ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنے کیلئے امریکی کمیٹی تشکیل

51

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت اقدام کے لیے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے مشیر قومی سلامتی جان بولٹن، وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قائم مقام وزیر دفاع پیٹرک شناہن کو اہم ذمے داریاں سونپ دیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر نے ایران پر مزید گھیرا تنگ کرنے کے لیے عالمی برادری کو متحد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے مشیر قومی سلامتی، وزیر خارجہ اور قائم مقام سیکرٹری دفاع پر مشتمل اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو ایران پر مزید پابندی اور سخت کارروائی کے لیے عالمی رائے عامہ کو ہموار کریں گے۔ امریکا نے پاسداران انقلاب پر الزام عائد کیا ہے کہ خلیج عمان میں 2 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے سے قبل ایرانی میزائل نے ٹینکرز کی حفاظت پر مامور امریکی ڈرون مار گرایا تھا۔ ڈرون تباہ کرنے کے بعد بارودی سرنگوں کو آئل ٹینکرز کے نچلے حصے پر چسپاں کیا گیا اور دھماکے سے اڑادیا گیا۔ ایران کی جانب سے آئل ٹینکرز کو تباہ کرنے کی پُرزور تردید کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر خلیج عمان میں آئل ٹینکرز پر حملے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ایک دہشت گرد قوم ہے اور آئل ٹینکرز پر حالیہ حملوں میں ایران کے ملوث ہونے سے اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا ہے۔ جب کہ برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے جمعہ کی شام ایک بیان میں کہا کہ ان کے ملک کو یقین ہے کہ خلیج عمان میں تیل بردار جہازوں پر حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کا ہاتھ ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ جہازوں پر حملے کا کسی اور ملک کو فائدہ نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی ایران کے سوا کوئی دوسرا ملک اس واقعے کا ذمے دار ہے۔ جیرمی ہنٹ نے کہا کہ ایران ماضی میں بھی تیل بردار جہازوں پر حملوں میں ملوث پایا گیا ہے۔ ہماری تحقیقات اور ان کے نتائج یہ بتا رہے ہیں کہ تیل بردار جہازوں پر حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کا ہاتھ ہے۔ تاہم یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ تیل بردار جہازوں پر جمعرات کے روز ہونے والے حملوں میں ایران کے ملوث ہونے کے الزامات کے حوالے سے معلومات جمع کر رہے ہیں۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی یونین نے فریقین سے ضبط تحمل سے کام لینے پر زور دیا۔