غیر رجسٹرڈ مزدوروں کا تحفظ کیا جائے، شمس الرحمان سواتی

142

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر شمس الرحمان سواتی نے گولڈن جوبلی تقریبات کی تیاریوں کے سلسلے میں ذمے داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک بھر کے پونے 6کروڑ غیر رجسٹرڈمزدوروں کے لیے قانون سازی کرتے ہوئے انہیں یونین سازی کا حق دے، تنخواہ اور اوقات کار کا تعین کیا جائے، مزدوروںکا سماجی تحفظ ،ای او بی آئی ،پنشن،تعلیم وصحت کی سہولیات دی جائیں۔کھیت، منڈی، بازار،تعمیرات ،فشریز،بھٹہ مزدوراور گھروںپر کام کرنے والے مزدوروں کو ان کے حقوق دینے کی ضرورت ہے۔ ورکرزویلفیئرکے تحت قائم لیبر کالونیوںمیںسالہاسال سے تعمیر شدہ ہزاروں مکانات مستحق ورکروں کو الاٹ کیے جائیں۔ ٹریڈ یونین قیادت معاشرے کی اصلاح اورمعاشی ترقی میں موثر کردار کی حامل ہے ،تمام لیبر فیڈریشنز اور ٹریڈ یونینزظالمانہ نظام کے خلاف متحد ہوجائیں ۔انہوں نے کہا کہ کوئلے کی کانوں میں ہر سال 200کان کن جاںبحق ہوجاتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود انہیں حفاظتی آلات فراہم نہیں کیے گئے ۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ صنعتی اداروں میں جہاں ایم او ڈی نافذ ہے اس کا خاتمہ کیا جائے۔ کیونکہ ٹریڈ یونینز کی سرگرمیوں میں اضافہ صنعتی ترقی کیلیے لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جاگیر داری اور سرمایہ داری نظام کو ختم کیا جائے،کسانوں کو زمینوں میں اور مزدوروں کو کارخانوں میں حصہ دار بنایا جائے،محنت کشوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا جائے،اس سے ملک حقیقی معنوں میںصنعتی ترقی کر سکے گا۔ صوبہ پنجاب میں لیبر انسپیکشن پر پابندی فی الفور ختم کی جائے۔ صوبہ بلوچستان کی حکومت نے ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کو بنیاد بنا کر ٹریڈ یونین پر پابندی لگا دی ہے، اس ناروا پابندی کو فی الفور پابندی کو ختم کیا جائے ۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں متعلقہ کمیٹیوں میں حقیقی لیبر نمائندوں کو نمائندگی دیں ۔سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے اور مالیاتی ،اقتصادی ،تجارتی پالیسیاں تشکیل دی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ انڈسٹریل ریلیشن قوانین کا جھکائو مالکان کی طرف ہے۔کارروائی کا ضابطہ انتہائی پیچیدہ ہے۔