صدر پاکستان نے اپنے خلاف درخواست کا جواب جمع کروادیا

21

کراچی(نمائندہ جسارت) سندھ ہائیکورٹ میں عارف علوی کے صدر پاکستان منتخب ہونے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی،عدالتی حکم پر صدر پاکستان کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کرادیا گیا، جواب میں کہا گیا کہ میرے خلاف درخواست بے بنیاد ہے،درخواست گزار نے حقائق مسخ کیے،میرے خلاف درخواست قابل سماعت نہیں، الزامات مسترد کرتا ہوں، درخواست جرمانے کے ساتھ
مسترد کی جائے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی درخواست گزار عظمت ریحان کا موقف ہے کہ جس شخص نے عدالتی ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی وہ ملک کا سربراہ کیسے رہ سکتا ہے، عارف علوی نے 1977ء میں دائر سول سوٹ کے ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کی، موجودہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے بھی عارف علوی کے خلاف حکم نامہ جاری کیا تھا، ڈاکٹر عارف علوی نے خود علویہ تبلغ ٹرسٹ کا ’’کوٹرسٹی‘‘ظاہر کیا ، ہاکس بے پر نمک بینک کے دعوے میں خود کو’’ٹرسٹی‘‘ظاہر کیا،1977 ء سے عدالت میں زیر سماعت کیس میں 3 بار عارف علوی نے حلف نامے میں غلط بیانی کی، عارف علوی نے جعلی دستاویزات جمع کراکر ہاکس بے 18 سو 10 ایکڑزمین کا فیصلہ اپنے حق میں کرایا، صدر پاکستان عارف علوی کو نااہل کرنے کا حکم دیا جائے، درخواست میں وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔
خیر پختونخوا میں سابق قبائلی علاقہ جات کے صوبائی اسمبلی کے 16 حلقوں میں انتخابات2جولائی کو ہونے تھے
صدر کا جواب