بجٹ میں شعبہ تعلیم کو نظر انداز کیا گیا‘چیئرمین ایچ ای سی

42

اسلام آباد(آئی این پی)ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر طارق بنوری نے کہاہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ ڈیمانڈ میں 50فیصد کٹوتی کی گئی ہے ، بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کیا گیا ،ہائر ایجوکیشن کمیشن بجٹ میں حکومت نے 28ارب مختص کیے ہیں، اگر اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سر مایہ کاری نہ ہوئی تو مستقبل تاریک ہو گا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوے کیا۔چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل صرف اور صرف تعلیم سے وابستہ ہے ،موجودہ حکومت نے بجٹ میں تعلیم کے شعبے پر اہمیت نہیں دی،ایچ ای سی نے 103.5ارب کی ڈیمانڈ کی،59ارب بجٹ میں مختص کیے گئے ہیں،ترقیاتی بجٹ کی مد میں 55ارب ڈیمانڈ کیے۔ طارق بنوری کا کہنا تھا کہ نیشنل اکیڈمی آف ہائرایجوکیشن کو لانچ کرنے لگے ہیں، اس سے معیشت کو فاعدہ ہو گا، ریسرچ پیپرز کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا مگر معیار پر توجہ نہیں دی گئی، نیشنل اکیڈمی کی 4 سرگرمیاں ہوں گی، تعلیم کے معیار کو بہتر کریں گے، ورلڈ بینک نے اعلیٰ تعلیم کے لیے ایک پروجیکٹ کی منظوری دی ہے ناہی اسی کا حصہ ہے۔یکم جولائی سے ورلڈ بینک کا پروگرام شروع ہوجائے گا، تعلیم پر ہم خرچ کریں گے تو اس کے بہتر نتائج حاصل کریں گے۔