جزائر پر قبضے کے آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں ، نیاز کالانی

38

 

حیدر آباد (اسٹاف رپورٹر) سندھ ایکشن کمیٹی کی جانب سے سندھ کے جائز پر وفاق کے قبضے کیخلاف گل سینٹر حیدر آباد پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایس یو پی کے جنرل سیکرٹری رون برڑو نے کہا کہ جزائر کے حوالے سے اگر پیپلز پارٹی والے این او سی جاری نہ کرتے تو وفاق کو آرڈیننس جاری کرنے کی جرأت نہ ہوتی، آج سندھ کے غیرت مند اور باشعور عوام سراپا احتجاج ہیں اور اپنے وسائل پر قبضے کے آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لاء سے بھی بدترین جمہوریت ہے جس میں سندھ کے جزائر پر قبضہ کیا گیا مگر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ سندھ سمیت پیپلز پارٹی کے وزراء مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بندوق کے زور پر نہیں چھین سکتا۔ جزائر سندھ کی ملکیت ہیں، اس کی حفاظت کریں گے۔ جسقم کے مرکزی ترجمان دیدار شام نے کہا کہ سندھ کے جزائر کو بچانے کے لیے سندھ کے بیٹے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کو مزید منظم اور تیز کیا جائے گا، ایسا احتجاج کیا جائے کہ عالمی قوتیں بھی نوٹس لینے پر تیار ہوجائیں۔ ایس ٹی پی کے ہوت خان گاڈھی نے کہا کہ سندھ کے سمندری جزائر پر قبضے کی سوچ آج کی نہیں 1947ء سے پہلے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی والے سندھ کے مالک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن سندھ اسمبلی میں اکثریت ہونے کے باوجود آج تک صدارتی آرڈیننس کیخلاف کوئی قرار داد منظور نہیں کی گئی۔ مسلم لیگ ن کے قمر الزمان راجپر نے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمن کے مشکور ہیں جنہوں نے سندھ اور بلوچستان کے جزائر کے حوالے سے سندھ کی عوامی مؤقف کا ساتھ دیا اور حمایت کی جسقم کے سینئر رہنما نیاز کالانی نے کہا کہ بلال زرداری میں اتنی جرأت ہی نہیں تھی کہ وہ پنجاب کے جلسہ عام میں سندھ کے جزائر پر قبضہ کے حوالے سے کوئی بات کرتے اس حوالے سے پیپلز پارٹی کا دوہرا معیار ہے۔ اس موقع پر تاج جویو، مشتاق میرانی، احمد سولنگی، نذیر قریشی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔