سندھ لیبر پالیسی پر اطلاق و عمل درآمد

241

صوبہ سندھ کا مزدور بہت ساری توقعات و خواہشات کو لے کر خوش فہمی کا شکار رہا کہ صوبہ میں گزشتہ 10 سال سے برسراقتدار مزدور دوست پیپلز حکومت کی حکمرانی ہے اور دسمبر 2017ء میں حکومت نے سندھ کی سہ فریقی لیبر کانفرنس کے ذریعے پہلی سندھ لیبر پالیسی کا اعلان بھی فروری 2018ء میں کردیا ہے۔ 27 صفحات پر مشتمل پالیسی میں ایکشن فریم ورک کے لیے 21 نکات ترتیب دیے گئے تا کہ لیبر پالیسی کے متعین مقاصد کا حصول ممکن بنایا جائے۔ علاوہ ازیں عمل درآمد و اطلاق کے لیے 40 نکات پر مشتمل گائڈ لائن کی بھی نشاندہی کی گئی۔ پالیسی کے اعلان کی تقریب میں سندھ کے وزرائے کرام نے فرمایا کہ مزدور یونین سازی اپنے تحفظ کے لیے کرتا ہے، آج تک محروم طبقہ کو روندا گیا ہے اس پالیسی کے ذریعے صنعت کاری کو فروغ ہوگا اور ملازمت کے مواقع حاصل ہوں گے، اس پالیسی کو قابل عمل بنائیں گے۔ وہی روایتی جملوں کی تکرار تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کی تکمیل کریں گے۔ اس پالیسی میں سندھ سہ فریقی لیبر اسٹیڈنگ کمیٹی کو تمام طے شدہ نکات پر عمل درآمد کی مانیٹرنگ کے لیے اختیار دیا گیا ہے۔ پالیسی میں بیان کیا گیا کہ کان کن مزدور، خواتین و چائلڈ لیبر و جبری مشقت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے قدامات کیے جائیں گے۔ ٹریڈ یونین کو آزادانہ کام کرنے اور صنعتی تنازعات کے حل کے لیے موثر میکنزم کی ترتیب، اجرتوں کا منصفانہ تعین اور اس پر مکمل اطلاق نیز پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے حوالے سے جدید و موثر لیبر انسپکشن سسٹم کی تشکیل، سماجی تحفظ کی اسکیموں، سوشل سیکورٹی اور ویلفیئر اسکیموں میں ہر سطح کے مزدوروں کی شمولیت، فوت ہوجانے والے مزدوروں کو بھی سماجی تحفظ کی اسکیموں سے بدستور مراعات جاری رہیں گی۔ نیز کنٹریکٹ سسٹم کے خاتمے کے لیے سندھ کے موجودہ لیبر قوانین اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کی روشنی میں باقاعدگی پیدا کرنا۔ سوال ارباب اختیار اور سندھ سہ فریقی لیبر اسٹینڈنگ کمیٹی کے معزز اراکین سے کہ وہ اب تک پالیسی پر عمل درآمد و اطلاق کے حوالے سے اپنی قیمتی رائے کا اظہار بھی ضرور کریں۔