تمام شہریوں کو پانی فراہم نہیں کر سکتے، وزیر بلدیات

43

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا ہے کہ کراچی میں جہاں بھی غیر قانونی تعمیرات ہورہی ہیں، ارکان اسمبلی اس کی نشاندہی کریں ایسی تعمیرات کے خلاف کارروائی ہوگی ،وہ گزشتہ روز سندھ اسمبلی میں ارکان کے توجہ دلاؤ نوٹسز کا جواب سے رہے تھے۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی غیر قانونی تعمیرات کے سدباب کے لیے سندھ حکومت کے ساتھ تعاون کریں، ارکان نشاندہی کریں، ہم ان کے خلاف کارروائی کریںگے، کراچی کے ضلع وسطی میں ہونے والی غیر قانونی تعمیرات سے متعلق پی ٹی آئی کے عمر عمری نے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا تھا۔ پی ٹی آئی ہی کے رکن اسمبلی نے صوبے میں کنزیومر کورٹس کو فعال کیے جانے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا، جس کے جواب میں وزیر زراعت اسماعیل راہو نے بتایا کہ صوبے کے 29 اضلاع میں کنزیومر کورٹس قائم کردی گئی ہیں، ان کنزیومر کورٹس میں اسٹاف کی تعیناتی سندھ حکومت کی ذمے داری نہیں بلکہ یہ معزز عدالتوں کا کام ہے۔ تاہم ان کے لیے فنڈز مہیا کرنا سندھ حکومت کی ذمے داری ہے۔ پی ٹی آئی کے رکن ریاض حیدر نے اپنے حلقہ پی ایس 130 میں پانی کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جس کے جواب میں وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا کہ شہر میں پانی کی تقسیم کو منصفانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں تاہم کراچی میں مطلوبہ مقدار میں پانی نہیں مل رہا ہم شہر کی سو فیصد آبادی کو پانی فراہم نہیں کرسکتے کیونکہ پانی مطلوبہ مقدار میں نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ یقین سے کہتا ہوں کہ پانی کے حوالے سے پاکستان میں سب سے زیادہ متاثر شہر کراچی ہے۔