باران رحمت کا امکان اور کراچی

125

مون سون کا سیزن شروع ہوچکا ہے اور دو تین ہفتوں میں کراچی میں بھی باران رحمت کی امید ہے ۔ ہر مرتبہ کراچی میں باران رحمت انتظامیہ کی مہربانی سے شہریوں کے لیے زحمت بن جاتاہے ۔ اس کی وجہ سادہ سی ہے کہ صوبائی حکومت اور شہری حکومت دونوں کی توجہ صرف اور صرف کمیشن کی طرف تو ہوتی ہے مگر حقیقی اقدامات کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔ سب کو بخوبی علم ہے کہ کراچی کی کون سی سڑک پر کون کون سے مقامات پر پانی کھڑا ہوجاتا ہے اور جب تک اس پانی کی نکاسی کا انتظام نہ کیا جائے ، یہ پانی کھڑا رہتا ہے ۔ عمومی طور پرپورے شہر میں پلوں کے دونوں طرف پانی کھڑا رہتا ہے ۔ اگر سرکار ان مقامات کی نشاندہی کرکے ان گڑھوں کو پر کردے تاکہ سطح ہموار ہوجائے اور یہاں پر پانی نہ کھڑا ہوسکے تو شہریوں کی گاڑیاں کم از کم ان پرانے مقامات پر تو نہیں ڈوبیں گی ۔ کراچی میں جو نئی سڑکیں بنائی گئی ہیں ، ان میں منصوبوں کی حد تک تو بارش کے پانی کی نکاسی کا نظام رکھا گیا ہے اور اس کے لیے رقم بھی مختص کی گئی تھی مگر عملی طور پر برساتی پانی کی نکاسی کا کوئی نظام ہی موجود نہیں ہے ۔ کراچی یونیورسٹی سے لے کر صفورہ چورنگی تک جو سڑک ایک ارب روپے سے زاید لاگت سے تعمیر کی گئی ہے اس میں سائیڈ میں مین ہول تو ضرور بنائے گئے ہیں مگر ان مین ہولز کو آپس میں کسی لائن سے نہیں جوڑا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ مین ہولز محض پانی جمع کرنے کے گڑھے کا کام ضرور کرسکتے ہیں ۔ اسی طرح یونیورسٹی روڑ پرتقریبا ایک کلومیٹر سڑک کے الیکٹرک نے بلا کسی اجازت کے کھود ڈالی اور اب اسے ایسے ہی مٹی سے بھر کر اس پر تارکول ڈال کر کالا کردیا گیا ہے ۔ اس میں نہ تو بڑے پتھر ڈالے گئے اور نہ ہی روڑی ۔ اب بارش کے بعد یہ حصہ ایک خندق کی صورت پیش کررہا ہوگا ۔ پورے کراچی میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر دیکھے جاسکتے ہیں جو بارش کے پانی کے ساتھ سیوریج میں شامل ہو کر اس کو بند کرنے کا سبب بنیں گے ۔ ابھی سے اہم سڑکوں پر سیوریج کا پانی بہتا دیکھا جاسکتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیوریج کا نظام پہلے سے ناکارہ ہے اور برسات کا پانی یا تو گھروں میں داخل ہوگا یا پھر سڑکوں پر جمع ہوگا ۔ آخر بلدیہ اور صوبائی حکومت کب تک کراچی کے شہریوں کو سزا دیتے رہیں گے اور اپنا کام نہیں کریں گے ۔