سیلز ٹیکس نو پے منٹ نوریفنڈ بجٹ بحال کرنے کا مطالبہ

67

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینٹرل چیئرمین چوہدری سلامت علی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی برآمدات کوبڑھانے اور زرمبادلہ کمانے کیلئے پانچ بڑے ایکسپورٹ سیکٹرز کیلئے ایس آر او 1125کے تحت سیلز ٹیکس کے نو پے منٹ نو ریفنڈ نظام کو بجٹ میں دوبارہ بحال کیا جائے۔ ایکسپورٹ کے موجودہ حجم میں اضافہ کے لئے ایکسپورٹرز کے لیکویڈیٹی مسائل کو حل کرنا انتہائی ضروری ہے۔عالمی معاشی سست روی اور کورونا وباء کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو نامساعد حالات کا سامنا ہے۔ایکسپورٹ کے فروغ و ترقی کیلئے سنگ میل عبور کرنے کی خاطر حکومت بجٹ میں ایکسپورٹ دوست پالیسی اور اقدامات کا اعلان کرے۔وفاقی حکومت کے گزشتہ بجٹ میں 17فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کی وجہ ویلیوایڈیڈ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ سیکٹر شدید متاثر ہوا اور سیلز ٹیکس کے نفاذ سے اب تک خاص طور پر ٹیکسٹائل ایکسپورٹرزپاکستان کی تاریخ کے سنگین ترین لیکویڈیٹی بحران اور کیش فلو مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔گزشتہ سال بجٹ میں حکومت نے ایکسپورٹس سیکٹر پر 17فیصد سیلز ٹیکس کا اطلاق کر دیا جس کا مقصد ٹیکسٹائل کی مقامی فروخت پرسیلز ٹیکس جمع کرنا تھا جس کے خلاف ایکسپورٹرز نے ملک گیر احتجاج کیا کہ ٹیکسٹائل کی مقامی فروخت پر سیلز ٹیکس لینے کیلئے ایکسپورٹس سیکٹر کو متاثر نہ کیا جائے مگر حکومت نے اس کے برعکس سیلز ٹیکس لگا دیا۔ حکومت کے اس یکطرفہ فیصلہ کی وجہ سے ایکسپورٹرز کے اربوں روپے سیلز ٹیکس ریفنڈز کی مد میں حکومت کے پاس پھنس چکے ہیں او ر ایکسپورٹ انڈسٹری مالی مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس پر کورونا وبا اور عالمی معاشی سست روی کے بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیںجس کے اثرات کم کرنے کیلئے حکومت کی فوری توجہ اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ کئی ماہ کے طویل لاک ڈائون کے بعد عالمی منڈیوں میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔اب کئی عالمی خریدار نئی شرائط پر کام کرنا چاہتے ہیں جیسے کئی خریداروں نے ایکسپورٹرز کو ادائیگی کے دورانیہ کو بڑھا کر 120دن کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر کئی بین الاقوامی برانڈ ز دیوالیہ ہو چکے ہیں جس کا اثر پاکستانی ایکسپورٹ انڈسٹری پر بھی ہو گا۔ان حالات میں ایکسپورٹرز کس طرح کام کریں گے جب انھیں خریداروں سے تاخیر سے رقوم ملیں گیں جبکہ سیلز ٹیکس کی مد میں کثیر رقوم حکومت کے پاس پہلے ہی پھنسی ہوئی ہیں؟موجودہ حالات میں صنعتیں اپنی پیداواری صلاحیت سے کم پر کام کر رہی ہیں۔اس حوالے سے ایکسپورٹ انڈسٹریز کو ایک نئے چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ پیداواری صلاحیت میں کمی کے ساتھ صنعتوں کو چلانے کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے جس کا اسمال اور میڈیم سائز ایکسپورٹ انڈسٹری متحمل نہیں ہو سکتی۔وہ ایکسپورٹرز جنھوں نے بروقت اپنے سیلز ٹیکس کے ریفنڈز کے کلیمزداخل کئے ہیں انھیںآج تک ریفنڈز کی مد میں صرف 35فیصد رقم ملی ہے جبکہ 65فیصد سیلز ٹیکس ریفنڈز کلیمز کوحکومت کیری فارورڈکردیتی ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹرزکا تقریباً 12تا 15 فیصد رننگ کیپیٹل حکومت کے پاس پھنس جاتا ہے۔