چین پاکستان کو ’سود‘ سے پاک قرض دینے کیلیے تیار ہے، شیری رحمان

43

اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ کی اسپیشل کمیٹی برائے سی پیک منصوبہ جات کا اجلاس کنوینئر سینیٹر شیری رحمان کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات خسرو بختیارسمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزرات پلاننگ حکام نے کمیٹی کو سی پیک منصوبہ جات پر بریفنگ دی۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ چین کی حکومت پاکستان کو انٹرسٹ فری لون دینے کے لیے تیار ہے۔ میری کل چین کے سفیر سے ملاقات ہوئی تھی جس میں چین کے سفیر نے بتایا کہ سی پیک کے 21 منصوبے جاری ہیں۔ جو تفصیلات چین کے سفیر نے فراہم کیں وہ افسوس کہ ساتھ حکومت نے نہیں کیں۔ سی پیک منصوبہ جات پر ایک اتھارٹی ہونی چاہیے۔ سی پیک قرضوں کے متعلق لوگوں کے ذہنوں میں سوالات ہیں، وفاق بتائے بلوچستان کو سی پیک سے کیا مل رہا ہے؟ سی پیک کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے، کیا اس انداز میں سی پیک منصوبے شروع ہوں گے۔ صوبوں کو خطوط لکھنے سے منصوبے مکمل نہیں ہوں گے۔ شیری رحمان نے حکام سے سوال کیا کہ کیاسی پیک کے تحت غربت مکاؤ ٹریننگ شروع کی جائے گی،کیا بیورو کریٹس ٹریننگ کے ذریعے کیا غربت ختم کریں گے۔ کیری لوگر بل میں بھی یہی ہوا تھا، امریکی ڈھونڈتے رہ گئے کہ کیری لوگر بل کے فنڈز کہاں گئے۔ سی پیک کے تحت سوشل سیکٹر کے چھوٹے چھوٹے منصوبے شروع کرنے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ ان منصوبوں کیلیے ملنے والے تمام فنڈز ضائع ہوجائیں گے۔ سوشل سیکٹر کے تحت بڑے بڑے منصوبے شروع کیے جائیں ، سوشل سیکٹر کے تحت غربت مکاؤ کا بڑا پروگرام شروع کیا جائے اور سوشل سیکٹر منصوبوں پر نظر ثانی کی جائے۔
شیری رحمان