وکلا تحریک، گزرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ

118

اعلیٰ عدلیہ کے دو ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجنے کو وکلا کے ایک طبقے نے اپنی انا کا معاملہ بناتے ہوئے عدالتوں کو تالے لگانے اور جلائو گھیرائو کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان بار کونسل اور ملک کے دوسرے علاقوں کی وکلا تنظیمیں اس کارروائی کے خلاف قراردادیں منظور کرنے کے علاوہ احتجاج کے اعلانات کر رہی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ دو جج صاحبان بالخصوص قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کی سماعت سے وکلا کی انا اور عدلیہ کی آزادی پر حرف آجائے گا اور اس کے بعد عدلیہ ہمیشہ کے لیے قید اور غیر موثر ہو کر رہ جائے گی۔ اس لیے وکلا عدلیہ کی بحالی کی تحریک چلا کر حکومت کی اس کوشش اور سازش کو ناکام بنانے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔ اسی دوران پنجاب بار کونسل نے اس مجوزہ احتجاج سے الگ رہنے کا دوٹوک اعلان کیا ہے۔ جو وکلا کے درمیان اس معاملے پر سوچ وفکر اور حکمت عملی کے اختلاف کا پتا دے رہا ہے۔ حقیقت میں جلائو، گھیرائو اور تالے لگانے کی باتیں کرنے والے وکلا عہد ماضی میں زندہ ہیں جب ملک میں ایک مطلق العنان فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے منصف اعلیٰ افتخار چودھری کو دفتر بلا کر دھونس دبائو سے استعفا دلوانے کی کوشش کی مگر افتخار چودھری نے حرفِ انکار بلند کیا دوسرے روز پولیس نے ان سے بدسلوکی کی جس کے نتیجے میں وکلا کی ایک مزاحمت کا آغاز ہو گیا۔ نوآموز میڈیا ان کی مدد کو دوڑا دوڑا آیا جس سے تحریک کا نشہ دوآتشہ ہو گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ملک میں آمریت کا دور دورہ تھا اور آمریت بھی ایسی جو سال ہا سال کے بعد بیرونی معاہدات، داخلی پالیسیوں اور اقتدار کو طول دینے کی سوچ پر مبنی فیصلوں کے باعث قوم وملک کے لیے اثاثے کے بجائے بوجھ بن رہی تھی۔
جنرل مشرف مصر کے صدر حسنی مبارک کی تقلید میں اقتدار کی طویل اننگز کھیلنے کے شوق میں بیرونی طاقتوں کا ہر دبائو بخوشی قبول کر رہے تھے جو انہیں اپنے روایتی ’’حلقہ ٔ انتخاب‘‘ میں غیر مقبول بنا رہا تھا۔ سیاسی جماعتوں میں جنرل مشرف کے اقتدار کو چیلنج کرنے کا دم خم نہیں تھا اور عوام احتجاج کے لیے باہر نکلنے کے لیے آمادہ ٔ وتیار نہیں تھے۔ اس ماحول میں جنرل مشرف سے عوام کی بیزاری، ریاست کے لیے بوجھ بن جانے، افتخار چودھری کے حرف انکار اور وکلا کے احتجاج نے منظر بدل ڈالا۔ اس کہانی میں ایک پراسرار موڑ ابتدائی چند دن میں اس وقت آیا جب افتخار چودھری غیر فعال ہو کر اپنے گھر میں نظر بند تھے اور کسی کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ عین انہی لمحوں ایک معروف سیاسی شخصیت ریٹائرڈ ائرمارشل اصغر خان ’’اتفاقاً‘‘ صبح کی سیر کرتے ہوئے ان کے محصور گھر کے گیٹ پر پہنچے۔ محافظوں اور پہریداروں نے نہایت سکون سے گیٹ کھولا اور ائرمارشل صاحب اندر چلے گئے وہ واپس آئے تو دنیا کو اندر کے حال احوال سے آگاہ کرتے ہوئے یہ خبر دی کہ جسٹس افتخار پراعتماد ہیں۔ اس اتفاقی ملاقات کے بعد جسٹس افتخار چودھری کا اعتماد واقعی بڑھتا چلا گیا۔ جنرل مشرف نے استعفا حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس تو بھیجا مگر اس وقت تک جو جذباتی فضاء بن چکی تھی اس میں سپریم جوڈیشل کونسل اس ریفرنس کو میرٹ پر نہ سن سکی اور یوں عوامی سوچ اور جذبات کے عین مطابق ریفرنس خارج کر دیا گیا۔ اب یہ وقت کا ایک بہہ جانے والا دھارا اور ماضی کا قصہ ہے جس کا تعلق اُس وقت کے حالات اور واقعات سے تھا۔ ملک کی عمومی سیاسی فضاء اور تہ در تہ سازشوں اور اقتدار کی غلام گردشوں میں ہونے والی سرگوشیوں سے تھا۔
آج صدر مملکت عارف علوی نے ایک آئینی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس کی صورت میں شکایات کا پلندہ وزیر اعظم، صوبائی وزیر اعلیٰ، آرمی چیف، واپڈا کے چیرمین، پولیس کے آئی جی یا اسپیکر اسمبلی کو نہیں بھیجا بلکہ آئینی طریقہ کار کے مطابق عدلیہ کے خلاف شکایت کو عدلیہ کے قانونی فورم کے پاس بھیجا۔ جس کی سربراہی عدلیہ کے سربراہ کر رہے ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل اس ریفرنس کا میرٹ پر جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ سنائے گی۔ اگر الزامات درست ہوئے تو ’’سب کا احتساب‘‘ کے نعرے کی تکمیل ہوگی اور اگر غلط ہوئے تو سپریم جوڈیشل کونسل اسے ماضی کی طرح ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی۔ اس سیدھے سادے قانونی اور ادارہ جاتی عمل سے ایک اور وکلا تحریک ایک اور افتخار چودھری برآمد کرنے کی کوشش کرنا وقت کے دھارے کو موڑنے کی کوشش کے مترادف ہے۔
آج ملک میں کمزور سہی ایک جمہوری سیٹ اپ کام کر رہا ہے۔ فوج اپنے داخلی احتساب کے نظام کو مزید موثر اور عوامی بنا رہی ہے جس کا ثبوت اعلیٰ فوجی افسروں کو سنائی جانے والی حالیہ سزائیں ہیں۔ سیاست دان روز پیشیاں بھگت کر احتساب کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک سابق وزیر اعظم کے بعد سابق صدر بھی جیل پہنچ گئے ہیں۔ کئی بیوروکریٹ بھی اپنے کیے کے جواب دہ بنائے جا رہے ہیں اس ماحول میں عدلیہ کے احتساب کا پرانا نعرہ اگر روبہ عمل ہو رہا ہے تو اس پر چیں بہ جبیں ہونے کی کیا ضرورت ہے؟۔ جب خود چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے وکلا کو عدلیہ پر اعتماد کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت قاضی فائز عیسیٰ کو ہٹانے کا اختیار نہیں رکھتی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ حکومت کے پاس یہ اختیار ہوتا تو وہ بیک جنبش قلم ججوں کو برطرف کرچکی ہوتی چونکہ ججوں کے خلاف شکایت کو سننے اور برطرف کرنے کا اختیار ایک طریقہ کار کے تحت خود عدلیہ کے پاس ہے اس لیے حکومت سائل بن کر اس فورم کے پاس چلی گئی۔ اس عمل میں عدلیہ کی توہین اور تضحیک کا پہلو اس صورت میں برآمد ہوتا اگر جج صاحبان کے خلاف ریفرنس سبزی والے یا فالودے پکوڑے والے کو نہیں بھیجا گیا بلکہ عدلیہ کے اعلیٰ ترین فورم کو ارسال کیا گیا ہے اس میں انا اور عزت پر حرف کا کوئی پہلو نہیں۔ وکلا کالے کوٹ کی طبقاتی بالادستی کے بجائے قانون کی بالادستی کا حصہ رہیں تو اسی میں سب کی بھلائی ہے۔ وکلا کو عہد ماضی کی سی تحریک چلانے کے لیے پہلے وقت کے دھارے کو ایک دہائی پیچھے لے جانا ہوگا۔ جہاں ایک وردی پوش جنرل مشرف کے سامنے ایک افتخار چودھری کو بٹھانا ہوگا، ان سے بدسلوکی کراتے ہوئے عوام کی انا زخمی کرانا ہو گا اور پھر ائر مارشل اصغر خان جیسی قد کاٹھ کی شخصیت کو ڈھونڈ لانا ہوگا جو صبح کی سیر کرتے ہوئے لگے ہاتھوں ’’افتخار ثانی‘‘ سے مل آئیں اور اس طرح وقت کا پہیہ مکمل طور پر اُلٹا گھومنے سے بننے والے ماحول کے لیے مزید کھلے اور پوشیدہ عوامل کو تلاش کرنا ہوگا اور ان عناصر اور عوامل کے یکجا ہونے سے قوم عہد ماضی کی طرح ایک اور وکلا تحریک کے مناظر سے آشنا ہو سکتی ہے کیا ایسا ممکن ہوگا؟۔