میں خود کہوں تو میری داستاں دراز نہیں

100

(تیسری قسط)
عمومی طور پر یونین کے عہدیداران کے متعلق یہ تاثر قائم ہے کہ وہ بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں۔ دلائل کے بجائے دھونس سے کام لیتے ہیں یا تو تعلیم ہوتی ہی نہیں یا پھر واجبی ہی ہوتی ہے۔ ڈیوٹی سے فرار کے لیے یا ذاتی مفاد کے لیے یونین میں آتے ہیں۔ میں جب یونین میں آیا تو سائنس اور لاء گریجویٹ تھا۔ اکائونٹس کا علم نہ ہونا کمی سمجھتا تھا۔ لہٰذا میں انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکائونٹس میں پہلے دو پارٹس کی تعلیم حاصل کی۔ ناظم آباد کے علاقے میں ایس ایم لاء کالج کے ایک ریٹائرڈ پرنسپل نے انسٹیٹیوٹ قائم کیا ہوا تھا جہاں 6 ماہ کے ڈپلومہ کورسز ہوتے تھے، میں نے انڈسٹریل اینڈ لیبر لاز میں ڈپلومہ کورس میں داخلہ لے لیا۔ دو کلاسوں کے بعد ہی مجھے پرنسپل صاحب نے اپنے کمرے میں بلوایا۔ لیبر لاز پر مختلف سوالات کیے میری تعلیم اور مشاغل زیر بحث آئے۔ ٹیچر سے میرے کیے جانے والے سوالات کا ذکر بھی ہوا۔ اچانک انہوں نے اپنی میز کی دراز میں سے رقم نکالی اور میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ وہ رقم ہے جو میں نے فیس کی صورت میں ادا کی تھی اور یہ واپس کی جارہی ہے۔ میں نے کہا کہ کیا میں کل سے پڑھنے نہ آئوں تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ پڑھنے نہیں بلکہ پڑھانے آیا کرو۔ 6 ماہ بعد باقی طلباء کے ساتھ میرا بھی امتحان ہوا۔ اسی طرح پرسونل ایڈمنسٹریشن میں ایک ڈپلومہ ہوا۔ آئی ایل او اٹلی سے تین ماہ کا ورکرز ایجوکیشن، انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف فری ٹریڈ یونینز، انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کا آسٹریلیا سے اور امریکی ڈیپارٹمنٹ آف لیبر واشنگٹن سے اجتماعی سوداکاری میں شماریات کا کردار پر کورسز کیے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن، انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف فری ٹریڈ یونینز اور انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کے لیے مختلف طرح کے تحقیقی کام، ٹریڈ یونین ایجوکیشن اور مشاورتی فرائض بھی سرانجام دیے۔ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کے مرکزی ایگزیکٹو بورڈ میں چار چار سال کے لیے منتخب ہوا۔ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف لیبر واشنگٹن میں کورس کے اختتام پر امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف لیبر تقسیم سرٹیفکیٹ کی تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ جبکہ شرکاء کے گروپ کا میں چیئرمین تھا۔ منتظمین نے تعارفی جملوں میں میری تعریف کردی جس کی تائید چند شرکاء نے بھی کی۔ یہ شاید مہمان خصوصی کو پسند نہ آیا۔ وہ جب تقریر کے لیے تشریف لائے تو انہوں نے طنزیہ کہا کہ شرکاء کورس نے ایسے ملک کے نمائندہ کو اپنا چیئرمین چنا جہاں اکثر مارشل لاء ہوتا ہے۔ اُس وقت جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء تھا۔ کچھ لوگ اِس طنز سے محظوظ ہوئے، بطور چیئرمین میری باری آخر میں تھی لہٰذا مزاحیہ انداز میں لیکن حقائق پر مبنی تلخ طنز کے جواب میں میں نے کہا کہ پاکستان میں بہادر نسل (Mortial Race) آباد ہے اس لیے کبھی کبھی مارشل لاء کی ضرورت پڑتی ہے۔ مہمانِ خصوصی بے اختیار روسٹرم پر آیا اور کہا کہ شرکاء گروپ کا انتخاب درست تھا۔ پاکستان ٹوبیکو کمپنی کا ہیڈ آفس کراچی میں تھا اور کراچی، جہلم اور اکوڑا خٹک میں فیکٹریاں تھیں۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ٹوبیکو خرید نے اسٹور کرنے اور پروسیس کرنے کے ڈپو تھے۔ ہر جگہ ایک ایک یونین تھی۔ کوشش کرکے ٹوبیکو فیڈریشن بنائی لیکن میرے یونین اور ملازمت چھوڑنے کے بعد فیڈریشن کا وجود بھی ختم ہوگیا۔ کراچی فیکٹری کی یونین جس کا میں اب صدر تھا پاکستان نیشنل فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز سے ملحق تھی۔ اس فیڈریشن کے صدر مرحوم محمد شریف تھے۔ 1970ء کے اوائل میں ہی میں فیڈریشن کا پبلسٹی سیکرٹری منتخب ہوگیا اور وکالت شروع کرنے تک 1982ء اس عہدے پر منتخب ہوتا رہا۔ 1977ء میں پاکستان لیبر الائنس بننے پر اُس کا بھی پبلسٹی سیکرٹری چنا گیا۔ 1977 کی تحریک کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جب پاکستان لیبر الائنس کی ساری قیادت روپوش ہونے پر مجبور ہوگئی تھی۔ شعبہ نشرواشاعت بدستور چلتا رہا۔ میرا طریقہ کار یہ تھا کہ سائیکلو اسٹائل مشین اور ایک ٹائپ رائٹر ایک اسٹوڈنٹ کے گھر لیاری میں منتقل کردیے گئے۔ میں پریس ریلیز پرنٹ کرتا اور ایک دوسرے اسٹوڈنٹ کی وساطت سے پریس کلب اور چیدہ چیدہ اخبارات کو بھجوادیتا۔ کچھ کاپیاں اپنی اسکوٹر پر رکھ کر جگہ جگہ بس اسٹاپ پر جہاں لوگ کھڑے ہوتے گراتا جاتا۔ لیبر الائنس کی خبریں مسلسل اخبارات اور بین الاقوامی نشریاتی ادارے سے شائع ہوتی رہیں۔
پاکستان لیبر الائنس نے اپریل 1977ء کے اوائل میں صنعتی علاقوں میں مزدور مظاہروں کا فیصلہ کیا۔ پہلے مظاہرے اور جلوس کے لیے سائٹ میں قیادت کا قرعہ میرے نام نکلا۔ ایک فیکٹری میں بہت سارے مزدور جمع ہوئے۔ جذباتی تقریریں ہوئیں اور قیادت جلوس کے لیے جھنڈا میرے ہاتھ میں تھمادیا گیا کہ ’’بیٹا چڑھ جا سولی رام بھلی کرے گا‘‘۔ جلوس شیرشاہ جانا تھا جہاں مظاہرہ ہونا تھا۔ ابھی چند قدم ہی چلے تھے کہ سامنے سے پولیس کی بھاری نفری لائوڈاسپیکر پر منتشر ہوجانے کی تاکید کرتی ہوئی آگے بڑھی۔ بالکل میرے پیچھے ایک ٹیکسٹائل یونین کا عہدیدار محمد حسین تھا۔ اُس نے کہا اشرف صاحب لوگ تو بھاگتے جارہے ہیں تاہم ہم چلتے رہے اور ایک وقت ایسا آیا کہ میں، محمد حسین اور آلِ نبی تین افراد رہ گئے۔
غلط فہمی تھی کہ اپنے …بہت ہیں
مُڑ کر دیکھا تو اِ ک سایہ ہم سفر تھا
ہم تینوں کو پکڑ کر ٹرک میں بٹھا دیا گیا اور ٹرک کو سڑک پر کھڑا کردیا گیا۔ اتنے میں فیکٹریوں میں شفٹ تبدیلی کا وقت آگیا۔ ڈیوٹی پر آنے اور جانے والے مزدوروں میں سے کئی نے پہچان لیا۔ ادھر پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی شفٹ کی چھٹی ہوگئی اب کافی تعداد میں مزدور اکٹھے ہوچکے تھے اور نعرہ بازی شروع ہوگئی۔ پولیس نے کمشنر کراچی بٹ صاحب کے حکم پر آنسو گیس کی شیلنگ شروع کردی تو مزدوروں نے بھی پتھرائو شروع کردیا۔ اِس گھمسان کے بیچ میں ہم تینوں ٹرک میں بند بیٹھے تھے۔ اتنے میں بریگیڈیئر عاطف صاحب آگئے اور آتے ہی ہنگامہ مچادیا کہ (ہماری طرف اشارہ کرکے) انہیں سامنے بٹھائو گے تو مزدوروں کا جھمگھٹا تو لگے گا تو لہٰذا ہمارا ٹرک ساتھ ہی فیکٹری ’’ری پبلک اسٹیل‘‘ میں لے گئے۔ وہ یونین پی این ٹی یو سے ملحق تھی۔ لہٰذا وہاں کی قیادت مجھے اچھی طرح جانتی تھی۔ پانی اور چائے اور سگریٹ کا اہتمام ہوتا دیکھ کر بریگیڈیئر اور کمشنر صاحبان نے ہمیں فوری تھانے شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا جہاں اتوار کے دن جیل کھلواکر پھر جیل میں منتقل کردیے گئے۔