گھی کی پیداواری لاگت میں اضافے سے 70فیصد عوام متاثر ہوں گے، پی وی ایم اے

110

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان و ناسپتی مینوفیکچرر ایسوسی ایشن نے حکومت سے فی الفور درآمدی خوردنی تیل پر 5فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی اور 3فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی وی ایم کے عہدے داران نے خوردنی تیل اور وناسپتی گھی سے منسلک تاجرو صنعتکاروں سے ملاقات میں یہ مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستا ن پام آئل کی درآمد کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جو کہ سالانہ تقریباً ڈھائی ارب ڈالر سے زائد کا خوردنی تیل اور ڈیڑھ ارب ڈالر کا خوردنی تیل کا بیج درآمد کرتا ہے۔ بار بار حکومتی اعلانات اور یاد دہانی کے باوجود گھی اور خوردنی تیل پر اضافی ٹیکسوں کو واپس نہیں لیا گیا، جس کی وجہ سے گھی کی پیداواری لاگت میں تقریباً 15 سے 20 روپے کا اضافہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 70 فیصد عوام کا انحصار وناسپتی گھی پر ہے جس کا درآمدی خام مال پام آئل اور پام اولین ہے۔مقامی بیج کی پیداوار کو فروغ دینے کے لئے درآمدی بیج پر ٹیکسوں میں مزید 25 فیصد اضافہ ہونا چاہیے تاکہ مقامی تیل کی پیداوار میں ملک خودکفیل ہو سکے۔ پاکستان کی خوردنی تیل کی پیداوار میں کمی کی سب سے بڑی وجہ درآمدی سورج مکھی ، کنولابیج کی بھرمار اور مقامی سورج مکھی و کنولا بیج کی مناسب قیمت نہ ملنے کے سبب کسان کی عدم دلچسپی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں نئے ٹیکس کے نفاذکا طریقہ کار ابھی تک واضح نہ ہونے کے باعث خام مال کی کلیئرنس رک گئی ہے جس کے سبب قومی خزانے کو نقصان ہونے کے علاوہ مارکیٹ میں گھی کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ ٹیکس کے نفاز میں ابہام ہونے کے باعث مینوفیکچرر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ عہدیداران نے مزیدکہا کہ تیل اور گھی کی صنعت کے فروغ کے لئے حکومت کو ٹیکسوں میں کمی کرنی چاہیے کیونکہ یہ سیکٹر پہلے ہی ٹیکسز کے دباؤ کا شکار ہے۔