انڈسٹریل ریلیشنز ایڈوائزر ایسوسی کا تعزیتی ریفرنس

104

انڈسٹریل ریلیشنز ایڈوائزر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام IRAA کے ممبر ایس ایم یعقوب، ایم اے کے عظمتی، رفیع اللہ اور اعجاز شیخ کی یاد میں تعزیتی اجلاس NIRC کے کورٹ روم میں 12 ستمبر کو منعقد ہوا۔
چودھری اشرف ایڈووکیٹ نے تقریب کی نظامت کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی انسان کے فوت ہونے پر دکھ اور غم کا اظہار کیا جاتا ہے لیکن آج جس کے غم میں ہم کو لوگ جمع ہوئے ہیں وہ ایسی شخصیات ہیں کہ جن کے غم اور دکھ کو ہم لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے ہیں یعنی ایس ایم یعقوب ایم اے کے عظمتی، رفیع اللہ اور اعجاز شیخ۔ یہ تمام شخصیات انتہائی ذہین اور اپنی ذات میں انجمن تھے۔ ایس ایم یعقوب تین کتابوں کے مصنف تھے۔ کئی زبانیں بولتے تھے۔ اسی طرح محمد اعظم خان عظمتی ایک انتہائی قابل اور ذہین وکیل تھے۔ رفیع اللہ ایک انتہائی نرم دل اور مخلص انسان تھے مزدور قوانین میں نئی نئی جہتیں نکالنے پر اُن کو کمال حاصل تھا۔ اسی طرح اعجاز احمد شیخ وہ واحد سول سرونٹ ہیں جو کہ نیچے سے ترقی کرتے کرتے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ IRAA کے قائم مقام صدر نشاط وارثی ایڈووکیٹ نے کہا کہ رفیع اللہ مرحوم میرے بعد فیلڈ میں آئے اور چھا گئے۔ عظمتی صاحب کی لکھی ہوئی ایک انکوائری میں نے پڑھی جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ IRAA کے قائم مقام جنرل سیکرٹری ایس ایم اقبال ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایس ایم یعقوب میرے والد بھی تھے اور میرے Boss بھی تھے۔ بمبئی میں پیدا ہوئے، 22 سال کی عمر میں ٹکٹنگ کلرک کی نوکری کی۔ نوکری کے ساتھ ساتھ پوری تعلیم حاصل کی۔ B.A بھی بمبئی سے کیا۔ اس کے ساتھ ایل ایل بی کی بھی ڈگری بمبئی سے حاصل کی۔ دن میں وکالت کرتے تھے اور رات میں نوکری بھی کرتے رہے۔ 1970ء سے وکالت شروع کی۔ 1975ء میں کراچی آئے۔ باٹا، جنرل ٹائرز، سیفی ڈیولپمنٹ اور کانٹی نینٹل ہوٹل میں بالترتیب 10 سال نوکری کی۔ 32 سال کی عمر میں کیریئر شروع کیا۔ 400 گز کا مکان نارتھ ناظم آباد میں بنایا، مجھے کہا کرتے تھے کہ کوئی شخص اتنی جلدی اس عمر میں یہ سب نہیں کرسکتا ہے جو کہ میں نے کیا۔ احسان اللہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ رفیع اللہ نے 1988ء میں شہباز گارمنٹ سے استعفیٰ دیا۔ 1994ء میں مزدور طبقہ کے لیے جدوجہد شروع کی۔ 1997ء میں ہائیکورٹ بار کے ممبر منتخب ہوئے۔ 2011ء میں سپریم کورٹ بار کے ممبر بنے اور 17 جولائی 2020ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اُن کا حافظہ انتہائی تیز تھا۔ دس سال پہلے کی بھی کوئی فائل ہوتی تھی ہمیں بتاتے تھے کہ فلاں دراز میں فلاں کلر کی فائل رکھی ہوئی ہوگی اُٹھا کر لے آئو۔ سید توقیر ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں اعجاز شٰخ سے تو کبھی نہیں ملا لیکن باقی تینوں سے میری ملاقاتیں رہیں۔ رفیع اللہ بہت اچھے دوست تھے بلا کے ذہین تھے۔ عظمتی ایڈووکیٹ بہت ہمارے نائب صدر بھی رہے۔ بہت کم تقریبات میں شرکت کرتے تھے اور بہت ہی کم بولتے تھے لیکن (To The Point) بولتے تھے۔ ایس ایم یعقوب نے اپنی کتاب (Salary of Wage) 2012میں مجھے دی تھی۔ خالد جاوید ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایس ایم یعقوب سے متعدد مرتبہ ملاقاتیں ہوئیں۔ میں ان کو انٹرنیشنل لاء کی ڈکشنری کہا کرتا تھا۔ عظمتی صاحب بہت ہی اچھے وکیل تھے اور آج میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ عظمتی صاحب مجھ سے اچھے وکیل تھے۔ رفیع اللہ انتہائی ملنسار اور شفیق انسان تھے۔یٰسین آزاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ میرا تو (NIRC) میں کبھی آنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن عظمتی صاحب میرے کلاس فیلو تھے اور ہم نے ساتھ ہی B.A کیا تھا۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ یہ ایک اچھی روایت ہے کہ اپنے دوستوں کو یاد رکھا جاتا ہے۔ حیدر امام رضوی ایڈووکیٹ نے کہا کہ رفیع اللہ اور عظمتی سے میری کافی ملاقاتیں رہیں۔ خاص طور پر عظمتی کا میں جونیئر تھا اور وہ مجھے متعارف کرواتے تھے سب سے ملاقاتیں کرواتے تھے۔ وہ مجھ سے کہا کرتے تھے تم نے اداروں کے لیے آزادی کے لیے کام کرنا ہے اور مزدور حقوق کے لیے لڑنا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج شاہد انور باجوہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایس ایم یعقوب کا تعلق بمبئی سے تھا۔ وہ اکثر اوقات مجھے بمبئی کی ٹریڈ یونین کے بارے میں بتاتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے احمد آباد کے ایک ٹیکسٹائل مل کی ٹریڈ یونین کے صدر جارج فرنانڈو کا بتایا کہ اس نے ایک دفعہ احتجاج کی کال دی تھی مزدوروں کے حقوق کے لیے جس روڈ کو بند کیا تھا اُس پر اس وقت اندرا گاندھی کا بھی گزر ہونا تھا۔ اس وقت کی پولیس آفیسر کرن بیدی نے اسے روکنا چاہا تو اس نے کہا کہ آپ مجھے احتجاج سے نہیں روک سکتی کیوں کہ یہ ہمارا حق ہے۔ جس پر کرن بیدی نے کہا کہ آپ وزیراعظم کا راستہ بھی نہیں روک سکتے کیوں کہ اس کا بھی حق ہے۔ جس پر جارج فرنانڈو نے کہا کہ ٹھیک ہے میں ایک روڈ اس کے لیے کھولتا ہوں۔ اعجاز شیخ کا تعلق لاڑکانہ سے تھا۔ بنیادی طور پر چنیوٹ کے تھے۔ اعجاز شیخ لیبر ڈائریکٹر ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ اعجاز شیخ کی خدمات سب سے ممتاز اس لیے ہے کہ آپ اس وقت امن قائم کرنے والوں میں سے تھے۔ جب فیکٹریوں میں فائرنگ تک ہوا کرتی تھی۔ اعجاز شیخ اُس وقت امن کی فضاء قائم کرنے والوں میں سے تھے۔ NIRC میں اعجاز شیخ کو بہت کم وقت ملا وہ اس طرح کہ جب نواز شریف کی حکومت میں وہ NIRC میں رہے تو پرویز مشرف نے آتے ہی اُن کو ہٹادیا تھا۔ رفیع اللہ صاحب انتہائی شریف انسان تھے۔ عظمتی اپنے کلائنٹ سے انتہائی مخلص ہوا کرتے تھے۔ جسٹس ندیم اطہر صدیقی نے کہا کہ بدقسمتی سے اعجاز شیخ سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ باقی تینوں سے ملاقاتیں رہیں۔ انتہائی ذہین اور قابل ترین تھے۔ جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو نے کہا کہ میں ذاتی طور پر تینوں حضرات کا بہت شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں میری معاونت کی۔ میں اتنا کہوں گا کہ وہ ہندی میں کبیر داس کا شعر ہے۔
کہ جب تو جگت میں آیا
لوگ ہنسے اور تو رویا
ایسی کرنی کرکے چلو
کہ تو ہنسے اور لوگ روئے
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آج ہم میں اچھے اور قابل وکلاء نہیں رہے۔ لیبر قوانین بہت پیچیدہ اور زیادہ ہوتے ہیں جیسے کہ سیسی اور EOBI وغیرہ کے بھی لاز ہیں۔ ہمارے نئے وکلاء آج کل بہت کم کورٹ میں آتے ہیں شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ اتنا کام نہیں ہوتا ہے۔ پہلے بہت بہترین لیبر کے نمائندے ہوا کرتے تھے جو کہ قوانین پر اچھی دسترس رکھتے تھے۔ لیکن آج میں بہت معذرت کے ساتھ یہ کہہ رہا ہوں کہ مجھے نئے وکلاء میں کوئی قابلیت نظر نہیں آرہی ہے۔ اس کے لیے میں سینئر وکلاء سے درخواست کرتا ہوں کہ نئے وکلاء کو بھی سکھائیں۔ اس سلسلے میں ہم سندھ بار اور کراچی بار کے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ بھی رکھیں گے تا کہ ان کے لیے کچھ کیا جاسکے۔ پروگرام کا آغاز منصور حسین قریشی نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ آخر میں شعاع النبی ایڈووکیٹ نے دعا بھی کروائی۔ اجلاس میں کوئٹہ سے معروف وکیل اور عوامی انقلابی پارٹی کے جنرل سیکرٹری اعظم جان زرکون نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور مرحومین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں ایم اے کے عظمتی اور رفیع ایڈووکیٹ اور سینئر ایڈووکیٹ ایس ایم یعقوب کے ساتھ بھی کیس چلائے ہیں تینوں بلند پایہ کے وکیل اور شاندار انسان تھے۔
پروگرام کے شرکاء
IRAA کے تعزیتی پروگرام میں مقررین کے علاوہ لیبر کورٹ نمبر 2 کی پریذائیڈنگ آفیسر شمیم اختر صدوزئی، بیرسٹر صلاح الدین، اشرف حسین رضوی، شفیق غوری، منیر اے ملک، ضیاء الحق مخدوم، شوکت علی، مرتضیٰ ساریو، محمود خان، چودھری لطیف ساغر، چودھری عامر، چودھری اطہر الٰہی، ارشد محمود، محمد ملک نفیس، محمد اقبال، شعاع النبی، محمد خورشید، فیض گھانگرو، حیدر امام رضوی، سلیم منگریو، اقبال انصاری، فضل منان باچا، ایس ایس جہانگیر، ایم ایس جعفری، منیر ملک، نادر خان نیازی، سیف اللہ، ایاز خان، رائو جمال، ناصر ثنا اللہ، نعمان خانزادہ، سہیل شنکر، فیروز گل، شاہ محمد، اسد اللہ، جاوید اصغر اعوان، کاشف حنیف، شہلا اقبال، جواد سروانہ، جنید مختار صدیقی، سید نصرت علی، خورشید، شفیق ملک اور دیگر نے شرکت کی۔