PC ہوٹل کراچی کے سیکورٹی گارڈز کو حقوق دیے جائیں

88

PC ہوٹلز نیشنل لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری گل زادہ نے PC ہوٹل کراچی کے جنرل منیجر کو گزشتہ دنوں خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ آپ نے یونین سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں PC کراچی کے ہماری یونین کے کچھ سرگرم ممبران جن کا تعلق سیکورٹی ڈپارٹمنٹ سے تھا کو 2002ء میں ملازمت سے برطرف کردیا تھا، ان ورکرز نے اپنی بحالی کے لیے معزز عدالت سے رجوع کیا۔ لیبر اپلیٹ ٹربیونل نے 2013ء میں تمام سیکورٹی گارڈ کو ملازمت پر بحال کردیا۔ یہ تمام ورکرز ڈیوٹی کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ نے ان کو ڈیوٹی پر نہیں لیا اور نہ ہی ان سیکورٹی گارڈ کو تنخواہ کی ادائیگی شروع کی۔ یہ ورکرز بھی دیگر ورکرز کی طرح تنخواہ کے حقدار ہیں لیکن آپ نے غیر قانونی طور پر نہ صرف ان کی تنخواہ روکی ہوئی ہے بلکہ تنخواہ کے علاوہ بھی یہ ورکرز قانونی طور پر جن مراعات کے حقدار ہیں آپ نے ان ورکرز کو ان سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹینڈنگ آرڈر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان ورکرز کی پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتی نہیں کی جارہی ہے، سوشل سیکورٹی کارڈ بنا کر نہیں دے رہے، میڈیکل انشورنس نہیں کروایا جارہا ہے، معاہدے کے مطابق OPD کی مد میں دوگراس تنخواہ نہیں دی جارہی، بونس کی ادائیگی نہیں کی جارہی کی پالیسی کے مطابق انہیں قرض کی سہولت سے بھی محروم رکھا ہوا ہے، ان ورکرز کا نام حج عمرہ کی قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیا جاتا، ان ورکرز کو سال میں برتھ ڈے کیک بھی نہیں دیا جاتا۔ خط کی کاپیاں اعلیٰ حکام کو دی گئی ہیں۔200120-09-23
PC ہوٹل کراچی کے سیکورٹی گارڈز کو حقوق دیے جائیں
PC ہوٹلز نیشنل لیبر یونین کے جنرل سیکرٹری گل زادہ نے PC ہوٹل کراچی کے جنرل منیجر کو گزشتہ دنوں خط لکھا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ آپ نے یونین سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں PC کراچی کے ہماری یونین کے کچھ سرگرم ممبران جن کا تعلق سیکورٹی ڈپارٹمنٹ سے تھا کو 2002ء میں ملازمت سے برطرف کردیا تھا، ان ورکرز نے اپنی بحالی کے لیے معزز عدالت سے رجوع کیا۔ لیبر اپلیٹ ٹربیونل نے 2013ء میں تمام سیکورٹی گارڈ کو ملازمت پر بحال کردیا۔ یہ تمام ورکرز ڈیوٹی کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ نے ان کو ڈیوٹی پر نہیں لیا اور نہ ہی ان سیکورٹی گارڈ کو تنخواہ کی ادائیگی شروع کی۔ یہ ورکرز بھی دیگر ورکرز کی طرح تنخواہ کے حقدار ہیں لیکن آپ نے غیر قانونی طور پر نہ صرف ان کی تنخواہ روکی ہوئی ہے بلکہ تنخواہ کے علاوہ بھی یہ ورکرز قانونی طور پر جن مراعات کے حقدار ہیں آپ نے ان ورکرز کو ان سے بھی محروم رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹینڈنگ آرڈر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان ورکرز کی پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتی نہیں کی جارہی ہے، سوشل سیکورٹی کارڈ بنا کر نہیں دے رہے، میڈیکل انشورنس نہیں کروایا جارہا ہے، معاہدے کے مطابق OPD کی مد میں دوگراس تنخواہ نہیں دی جارہی، بونس کی ادائیگی نہیں کی جارہی کی پالیسی کے مطابق انہیں قرض کی سہولت سے بھی محروم رکھا ہوا ہے، ان ورکرز کا نام حج عمرہ کی قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیا جاتا، ان ورکرز کو سال میں برتھ ڈے کیک بھی نہیں دیا جاتا۔ خط کی کاپیاں اعلیٰ حکام کو دی گئی ہیں۔