاؤن سے فیض آباد تک 2 بڑی احتجاجی ریلیاں نکالیں گئیں۔شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پیر حسین الدین شاہ کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پیارے نبیﷺ کی ناموس کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کرگزرنے کو تیار ہیں۔علاوہ ازیں جامعہ نعیمیہ میں مفتی منیب الرحمن نے علما اہلسنت کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ قومی میڈیا پاکستانی مارکیٹوں میں موجود فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کرے۔ فرانسیسی سفیر مرک بیریٹی کو ملک بدر کیا جائے اور پاکستانی سفیر کو پیرس سے واپس بلایاجائے، پاکستان میں دینی مقدّسات کی توہین کے مقدّمات براہِ راست فیڈرل شریعت کورٹ میں ٹرائل کیے جائیں۔مزید برآں وزیراعظم عمران خان نے تمام مسلمان ممالک کے سربراہان کو خط لکھا ہے جس میں انہوںنے توہین رسالت اور اسلامو فوبیا کے خلاف متحد ہونے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ مسلم دنیا کے رہنمامتحد ہوکر پوری دنیا کو ایک پیغام دیں۔عمران خان نے خط میں کہا کہ اسلام اور ہمارے آخری نبی حضرت محمدﷺ کی ناموس پر حملے بند ہونے چاہییں، آج ہم اپنی امت میں بڑھتی ہوئی تشویش اور بے چینی کا سامنا کر رہے ہیں، مغربی دنیا میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ پر طنز اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر نظر آرہی ہے۔