کول مائنز کے مزدور مسائل حل کئے جائیں،میرداد خیل

39

نیشنل لیبر فیڈریشن بلوچستان کے صدر عبدالرحیم میر داد خیل کی قیادت میں مزدوروں کے وفد نے سیکرٹری لیبر بلوچستان سائرہ عطا سے ملاقات کی۔ انہوں نے سیکرٹری لیبر کو یادداشت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن کمپنیوں میں کام غیر قانونی ٹھیکہ کے تحت چلائے جارہے ہیں وہاں ملازمین کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں جبکہ ٹھیکہ دار کمپنی سے ملازمین کی پوری تنخواہ وصول کرتے ہیں لیکن ملازمین کو ان کی تنخواہ کا مشکل سے چوتھا حصہ بھی نہیں ملتا۔ اور انہی کمپنیوں کے ٹھیکہ داران مزدوروں کو کوئلے کے ریٹ انتہائی غیر مناسب دے رہے ہیں۔ لیبر کو سروس، الائونس، بونس اور ای او بی آئی کی سہولت سے محروم رکھا جاتا ہے۔ بلوچستان میں رجسٹرڈ کول مائنز مزدوروں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ نان رجسٹرڈ مزدوروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ جبکہ ای او بی آئی میں رجسٹرڈ مزدوروں کی تعداد صرف 6 ہزار ہے۔ کول مائنز کمپنیاں جان بوجھ کر لیبر کے لیے ای او بی آئی کارڈ جاری کرنے میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں اور کول مائنز کمپنیوں میں ای او بی آئی کارڈز غریب مزدوروں کے بجائے من پسند لوگوں کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔ اگر کول مائنز مزدور کسی حادثے میں جاں بحق ہوجائے تو کمپنی یا ٹھیکہ دار اُس کے جائز کمپنیسیشن میں بھی ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔ اور حادثے کے دوران جاں بحق مزدور کی کفن، دفن کے لیے جو پیسے ملتے ہیں وہ پھر بعد میں کمپنیسیشن سے کاٹ لیے جاتے ہیں۔ بلوچستان میں کمپنسیشن کی رقم 2 لاکھ روپے مقرر ہے جبکہ یہی رقم باقی صوبوں میں 5 لاکھ تک ملتی ہے۔ کمپنسیشن ملنے کے بعد ورکرز ویلفیئر بورڈ ڈیتھ گرانٹ کی رقم 4 سال کے بعد فراہم کرتا ہے جو کہ انتہائی غیر مناسب ہے۔ حبیب اللہ کول کمپنی میں لیبر کے لیے جو بیرکس بن رہے ہیں وہ لیبر کے بجائے من پسند افراد کے لیے تعمیر ہورہے ہیں۔ اور ان بیرکس پر 2014ء سے کام شروع ہے تاحال یہ کام مکمل نہ ہوسکا اور انتہائی ناقص میٹریل کے ساتھ تعمیر بھی ہورہی ہے جس کی ایک انکوائری یا آڈٹ ہونا چاہیے۔ حبیب اللہ کول کمپنی کی رہائشی کالونی کی مرمت کے لیے اور واٹر سپلائی اسکیم 4 سال پہلے فنڈز جاری ہوئے ہیں لیکن ابھی تک نہ تو رہائشی کالونی کی مرمت کا کام شروع ہوسکا اور نہ ہی واٹر سپلائی اسکیم کے اوپر ان فنڈز کا بھی ایک انکوائری ہونی چاہیے۔ لیبر کے بچوں کے لیے تعلیمی اسکالر شپ کا اعلان ہوتا ہے لیکن اس سے بھی کمپنیوں کے افسران، ٹھیکہ داران اور یونین فیڈریشنز کے اعلیٰ عہدیداران کے بچے ہی مستفید ہوتے ہیں۔ لیبر کے بچوں کو تعلیمی اسکالر شپ سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ لیبر کے لیے ورکرز ویلفیئر بورڈ سے لیبر کی غریب بچیوں کے لیے جہیز فنڈ کی سہولت بھی میسر ہے لیکن لیبر اس فنڈ سے بے خبر ہیں۔ پہلے تو لیبر کو یہ فنڈ ملتا ہی نہیں ہے جب ملے بھی تو وہ آٹے میں نمک کے برابر ملتا ہے۔ جبکہ کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداران بھاری بھرکم مراعات کے ساتھ جہیز فنڈ پورا وصول کرتے ہیں جبکہ دوسرے اس فنڈ کے حقدار ہی نہیں ہوتے۔ کول مائنز لیبر کے لیے حج کا کوٹہ بھی مختص ہے لیکن اس کوٹے سے بھی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار مستفید ہوتے ہیں۔ لیبر کے لیے جو فلیٹس نواں کلی اور مشرقی بائی پاس میں تعمیر کیے گئے ہیں ان کے لیے ازسرنو قانون سازی کی جائے کیونکہ جس قانون کے تحت ان کے لیے قرعہ اندازی ہورہی ہے اس سے 75 فیصد لیبر محروم ہورہی ہیں۔ ان فلیٹس کے لیے مارواڑ اور مچھ کی لیبر کی شرکت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت جو اسپتال اور ڈسپنسریاں کول مائنز ایریا میں قائم ہیں ان میں اسٹاف کی حاضری، میڈیسن اور فرسٹ ایڈ کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ لیبر کے لیے سائیکلز اور لیبر کی بیوہ عورتوں کے لیے سلائی مشینیں ملتی تھیں جو ایک عرصے سے نہیں مل رہی ہیں۔ اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے کہ آیا یہ اسکیم ختم ہوچکی ہے یا غریب لیبر کو اس سے محروم رکھا جارہا ہے۔ کول مائنز میں مائنز ایکٹ کی عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے کیونکہ مائنز ایکٹ پر درآمد نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز حادثات میں اضافہ ہورہا ہے۔ جو لیبر مائنز میں حادثے کے دوران زخمی ہوجاتے ہیں اور پھر بعد میں زندگی بھر کے لیے معذوری کا شکار ہوتے ہیں ان کے لیے ایک جائز وظیفہ مقرر کیا جائے تا کہ وہ بقایا زندگی میں اس وظیفے کے ذریعے اپنے بچوں کی کفالت کرسکیں۔ اچھے اور ایماندار لوگوں کی ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں کول مائنز لیبر کی نمائندگی بھی شامل ہو اور اس کمیٹی کے ساتھ وہ ساری چیزیں شیئر کی جائیں جو ورکرز ویلفیئر بورڈ اور گورنمنٹ کی طرف سے لیبر کے لیے اعلان شدہ ہیں کیونکہ اکثریت لیبر کی ایسی ہے جو اپنے ان جائز مراعات سے لاعلم ہین۔ کول مائنز مزدور سالانہ حکومت بلوچستان کو 35 لاکھ سے 40 لاکھ ٹن کوئلے کی پیداوار فراہم کرتا ہے جبکہ اس کے عوض مزدور تمام تر وسائل سے محروم ہیں۔ وفد میں عبدالرحیم میر داد خیل، عمر حیات کوہستانی، محمد جمیل سواتی، فضل مبین، رشد یوسفزئی، حبیب الرحمن، فضل حق یوسفزئی اور جمعہ خان موجود تھے۔