آئی ایم ایف کا بجٹ آل سٹی تاجر اتحادمسترد کرتی ہے،حماد پونا والا

41

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آل سٹی تاجر اتحادکے صدر حماد پونا والا نے کہا کہ حکوت کوبجٹ 2019-20 کا اعلان کرنے سے قبل کاروباری طبقہ کو اعتماد لینا چاہئے تھالیکن ایسا نہیں کیا گیا اور بجٹ آئی ایم ایف کی ہدایت پر جاری کیا جسے آل سٹی تاجر اتحاد اس بجٹ کو مسترد کرتی ہے حماد پونا والا نے نئے مالی سال کے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہئے کہا کہ وفاقی بجٹ عوام دشمن اور انڈسٹری کیلئے سونامی سے کم نہیں تمام بزنس کمینوٹی نے اس بجٹ کو مسترد کردیا ہے حکومت کا یہ مشکل بجٹ ہے کسی بھی لحاظ سے یہ فرینڈلی بجٹ نہیں معاشی ایجنڈے کے لوگ ٹھیک نہیں اس بجٹ سے مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے زیرو ریٹڈ سیکٹر پر بھی ٹیکس عائد کردیا جس سے ایکسپورٹ پر منفی اثر پرے گا پی ٹی آئی حکومت سے کاروباری طبقہ کو جو امُیدیں وابستہ تھیں اور تاجروں سے جو وعدے کئے گئے تھے انہیں پورا کرنے کی بجائے کاروباری طبقے کو اعتماد میں لئے بغیر اس طرح کے بجٹ کا اعلان کرنا ٹیکس گزار تاجروں کو مزید نچوڑنے اور دیوار سے لگانے کے مترادف ہے یہ ایک مشکل بجٹ ہے جس سے پوری تاجر برادری کو مایوسی ہوئی ہے کیونکہ بزنس کمیونٹی کی بجٹ سے توقعات پوری نہیں ہوئیں ایکسائز ڈیوٹی دنیا بھر میں ختم کردی گئی ہے لیکن پاکستان میں بہت زائد شرح میں لگا دی گئی ہے جس سے مہنگائی میں بے پنا ہ اضافہ ہوگاپہلے ہی 400ارب روپے کے ریفنڈ ز حکومت کے پاس موجود ہیں جو سینکڑو ں بار وعدوں کے بعد بھی کئی سالوں سے واپس نہیں کئے گئے اور اگر مزید 400ارب روپے حکومت کے پاس جمع ہوئے تو کیسے ادا کئے جائیں گے ؟معاشی ایجنڈا کے لئے جو لوگ کام کررہے ہیں وہ ٹھیک نہیں ٹیکسٹائل پر 17فیصد ،اسٹیل پر 17فیصد ،آٹو موبائل 10فیصد ،جیولری ماربل پر 17فیصد ڈیوٹی بڑھا دی گئی ہے جبکہ ٹمبر کے حوالے سے کچھ اچھا کام ہوا ہے جس میں لکڑی کی در آمد پر3فیصد سے کم کرکے0فیصد کر دی گئی ہے جبکہ دیگر لکڑی کی آئیٹم میں بھی خاطر خواہ کمی کی گئی ہے لیکن سروسز پر سیلز ٹیکس کو 13فیصد بڑھا کر 16فیصد کردیا گیا ہے حکومت چاہئے کہ جو گاڑیوں کی امپورٹ پر لاگت بڑھائی گئی ہے اس کے عیوض تمام آٹوموبائل انڈسٹریز کو بھی اس بات پر پابند کیا جائے وہ عوام کو مناسب قیمت میں گاڑیاں فروخت کریں چونکہ امپورٹ بند ہونے کے باعث لوکل مینوفیکچر کمپنیاں عوام سے دوگنی قیمت وصول کرہی ہے حماد پونا والا نے مزید کہا کہ تمام صنعتوں بالخصوص اسٹیل انڈسٹری میں ایس آر او کا جو غلط استعما ل کیا جارہا ہے اس پر بھی ہم نے محکمہ فنانس منسٹری ، کسٹم کے ڈائریکٹرز ، ایف بی آر کے سابقہ چیئرمین اور عہدیداران سے ملاقاتیں کی خط و کتابت کی اور بجٹ پروپزل بھی پیش کئے جس کے باوجود بھی ان ایس آر او کے حوالے سے بجٹ میں کوئی اپ ڈیٹ نہیں دی گئی جبکہ ان ایس آر او کے غلط استعمال کی وجہ سے حکومت سالانہ اربوں روپے کیے ریوینیو کا نقصان ہورہا ہے چینی ، گھی ، کوکنگ آئل اور مشروبات پر ڈیوٹی پر 17فیصد بڑھا دی گئی ہے چینی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام سے مٹھاس بھی چین لی گئی ہے جبکہ ایف بی آر کو ٹیکس وصولی کے لئے 550ارب روپے کا انتہائی مشکل ہدف دیا گیا ہے بجٹ تقریر میں کہاگیا ہے کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے عام آدمی پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا تاہم لگ بھگ تمام ہی صنعتوں پر ٹیس عائد کئے گئے ہیں جس سے یقینی طور پر عام آدمی براہ راست متاثرہوں گے چینی پر جی ایس ٹی لگانے سے کیا عام آدمی متاثر نہیں ہوگا؟ صنعتیں نئے ٹیکس لگنے کے بعد اپنی اضافی پیداراوی لاگت کو عوام تک منتقل کریں گی جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا چینی کے ساتھ ساتھ سیمنٹ پر بھی ڈیوٹی میں اضافہ کردیا گیاہے جس سے تعمیرات مہنگی ہو جائیں گیاور لوگوں کے لئے اپنے گھر کی تعمیر کا خواب مزید مشکل ہو جائے گا جہاں لکڑی پر ڈیوٹی ختم ہونے پر سے تعمیرا ت میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے وہیں سیمنٹ اور سریے کی لاگت بڑھنے سے تعمرات مہنگی ہونگی اور ایک عام فرد کے لئے گھر کا حصّول نا ممکن ہو کر رہ جائے گا حماد پونا والا نے کہاکہ روز مرہ اشیائے ضروریات ،جس میں پیٹرلیم مصنوعات ، بجلی و گیس ،سیمنٹ پر ٹیکس سے مہنگائی میں اضافے سے قوم کی کمر ٹوٹ جائے گی انہوں نے کہاکہ افواج پاکستان کا رضا کارانہ طور پر بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کو تاجر برادری خراج تحسین کرتی ہے ہمار ا حکومت اور اپوزیشن سے مطالبہ ہے کہ وہ بجٹ موجودہ حالت میں پاس کرنے کی بجائے تمام تاجر تنظیموں کے نمائندگا سے مشاورت کے بعد ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جس سے معیشت اور صنعت کا پہیہ درست چل سکے جبکہ بجٹ میں تجویز کردہ ٹیکسز کر کم کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے ۔