سعودی عرب میں لاکھوں طلبا کے لیے ورچوئل تعلیمی نظام کا آغاز

199

ریاض: سعودی عرب میں ورچوئل تعلیمی نظام کا آغاز ہوگیا۔ اس نئے تعلیمی نظام کے تحت ملک بھر میں 60 لاکھ سے زائد طلبا و طالبات مستفید ہو سکیں گے۔

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی وزارت تعلیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ورچوئل تعلیمی عمل کے دوران اسکول کے دن کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے نصاب اور اوقات مقرر کیے گئے ہیں، ان کی ویڈیوز تیار کی گئی ہیں۔

وزارت تعلیم کے مطابق ہر طالب علم اس پلیٹ فارم سے مستفید ہوسکے گا۔ ورچوئل تعلیمی نظام میں انٹرایکٹو تعلیمی طریقہ کار اپنایا گیا ہے جس میں قومی ترانے، اسمبلی اور جسمانی ورزش سے شروع ہوگا۔

وزارت تعلیم کے مطابق اس میں کلاس روم میں اساتذہ سے بات چیت بھی شامل ہے۔ تعلیمی سال کے پہلے سات ہفتوں کے دوران فاصلاتی طریقہ تعلیم سیکھنے پر توجہ دی جائے گی۔ اس کورس میں بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین اور دیگر سرپرست افراد کو تربیتی عمل سے گذرا جائے گا۔

وزارت تعلیم کے مطابق یہ پلیٹ فارم نئے تعلیمی سسٹم کا ایک نقشہ ہے جس میں طالب علموں کو روزانہ صبح کے پروگرام کے ذریعے پلیٹ فارم میں لاگ ان ہونا ہوگا۔ اس کے بعد قومی ترانہ پیش کیا جائے گا اور ورزش ہوگی۔

وزارت تعلیم کے مطابق اس کے بعد روزانہ کے شیڈول کا جائزہ پیش ہوگا اور اساتذہ اپنے ساتھ کلاس روم میں داخل ہونا شروع ہو جائیں گے۔یہ پلیٹ فارم طلبا کو ساتھیوں اور اساتذہ کے ساتھ بات چیت کرنے، مباحثوں میں حصہ لینے، ان کی کامیابی کی رپورٹس دیکھنے، سال کے کاموں اور ٹیسٹوں سے کورس کے تقاضوں کے اسکور کی توثیق کرنے اور اساتذہ کے ساتھ الیکٹرانک مواصلت کے لیے موقع فراہم کرے گا۔