کاروکاری سے متعلق وزیراعلیٰ کے بیان پر اپوزیشن کا احتجاج،وفاق فنڈز کم دے رہا ہے،مراد علی شاہ

46
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اسمبلی اجلاس میں سوالات کے جواب دے رہے ہیں
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اسمبلی اجلاس میں سوالات کے جواب دے رہے ہیں

کراچی(نمائندہ جسارت)سندھ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے صوبے میں کاروکاری کے واقعات میں کمی سے متعلق بیان پر اپو زیشن ار کان نے احتجاج کیا جب کہ مرادعلی شاہ نے کہا کہ وفاق فنڈز کم دے رہا ہے۔وزیر اعلیٰ سندھمرادعلی شاہ صوبائی وزارت داخلہ کے انچارج وزیر بھی ہیں۔ منگل کو سندھ اسمبلی میں محکمہ داخلہ سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کی کوششوں کے نتیجے میں کاروکاری کے واقعات میں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے ،آج کوئی بھی ایسا اسمبلی رکن نہیں جو کاروکاری کادفاع کرتاہو،کاروکاری غلط ہے، اس کی روک تھام ضروری ہے، حکومت اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ سندھ میں کاروکاری کے 91 واقعات ہوئے ہیں جو زیادہ ہیں اور نہیں ہونے چاہیے تھے۔وقفہ سوالات کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ اور اپوزیشن ارکان کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ بھی جاری رہا۔جی ڈی اے کے رکن عارف مصطفی جتوئی نے دریافت کیا کہ کاروکاری کے واقعات میں ملوث کتنے لوگوں کو سزا ملی اور انصاف میں اتنی تاخیرکیوں ہو رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیس نے اپنا کام کر دیا ہے سزا دینا عدالت کا کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 16 اضلاع میں 91 کاروکاری کے کیس پورٹ ہوئے ہیں تاہم ان واقعات کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔جی ڈی اے کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ 9 ماہ میں 91 کیس رپورٹ ہونا سندھ حکومت کی کارکردگی پر ایک سیاہ دھبا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاروکاری کا الزام اذیت ناک ہوتا ہے۔ انہوںنے پوچھا کہ کاروکاری کے فیصلے کرنے والے وڈیروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ غیرمتعلقہ سوال ہے۔ اس موقع پرپیپلز پارٹی کے ڈاکٹر سہراب سرکی نے کہا کہ ہم وڈیرے ہیں نادر مگسی بھی وڈیرہ ہے ہم اس طرح کے کیسز کا فیصلہ نہیں کرتے بلکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کاروکاری کے خلاف سخت سزائیں ہونی چاہیں۔ پیپلز پارٹی کے میر نادر مگسی نے کہا کہ کاروکاری کے خلاف صرف پیپلزپارٹی کی حکومت کو نہیں بلکہ معاشرے کے ہرفرد کو کردار ادا کرنا چاہیے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم نے ہر ڈویژن میں پولیس شکایات سیل بنائے ہیں،فیملی وخواتین سے متعلق کیسز کے لیے خواتین اہلکار ہوتی ہیں،پولیس شکایات سیل کا دائرہ تمام اضلاع تک بڑھائیں گے۔علاوہ ازیںوزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے این ایف سی سے متعلق پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے پچھلے سال 2018ء اور2019ء میں 665 ارب دینے کا وعدہ کیا تھا، مالی سال ختم ہونے سے پہلے کہا گیا 631 ارب دیں گے مگر جب مالی سال ختم ہوا تو 551 بلین دیے گئے ،اس سال ہمیں بقایا جات میں 31 ارب دیے گئے اور 50 ارب پھر بھی کم دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ پورے سال میں 815 ارب دینے کا کہا گیا پہلا کوارٹر ختم ہورہا ہے ،پری ویو میں اس وقت 87 ارب کا شارٹ فال ہے جو نہیں ملا ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماوسندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے سندھ اسمبلی میں ارکان اسمبلی کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر آئے روز قواعد پر ایوان چلانے کی بات کرتے ہیں لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے، اسپیکر نے آج اسمبلی ایجنڈے کے بجائے قواعد کے برخلاف قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی، میرے پاس کسی بھی قرارداد کی کاپی نہیں آئی، اسپیکر سندھ اسمبلی ایوان کو بغیر کو رم او ر قواعدو ضوابط کے مطابق نہیں چلارہے، ہمیں عالمی پارلیمنٹری یونین اور عدالت میں اسپیکر کیخلاف درخواست پر مجبور کیاجارہاہے، پیپلزپارٹی سندھ اور جمہوریت دشمن پارٹی ہے،تاریخ انہیں یاد رکھے گی کہ یہ جمہوریت دشمن ہیں۔فردوس شمیم نقوی نے مزید کہا کہ آج سے پہلے پیپلز پارٹی کو ایم آر ڈی شہداء یاد نہیں آئے،پیپلزپارٹی جس کو پیغام دینا چاہتی تھی وہ ان کو مل گیاہوگا،سندھ حکومت کا محصولات کی وصولی کا ہدف صرف 65فیصد ہے،صوبائی حکومت نے 100 ارب روپے کم محصولات وصول کیے۔
مراد علی شاہ