صحت سے متعلق چند سوالات اور اُن کے جوابات

323

سوال 1- کیا وٹامن ڈی میری جان بچا سکتا ہے؟ کیا واقعی مجھے تجویز کردہ روزانہ خوراک سے چار گنا زیادہ وٹامن ڈی لینا چاہئے؟

جواب – شواہد سے پتہ چلا ہے کہ زیادہ مقدار میں وٹامن ڈی نہ صرف ہڈیوں کو مضبوط رکھنے میں مدد کرتا ہے بلکہ بڑی آنت ، بچہ دانی اور چھاتی کے کینسر اور ذیابیطس اور اسکلیروسیس جیسی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔ اور ہم میں سے بہت سارے افراد سورج کی روشنی کو لے نہیں پاتے (سورج کی روشنی جلد میں وٹامن ڈی کی پیداوار کو متحرک کرتی ہے) یا وٹامن ڈی سے بھرپور غذائیں خوراک میں شمار نہیں کرتے جیسے چربی والی ٹیونا، سالمن مچھلی، دودھ اور سیریئلز. اگرچہ 51 سے 70 سال تک کے لوگوں کے لئے روزانہ کی بنیاد پر وٹامن ڈی کی مقدار اوسطاً 400 IU ہے لیکن زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انہیں ایک دن میں 800 سے لے کر 1،000 IU تک وٹامن D لینا چاہئے۔اگر آپ کی عمر 50 سال سے کم ہے اور آپ تجویز کردہ 200  IUs وٹامن ڈی (روزانہ دو گلاس دودھ اور ایک دن میں 10 سے 15 منٹ تک سورج کی روشنی کے ذریعے حاصل کررہے ہیں تو یہ مقدار آپ کو 400 IU تک حاصل کرنی چاہئیے۔

سوال 2- کیا میں اپنے نلکے کے پانی پر بھروسہ کرسکتا/سکتی ہوں؟

جواب – جی ہاں ضرور، مگر اُس وقت تک جب تک آپ کے نَل کسی کنویں سے منسلک نہ ہوں۔ نَلوں کا پانی میونسپل ٹریٹمنٹ پلانٹوں سے آتا ہے جن کی احتیاط سے نگرانی کی جاتی ہے اور بنسبت بوتل میں ملنے والے پانی سے کہیں بہتر طریقے سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ (کچھ مشہور برانڈ جیسے ایکوافینا وغیرہ یہ نلکے کا ہی پانی ہے)۔ اگر آپ یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ آپ ممکنہ طور پر صاف ترین پانی پی رہے ہیں تو گھر میں پانی کو مزید صاف کرنے کیلئے فلٹر بہترین آپشن ثابت ہوسکتا ہے۔

سوال 3- کیا میرا مائکروویو مجھے کینسر دے سکتا ہے؟

جواب – نہیں۔ مائکروویو استعمال کرنے سے کھانے یا اُس کی غزائیت میں کسی بھی قسم کا مضرِ صحت ردوبدل نہیں ہوتا ہے۔ مائکروویو کی شعائیں صرف آپ کے کھانے میں پانی کے خلیات کو آپس میں رگڑ دلواتی ہیں جس سے آپ کا کھانا گرم ہوجاتا ہے۔

سوال 4- جب مجھے فلو یا زکام ہو تو میں کتنے دن تک متعدی ہوسکتا/سکتی ہوں؟

جواب – نیشوِل کے وینڈربرلٹ میڈیکل سنٹر کے ماہر طبیب اور متعدی امراض کے ماہر، ایم ڈی بل شیفنر کا کہنا ہے کہ جب تک آپ کے اندر علامات ہیں، آپ بیماری کے آخری لمحوں میں بھی وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں اور علامات کے ظاہر ہونے سے 24 گھنٹے قبل ہی متعدی ہوسکتے ہیں۔

سوال 5- مجھے اپنے دانتوں کی کتنی بار پیشہ ورانہ صفائی کروانی چاہئیے؟

جواب – امریکن ڈینٹل ایسوسی ایشن کی مشیر سیلی کرام کے مطابق، اس کا جواب گھر میں آپ کی عادات پر منحصر ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی قسم کے جراثیم کو مسوڑوں میں اپنی جڑیں مظبوط کرنے میں تقریبا تین ماہ لگتے ہیں۔ روزانہ دو بار برش کرنے والوں کو سال میں دو بار ڈینٹسٹ سے اپنے دانتوں کی صفائی کروانی چاہئیے۔ صفائی ستھرائی کے ذریعہ حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اس حوالے سے غیر ذامہ داری کا ثبوت دیتے ہیں یا جن کو پہلے ہی سے دانتوں یا مسوڑوں کی کوئی بیماری لاحق ہے، انہیں ہر دو یا تین ماہ بعد صفائی کرانی چاہئیے۔

سوال 6- کیا سارا دن کمپیوٹر اسکرین کو گھورنا مجھے اندھا کرسکتا ہے؟

جواب – نہیں۔ امریکن اکیڈمی آف اوپتھلمولوجی کے ترجمان، ماہر امراض چشم جان ہیگن III کا کہنا ہے کمپیوٹر کو کئی گھنٹوں تک دیکھنا میراتھون میں بھاگنے کے جیسا ہے۔ اگر آپ کافی دیر تک چلتے ہیں تو آپ کی ٹانگیں تھک جائیں گی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ نے انہیں مستقل طور پر نقصان پہنچایا ہے۔” اسی طرح کمپیوٹر اسکرین پر گھورنے سے آپ کی آنکھوں کے عضلات تھکاوٹ کا شکار اور سخت ہوجائیں گے۔ اس کا حل یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً کمپیوٹر اسکرین سے کچھ دیر کیلئے نظریں ہٹائیں اور 20 یا اس سے زیادہ فٹ کی دوری پر کسی چیز پر فوکس کریں ، پھر چار یا پانچ بار پلکیں تیزی سے جھپکائیں۔

سوال 7- کینسر سے زنگی بھر بطے رہنے کا نسخہ کیا ہے؟

جواب – کوئی بھی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ لوگ جو کینسر سے بچنے کیلئے ہر ممکن احتیاط پر عمل کرتے ہیں وہ بھی کینسر کا شکار ہو ہی جاتے ہیں۔ البتہ دیگر عوامل متاثرہ شخص کو کینسر میں جلد مبتلا کرسکتے ہیں۔ نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ میں کینسر سے بچاؤ کے ڈویژن کے ڈائریکٹر، پی ایچ ڈی پیٹر گرین والڈ کا کہنا ہے کہ تمباکو کا استعمال مجموعی طور پر تین میں سے ایک کینسر کا سبب ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ غذا، سستی و کاہلی اور موٹاپا  بھی کینسر کے اہم سبب ہیں۔