نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان۔ منزل بہ منزل

65

نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان 9 نومبر 1969 کو قائم ہوئی۔ محترم شفیع ملک کو اس کی قیادت کے لیے منتخب کیاگیا۔ہم شروع میں ہی اس بات کو واضح کردیں کہ ایوب خان کے آخری دور حکومت میںمزدورطبقہ شدید مشکلات اوربے چینی کاشکارتھا۔جس کے نتیجے میں اُن کی حکومت ختم ہوئی اورجنرل یحییٰ خان اقتدارپربراجمان ہوئے اس کے بعد محنت کشوں کی بے چینی میں کچھ کمی واقع ہوئی ۔حکومت نے صنعتی تعلقات آرڈنینس 1969 کے نام سے نیامزدورقانون روشناش کرایا۔جس میں مزدوروںکوایک حق یہ حاصل ہواکہ اگرکسی ادارے میں دویا اس سے زائدیونینزہوںگی تو وہاںریفرنڈم کے ذریعے اجتماعی سودے کاری ایجنٹ (CBA) کاتعین کیاجائے گااورکامیاب یونین کو CBA سر ٹیفکیٹ ملے گا۔جبNLF کاقیام عمل میں آیاتو مزدورتحریک میںغالب اکثریت کمیونسٹ مزدوررہنمائوں کی تھی اوران کے سرکردہ رہنما طفیل عباس، بشیربختیار اورمرزا ابرہیم جیسے رہنماتھے ۔یہ تقسیم سے قبل ہندوستان میں محنت کشوں میں کمیونسٹ نظام کے لیے کام کرتے تھے اوراسی مقصدکے تحت انہیں پاکستان بھیجا گیا۔ تاکہ پاکستان میں مزدوروں کے ذریعے کمیونسٹ انقلا ب برپا کیاجاسکے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مرزاابرہیم جوکہ ریلوے کے مزدوررہنمائوں کے لیڈر تھے۔ انہوں نے عین ہجرت کے دوران ریلوے کی ہڑتال کروائی۔ جس کے نتیجے میں ہزاروں مسلمانوںکاقتل عام ہوا۔طفیل عباس PIA اور واپڈامیں بشیربختیار کمیونسٹوںکے نمائندے تھے۔ اس طرح یہ بات آپ کی سمجھ میںبخوبی آسکتی ہے کہ کمیونسٹوں نے مزدورتحریک کو چار اطراف سے اپنے شکنجے میں جکڑنے کی پوری کوشش کی تھی ۔IRO-1969 نافذہونے کے بعد پہلا معرکہ کمیونسٹ اور اسلامی مزدور تحریک کے درمیان PIA میں 29 دسمبر 1969 کو ہوا۔ شدیدنظریاتی کشمکش میں اسلامی مزدورتحریک کی نمائندہ یونین پیاسی نے بھاری اکثریت سے میدان جیت لیااوراسلامی مزدور تحریک کی شمع کو PIA جیسے اہم ادارے میں 98 فیصدسے زائد ووٹ حاصل ہوئے۔ تاریخ سازکامیابی حاصل کرنے پر پوری مزدورتحریک حیرت زدہ رہ گئی ۔PIA میں روشن کی گئی اسلامی مزدورتحریک کی شمع نے مزدورتحریک کارخ بدل دیا۔ اس کامیابی کی وجہ سے اسلامی مزدورتحریک کی کرنیں، KDA,PNSC کینپ، کراچی شپ یارڈ،نیشنل بینک، ریڈیو پاکستان اور ریلوے میں پھیل گئیں اورNLF سے متعلق تمام یونینز کامیابی کے ساتھ ہمکنار ہوئیں۔ NLF کی کامیابیوں کا سفر تیزترہوتاگیا۔یکہ بعد دیگرے اسے ناصرف کراچی بلکہ حیدر آباد، فیصل آباد، سیالکوٹ، سکھر، لاہور، راولپنڈی، کوئٹہ، حب اور گجرانوالہ تک پہنچ گیا۔اب ہم اپنی گولڈن جوبلی کاآغاز کرچکے ہیںاورمرکزی قائدین کی پریس کانفرنس کے ذریعے اس کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ اس کے تمام پروگرامات طے کرلیے گئے ہیں کراچی میں پہلے مرحلے میں صنعتی علاقوںمیں بینرز آویزاں کیے جائیں گے۔ شہر کے مشہور اور اہم مقامات پر پول بینر بھی آویزاں کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی NLF کا تعارف وسیع پیمانے پربذریعہ پمفلٹ مزدوروںتک پہنچایاجائے گا۔ اسٹیکر، پوسٹر چسپاں کیے جائے گے۔ صنعتی علاقوں میں کیمپ لگائے جائیں گے ترانوں کی کیسٹ چلائی جائے گی۔صنعتی علاقوں میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ کراچی زون کی جانب سے مرکزی ریلی ٹاور تاپریس کلب نکالی جائے گی اور پریس کلب پر جلسے سے حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی کراچی خطاب کریں گے۔پوراماہ اکتوبر کامیابی کے ساتھ گولڈن جوبلی پروگرام جاری رہے گااورNLF کی تمام یونینز اورکارکنان ا س گولڈن جوبلی پروگرامات میں پرجوش طریقے سے کارکنان اس میں بھرپور یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے شریک ہوں گے۔ہم اس موقع پر شہر میں کام کرنے والی تمام فیڈریشنوں، یونینز رہنمائوں سرگرم کارکنان کو اپنے پروگرامات میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں کہ وہ شریک ہوکر مزدورحقوق کے حصول کے لیے ایک بھرپور تحریک کاحصہ بنیںتاکہ حکومت سندھ جو مزدور تحریک کی جانب بالکل متوجہ نہیںہو رہی اُسے مجبورکیاجائے کہ وہ محنت کشوں کی جانب متوجہ ہوں۔