ایران پر حملے کیلئے کانگریس کی منظوری ضروری نہیں‘ ٹرمپ (اکثر امریکی جنگ کے مخالف)

84

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا قانونی اختیار رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے مزید کہا کہ میں نے ہمیشہ اس بات کو ترجیح دی ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی اطلاع کانگریس کو ضرور دیں۔ انگریزی اخبار دی ہِل کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ایران پر حملے کا فیصلہ کرنے کے قریب تھے، مگر اس کا تناسب موزوں نہیں تھا۔ اس سے قبل امریکی صدر ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کر چکے ہیں، اس حوالے سے انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ نئی پابندیوں کا مرکزی ہدف ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای ہیں۔ دریں اثنا امریکی وزیر خزانہ اسٹیون منوچن نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف عائد کی گئی تازہ پابندیاں وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو بھی لپیٹ میں لیں گی۔ دوسری جانب امریکا میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق 58 فیصد شہری ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں نہیں۔ صرف 24 فیصد امریکی تہران کے ساتھ جنگ چھیڑنے کو درست قرار دیتے ہیں۔ ترک خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا ایران کشیدگی کے دوران انٹرنیٹ نیوز پورٹل دی ہِل اور ہیرس ایکس کمپنی کی جانب سے گزشتہ تین روز کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد سے کیے گئے سروے میں شہریوں سے دونوں ممالک سے متعلق سوالات کیے گئے، جس یں شریک 19 فیصد امریکیوں نے ایران کے خلاف محدود سطح کے فوجی آپریشن کی حمایت کی جبکہ 5 فیصد نے اعلان جنگ کی خواہش کا اظہار کیا۔ دوسری جانب شرکا کے 49 فیصد نے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کم کرنے کے راستے تلاش کرنے کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ اُدھر ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی اقدامات کو شرمناک قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وائٹ ہاؤس ذہنی معذور ہے، واشنگٹن حکومت جھوٹی اور اس کے فیصلے ثبوت ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ رہبر اعلیٰ کے خلاف امریکی پابندیاں بے کار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ ان کے وزیر خارجہ کو نشانہ بنا رہے ہیں وہ سفارت کاری کا راستہ بند کر رہے ہیں۔