پی سی بی کو ہوش آگیا، شعیب ملک ڈراپ حارث سہیل ٹٰم کا حصہ ہونگے

78

 

کراچی(سید وزیر علی قادری)قومی ٹیم کے آل رائونڈر شعیب ملک کا ون ڈے کیریئر کیئریئر ختم ہوگیا ؟ خراب کارکردگی کے بعد ٹیم انتظامیہ شاید انہیں بقیہ4 میچز میں موقع نہ دے۔سابق کپتان نے پاکستان کیلئے 20 سال کرکٹ کھیلی ،شعیب ملک اور کرس گیل اس وقت ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنا کیریئر 1990کی دہائی میں شروع کیا تھا،ان کی بدترین کارکردگی کو دیکھنے کے لئے ان کی اہلیہ ثانیہ مرزا بھی اسٹیڈیم میں موجود تھیں۔آسٹریلیا کے بعد روایتی حریف بھارت کے خلاف گولڈن ڈک پر آئوٹ ہونے کے بعد بظاہرایسا لگ رہا ہے کہ شعیب ملک کا ون ڈے کیریئر ختم ہوگیا ہے،شعیب ملک آسٹریلیا کیخلاف 2 گیندوں میں صفر پر آئوٹ ہوئے جبکہ بھارت کے خلاف وہ پانڈیا کی پہلی گیند پر بولڈ ہوگئے، ان کی باڈی لینگویج بتارہی تھی کہ وہ اس بڑے ایونٹ کے لئے فٹ نہیں ہیں، واضح رہے کہ انہوں نے ورلڈ کپ کے بعدریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہوا ہے،پاکستانی ڈریسنگ روم میں حارث سہیل بیٹھے ہوئے ہیں جو آسٹریلیا کے خلاف2 سنچریاں بناکر بھی پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں ہیں جبکہ جارح مزاج آصف علی بھی موقع کی تلاش میں ہیں،شعیب ملک نے انگلینڈ میں صرف13کی بیٹنگ اوسط سے رنز بنائے ہیں،انگلینڈ میں جن بیٹسمینوں نے 20 سے زیادہ اننگز کھیلی ہیں ان میں شعیب ملک سے بدترین بیٹنگ ریکارڈ اور خراب اوسط جیمز اینڈرسن10.15 ،ڈیرن گف 11.95اور گریم سوان 12.83ہیں ،یہ تینوں نان ریگولر بیٹسمین ہیں۔دوسری طرف سینئر بلے بازوں کی بیٹنگ میں ناکامی کے بعداور بھارت سے مسلسل اب تک کھیلے گئے ورلڈ کپ میں کوئی میچ نہ جیت کر گرین شرٹس کو نہ صرف پاکستان میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے بلکہ فاتح بھارت اور انگلینڈ جہاں میگا ایونٹ کا انعقاد ہورہا ہے مسلسل قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان کی میدان میں غلط حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں پر میڈیا نے اپنا موضوع بحث بنایا ہوا ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے برطانیہ میں مقیم شائقین نے مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ اسٹیڈیم کے باہر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہویے ٹیم مینجمنٹ اور قومی ٹیم پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ٹیم کی ناقص کارکردگی اور شکست پر وزیر اعظم فوری ایکشن لیں اور پوری پی سی بی انتظامیہ کے عہدیداران جو لندن میں بیٹھ کر عیاشیاں کررہے ہیں فورا ًوطن واپس بلایا جائے۔ اس کے علاوہ سلیکشن کمیٹی کے چیئر مین انضمام الحق جن کا ٹیم میں بے جا مداخلت بھی کھلاڑیوں کے لیے کئی مسائل کا جواز بن رہا ہے اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر بھی ان کی موجودگی پر ناراض ہیں ۔