کیا قومی اداروں کی نجکاری ملکی مفاد میں ہے؟

108

مرزا مقصود
ذوالفقار علی بھٹو کی قومیانے کی پالیسی اپنے وقت کا انقلاب ثابت ہوا ۔ویسے بھی یہ دور دنیا بھر میں سوشلسٹ انقلابات کی تحریکوں کا دور تھا لیکن بھٹو کی قومیانے کی پالیسی کو وقت نے ثابت کیا کہ وہ کوئی انقلاب نہیں بلکہ پاکستان کے دو لخت ہونے اور پاکستان میں بننے والے معاشی حالات میں سوچا سمجھا قدم تھا ۔قومیانے کی پالیسی اگر انقلابی قدم ہوتا تو اس سے زیادہ سنجیدگی سے زرعی پالیسی،زمین کی حد پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت تھی مگر اسے زبانی دعوں تک محدود رکھا گیا ۔اسی طرح بہت سارے ادارے جو بنیادی نوعیت کے نہیں تھے انہیں بھی قومیا لیا گیا تھا ۔ جبکہ بقایارائج نظام طبقاتی ، سرمایہ کار،سامراجی ہی رکھا جس کا نتیجہ یہی ہو سکتا تھا جو ہوا ۔سوشلسٹ معیشت بھی اپنی بقاء قائم نہیں رکھ پائی چونکہ دنیا کی سرمایہ کار ذہنیت نے منافع کی معیشت کو پروان چڑھانے کے لیے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سوشلسٹ معیشت کے خلاف محاذ آرائی کی ۔
پاکستان میں برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کی معاشی پالیسیوں کی پیروی میں ضیاالحق کے دور میں نجکاری کی پالیسی کا آغاز کیا گیا۔ممکنہ مزاحمت کے خدشہ کے تحت قانون سازی کے باوجود نجکاری کا عمل سست رکھا گیا ۔توقع کے مطابق ملک بھرکی پبلک سیکٹر کی ٹریڈ یونینوں نے مزاحمت کے لیے اسٹیٹ انٹر پرائز ایکشن کمیٹی قائم کی اور بڑی جاندار تحریک کا آغاز کیا۔ لیکن 1991میں حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ ہو گیا جس کے تحت نجکاری کیے جانے والے اداروں کے کارکنان کوگولڈن ہینڈ شیک دیا جانا قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی گولڈن ھینڈ شیک لینے والے کارکنان کی بے روزگاری کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی وعدے کیے جن میں ادارے میں بھرتی کی ضرورت میں انہی ورکرز کو ترجیح دینا،غیر ممالک میں روزگار کے مواقع کی صورت میں روزگار میں ترجیح وغیرہ ، گولڈن ہینڈشیک کی مد میں ایک اپنی گریجوٹی کے ساتھ ہر سال چار اضافی گریجوٹی دینا یعنی 1+4 دینا شامل تھا ۔ اگر دنیا میں نجکاری کا جائزہ لیں تو یہ ایک شاندار معاہدہ تھا جس کی نظیر نہیں ملتی لیکن باقی قوانین کی طرح اس معاہدے پر اسی وقت عمل کیا گیا بعد ازاں نجکاری کیئے جانے والے اداروں میں اس معاہدے کو نظر انداز کردیا گیا ۔ اس معاہدے میں 1+4 کے علاوہ بھی کسی شق پر عمل نہیں کیا گیا ۔اس معاہدے کے بعد بڑے پیمانے پر گھی ملیں ،آٹا ملیں ،شوگر ملیں،سیمنٹ ملیں اور دیگر ادارے نجی شعبے کے حوالے کردیے گئے ۔
بعد ازاں بڑے پیمانے پر نجکاری پرویز مشرف کے دور میں کی گئی جس میں کراچی الیکٹرک،پی ٹی سی ایل،بینکس وغیرہ شامل تھے ۔زیادہ تر اداروں میں گولڈن ہینڈشیک پر عمل نہیں کیا گیا ۔نجکاری کے عمل پر سوالات بھی موجود رہے اور غیر شفافیت موضوع بحث رہی ۔خاص طور پر نجی شعبے کو ادارے حوالے کرنے کے جو اہداف رکھے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے ۔قرضوں کی واپسی،مقابلے کی فضاء میں قیمتوں میں کمی،خدمات میں بہتری،سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت میں بہتری میں سے کوئی بھی ہدف پورا نہیں ہوا ۔یہاں میں اعداد شمار بیان نہیں کررہا چونکہ آپ اچھی طرح واقف ہیں کہ اگر کوئی ایک ہدف بھی پورا ہوتا تو پاکستان کے حالات کچھ اور ہوتے اس کے مقابلے میں نجکاری سے سب سے زیادہ نقصان مزدوروں کو ہوا جنہیں مزدور قوانین سے محرومی اور اندھی سرمایہ داری کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔ خدمات کے شعبے میں انحطاط اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا ۔
پرویز مشرف کے دور کے بعد دعوں کے باوجود نجکاری کا عمل جمود کا شکار رہا۔ لیکن اب ایک بار پھر نجکاری کی چار سو گونج سنائی دے رہی ہے۔خاص طور پر بڑے ادارے اس حکومت کے نشانے پر ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس پر بحث کی جائے کہ نجکاری ہونی چاہیے یا نہیں اور کیا نجی شعبے کے پاس ہونا چاہیے اور کیا نہیں ۔ پاکستان جیسی مملکتیں جہاں حکومت کے کنٹرول میں کچھ نہیں وہاں بنیادی ضروریات زندگی کی صنعت /سرمایہ کاری نجی شعبے کے حوالے کرنے سے وہی صورت حال جنم لیتی ہے جیسی آج کل ہے ہر روز ایک بحران جنم لیتا ہے اور قیمتوں میں دنوں میں اضافہ ہورہا ہے۔اسی طرح کراچی الیکٹرک کی نجکاری سے کراچی کے شہریوں پر لوڈ شیدنگ اور آئے دن کے فالٹ کے عذاب میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگیا حکومت کئی سالوں سے سبسڈی کے اربوں روپے علیحدہ فراہم کررہی ہے ۔مستقل ورکرز کی جبری برطرفیاں اور نئے بھرتی ہونے والوں پر لاگو کی گئی لاقانونیت اضافی دین ہیں۔ پی ٹی سی ایل کی نجکاری کی خامیاں تو موبائل فون کی آمد نے اوجھل کردیں مگر کئی سال بعد بھی اب تک نجکاری معاہدے کے تحت خریدار نے مکمل ادائیگی نہیں کی ۔ جبکہ 2006 میں پاکستان اسٹیل کی نجکاری کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ نجکاری کی شفافیت پر اٹھائے جانے والے سوالات کا ناقابل تردید جواب مہیا کرتا ہے ۔
(جاری ہے)

جبکہ بینکس اور مالیاتی اداروں کی نجکاری سے ان اداروں کے منافع میں تو کئی گنا اضافہ ہوا لیکن اس اضافے سے محنت کشوں کو کچھ فوائد حاصل نہیں ہوئے بلکہ ان کی مستقل ملازمتیں ختم ہو کر رہ گئیں اور ان کی جگہ بھرتی ہونے والے کارکنان کنٹریکٹ اور تمام قانونی حقوق سے محروم ہو گئے خاص طور پر اوقات کار کے سلسلے میں بد ترین استحصال کا شکار ہیں ان کے آنے کا وقت تو مقرر ہے لیکن جانے کا کوئی وقت نہیں اور یہ ظلم بلا تفریق خواتین کارکنان پر بھی جاری ہے۔ اوور ٹائم جیسا حق اب سننے میں بھی نہیں آتا ۔ بینکنگ سیکٹر کی ترقی اور مقابلے کی فضاء کے باوجود عوام کے لیے بینکنگ مہنگی سے مہنگی ہوتی جارہی ہے۔عام آدمی کیلئے تو اکائونٹ کھلوانا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔
پاکستان کی سیاسی پارٹیاں بھی نجکاری اور قومیانے پر تضاد کا شکار ہیں اس وقت بائیں بازو کی پارٹیاں واضح طور پر نجکاری کے خلاف ہیں اور سوشلسٹ معیشت کی حامی ہیں لیکن بیشتر پارلیمانی پارٹیاں واضح پالیسی سے محروم ہیں ۔حکومت میں آنے والی پارٹیاں اور ان کے اتحادی نجکاری کے حق میں جبکہ اپوزیشن پارٹیاں خلاف ہوتی ہیں ۔مثلاً اس وقت کے نجکاری کے وزیر جی ڈے اے کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ پاکستان اسٹیل کی نجکاری کے خلاف جی ڈی اے بیان جاری کرتا ہے لیکن اپنی ٹکٹ پر منتخب وزیر سے باز پرس سے قاصر ہے یہی حال بیشتر سیاسی پارٹیوں کا ہے ۔اس تضاد نے مزدوروں کو بے آسرا اور منتشر کردیا ہے۔
بھٹو کی قومیانے کی پالیسی سے پہلے ٹریڈ یونینیں مضبوط ہوا کرتی تھیں لیکن پبلک سیکٹر میں حاصل ہونے والے حقوق اور معاہدوں کے نتیجے میں ملنے والی مراعات خاص طور پر قانون کے مطابق چیک آف سسٹم سے حاصل ہونے والے یونین فنڈ نے رہنمائوں کو بھی مراعات یافتہ بنا دیا ان کا نجی اداروں کے کارکنان سے رشتہ کمزور اور ختم ہوکر رہ گیا مجموعی طور پر ملک میں مزدور تحریک ختم ہو کر رہ گئی جس کا منطقی نتیجہ آج کے حالات ہیں۔ جب بد ترین حالات کے باوجود مو ثر مزدور تحریک موجود نہیں ۔ پہلے ہر جمہوری سیاسی تحریکوں میں مزدور ہراول کردار ادا کرتے تھے ۔اخبارات،صحافی ہر مزدور تحریک کو کور کرتے اور مزدور رہنمائوں کی عزت کی جاتی تھی۔ صحافیوں کی ہر تحریک مزدور تحریک کا حصہ سمجھی جاتی تھی لیکن اب مزدوروں کے مسائل، احتجاج پر کسی اخبار میں ادارے کا نام شاذہی نظر آئے گا حتیٰ کہ اگر کسی ادارے میںآگ بھی لگ جائے( جیاسا کہ بلدیہ فیکٹری کے اندوہناک آگ لگنے کے اگلے دن تک ) تو مقامی فیکٹری یا ادارہ لکھا جاتا ہے ۔سوائے جسارت کے ہفتہ واری صفحہ اور یکم مئی کے سالانہ پروگرامز کے علاوہ میڈیا کے لیے مزدور سرگرمیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ نجکاری کے خلاف مزدور تحریک موجود نہیں ۔
پاکستان اسٹیل پبلک سیکٹر میں بد انتظامی کی ایسی مثال ہے جس کو بنیاد بنا کر پوری حکومتی مشنری اور ادارہ جاتی ناکامی کا پوسٹ مارٹم کیا جاسکتا ہے لیکن یہ حمود الرحمن کمیشن جیسا معاملہ ہے۔ اسی لیے پیداوار کی مکمل بندش کے باوجود آج تک حکومت نے یہ جاننے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ پاکستان اسٹیل کی بندش کی وجوھات کا ہی تعین کرلیا جائے تاکہ مستقبل میں بہتری لائے جاسکے۔ لیکن ان حالات پر پہنچا کر بس ایک ہی حل پیش کردیا جاتا ہے کہ نجکاری کر دی جائے۔
پاکستان میں نجکاری کی جو وجوہات بیان کی جاتی رہی ہیں وہ اہداف تو پورے نہیں ہوئے لیکن اس کے ساتھ ہی اب حکومتیں اعلانیہ کہنا شروع ہوگئی ہیں کہ روزگار کی فراہمی حکومت کا کام نہیں ایسا کہتے ہوئے وہ یورپ، امریکہ یعنی ترقی یافتہ ممالک کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔لیکن یہ بیان کرتے ہوئے وہ ان ممالک میں سوشل سیکورٹی،بنیادی ضروریات زندگی کی بلا روک ٹوک فراہمی، بینکنگ، حکومتی رٹ، قانون کی بالا دستی اور ریاست کی اپنے عوام کے سامنے جواب دہی کو بالکل نظر انداز کردیتی ہیں ۔ جبکہ ہمارے یہاں معاملات بالکل ہی الٹ ہیں ۔ پبلک سیکٹر میں کرپشن کی جتنی بھی کہانیاں بنا لی جائیں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے حکومت کو سو فیصد ٹیکس حاصل ہوتا ہے یہ دعویٰ نجی سرمایہ کاروں کے معاملہ میں نہیں کیا جاسکتا ۔ حالیہ چینی،پیٹرول،آٹا،اجناس، کے بحرانوں کو دیکھیں تو خود حکومت مافیائوں پر ذمہ داری ڈالتی ہے یقیناً مافیائوں کا تعلق عوام اور مزدوروں سے قطعی نہیں ہے یہ حکمراں اشرافیہ کا ہی حصہ ہیں۔
حرف آخر کے طور پر ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان جیسے ملک میں ہر صنعت کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کا مطلب انارکی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔بنیادی ضروریات زندگی مثلاً بجلی،پانی،تمام اجناس،گیس(ایندھن)،صحت، تعلیم جیسی صنعتوں کو پبلک سیکٹر میں ہی رہنا چاہیے جبکہ حکومت کو ملک میں کسی صنعت مثلاً اسٹیل،ھائوسنگ،سیمنٹ،کیمیکل،فارماسیٹیکل، کھاد،آئل اینڈ گیس،بینکنگ، غرض ہر شعبے میں اپنا کردار ختم نہیں کرنا چاہیے ۔اجارہ داری نجی شعبہ کو دینا عوام پر ہر روز کا ظلم بن جاتا ہے جیسا کہ موجودہ بحرانوں میں اسے بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست کو آئین اور قانون پر اپنی عمل داری پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوالناس خاص طور پر مزدوروں اور کسانوں کو حاصل قانونی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ۔ پاکستان اسٹیل جہاں حکومت پرنسپل ایمپلائر کا کردار رکھنے کے باوجودسالوں سے ریٹائرڈ ایمپلائز کے واجبات ادا نہیں کررہی۔ نجی شعبہ سے قانون پر عمل داری کیسے ممکن بنائے گی۔ اسے اپنا رویہ ترک کرنا ہوگا اور نا صرف خود آئین اور قانون کی پاسداری کرنا ہوگی وگرنہ وہ ادارے نجی شعبے کے حوالے کرنے کے باوجود پاکستان کی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنے کی بجائے اسے بنانا ری پبلک بنانے کا فریضہ سر انجام دے گی۔

200810-05-10