مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا،ہیلتھ ورکرز

35

مناسب سیفٹی اور سیکورٹی فراہم نہ کرنے کی وجہ سے درجنوں لیڈی ہیلتھ ورکر دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوگئیں جنہیں کسی قسم کا معاوضہ نہیں دیا گیا بلکہ وہ گریجویٹی اور پنشن سے بھی محروم رہیں۔ پچھلے 2 سالوں سے ملک بھر کی لیڈی ہیلتھ ورکرز صوبائی حکومتوں سے سروس اسٹرکچر کی فراہمی، پنشن اور گریجویٹی کے اجراء اور ہیلتھ الائونس، سیفٹی اور سیکورٹی کی فراہمی اور کام کی جگہ جنسی ہراسگی کے خاتمے کا مطالبہ کررہی تھیں۔ صوبائی محکمہ صحت نے ان کے احتجاج پر کئی بار ان سے وعدے کیے مگر ان کے مطالبات پر عملدرآمد کا فقدان رہا۔ آل پاکستان لیڈی ہیلتھ ورکر اور ایمپلائز فیڈریشن جو پاکستان میں نیشنل پروگرام میں کام کرنے والی لیڈی ہیلتھ ورکر اور دیگر ایمپلائز کی نمائندہ تنظیم ہے نے اپنی ملحقہ تنظیموں کی مشاورت سے 14 اکتوبر 2020ء کو اسلام آباد میں ایک احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا جس میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہزاروں لیڈی ہیلتھ ورکرز نے ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنا دیا ہوا ہے۔ چار دن سے کھلے آسمان تلے یہ لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنے حقوق سے حصول کے لیے اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں۔ یہاں نہ انہیں پانی کی سہولت ہے نہ ہی واش روم کی سہولت حاصل ہے بلکہ مقامی انتظامیہ نے پہلے دن علاقہ کی لائٹ بھی بند کردی تھی۔ان لیڈی ہیلتھ ورکر اور ان کی لیڈر شپ کا کہنا ہے کہ جب تک ہمارے مطالبات حل نہیں ہوں گے ہم واپس نہیں جائیں گے۔ مقامی انتظامیہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور وزراء سے کئی بار مذاکرات ہوئے مگر ناکامی ہوئی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد یہ صوبائی معاملہ ہے جبکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومتیں ان کے مطالبات پر وعدے کے باوجود عمل نہیں کرارہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ان کی حکومت ہے جبکہ بلوچستان میں بھی ان کی حمایت یافتہ حکومت ہے اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مزدوروں سے متعلق آئی ایل او اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے کیے گئے معاہدوں پر عملدرآمد کی ذمہ داری ہے اور ہمارے تمام مطالبات بنیادی مزدور حقوق اور ڈیسنٹ ورک کے زمرہ میں آتے ہیں۔فیڈریشن کی مرکزی صدر کا کہنا ہے کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز پاکستان میں صحت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں ہم فرنٹ لائن ورکر کے طور پر کورونا میں کام کرتے رہے ہیں لیکن ہمارے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ہم اپنے مسائل کے حل کے لیے آئے ہیں اور منظور نہ ہونے کی صورت میں پارلیمنٹ ہائوس کی طرف مارچ کریں گے۔ حکومتی کمیٹیوں اور نمائندوں سے چار دنوں میں کئی بار مذاکرات ہوئے مگر اُن کی نااہلی اور عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ ناکام ہوئے ہیں۔ علی محمد خان، وفاقی مشیر صحت فیصل سلطان، ایڈیشنل کمشنر اور صحت کے اعلیٰ افسران سے مذاکرات ہوئے مگر ان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ناکامی ہوئی ہے۔آل سندھ لیڈی ہیلتھ ورکرز اینڈ ایمپلائز یونین کی مرکزی صدر حلیمہ لغاری، نائب صدر ناصرہ پروین اور جنرل سیکرٹری شمع گولانی جو ایک بڑے وفد کے ہمراہ اس دھرنے میں شرکت کررہی ہیں نے اپنی تقریر میں کہا کہ سندھ میں تنخواہیں دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ ہیں مگر دیگر مراعات جو سرکاری ملازمین کو حاصل ہوتی ہیں نہیں دی جارہیں۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ سندھ سمیت تمام صوبوں کے ملازمین کو یکساں تنخواہ سمیت سروس اسٹرکچر اور دیگر مراعات دی جائیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات درج ذیل ہیں۔حکومت فوراً تمام ملازمین کو سروس اسٹرکچر دے۔ پروموشن اور اپ گریڈیشن کا اعلان کرے۔ گریجویٹی اور پنشن کا اجراء کرے اور 1994ء سے سینیارٹی کو شمار کرے۔ ایڈیشنل چارج لیڈی ہیلتھ ورکرز کو خالی سیٹوں پر بطور ایل ایچ ایس مستقل کیا جائے۔ ریٹائرڈ ملازمین کو گریجویٹی اور پنشن دی جائے۔ یونین کے لیڈروں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں۔ نیشنل پروگرام AJK کے تمام ملازمین کو فوری طور پر بقایا جات ادا کیے جائیں۔ کام کی جگہ خصوصاً فیلڈ میں جنسی تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔ آئی ایل او کنونشن C-190 کی توثیق کی جائے۔ پولیو کے دوران مکمل سیکورٹی فراہم کی جائے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عبدالستار پیرہیار حکومت سندھ کے سیکڑوں سے منسلک سیکشن آفیسر نے ہیلتھ ڈپارٹمنٹ ملازمین کے لیے ہیلتھ رسک الائونس کی منظوری دے دی ہے۔