زرداری کی گرفتاری پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ ،ڈپٹی اسپیکر سخت برہم اجلاس ملتوی

75
اسلام آباد: بلاول کو تقریر کی اجازت نہ دینے پر پی پی اراکین اسمبلی اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیے ہوئے ہیں
اسلام آباد: بلاول کو تقریر کی اجازت نہ دینے پر پی پی اراکین اسمبلی اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیے ہوئے ہیں

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)سابق صدرمملکت آصف علی زرداری کی گرفتاری کے خلاف قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی پرڈپٹی اسپیکرسخت برہم ہوگئے اور اجلاس ملتوی کردیا۔منگل کو قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول سے پہلے وزیرریلوے شیخ رشید کو تقریر کرنے کا موقع دینے پر پیپلزپارٹی کی جانب سے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسپیکرکی ڈائس کا گھیراؤ کرلیا ۔ اس دوران گوعمران گو،گونیازی گو کے نعرے لگتے رہے جس پر ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری انتہائی غصے میں آگئے اورکہا کہ کیا اجلاس میں اس طرح ہوتا ہے ، آپ لوگ اپنی نشستوں پر چلیں جائیں ، پہلے شیخ رشیدکی تقریر ہوگی پھر بلاول کو موقع ملے گاتاہم پیپلزپارٹی کے ارکان بضدرہے کہ بلاول کو پہلے بولنے دیا جائے ، بلاول بھی اپنی نشست سے کھڑے ہوگئے اور تقریرکے لیے فلورمانگنے لگے ، اس دوران ڈپٹی اسپیکر شیخ رشید کوفلور دے چکے تھے۔ بلاول کو تقریرکا موقع نہ دینے پر پیپلزپارٹی کے ارکان نے ہنگامہ کھڑاکردیا اور اسپیکرکی ڈائس پر چڑھ گئے ، ڈپٹی اسپیکر سے تلخ کلامی ہوگئی ، اس دوران شیخ رشید نے اپنی تقریر جاری رکھی اورکہا کہ بلاول منی لانڈرنگ پر تقریر کرنا چاہتے ہیں پہلے میری تقریرہوگی۔اس موقع پر پی پی کے ارکان نے لوٹا لوٹا کے نعرے لگانے شروع کردیے، شیخ رشید کی تقریر بھی ہنگامہ آرائی کی نذرہوگئی ۔ آصف علی زرداری کے حوالے سے احتساب کے معاملات پر ن لیگ نے واک آئوٹ میں پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں دیا جس پر پیپلز پارٹی کو تنہا واک آئوٹ کرنا پڑا اپوزیشن لیڈر شہباز شریف،خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، رانا تنویر اور دیگر سرکردہ ارکان ایوان میں بیٹھے رہے۔ نیب کی کارروائی پر فلور نہ ملنے پر سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے واک آئوٹ کا اعلان کیا تھا۔اس اعلان سے قبل پرویز اشرف خصوصی طور پر شہباز شریف کے پاس آئے ان سے ملے بھی تھے۔دیگر اپوزیشن جماعتوں نے واک آؤٹ میں پیپلزپارٹی کا ساتھ نہیں دیا۔قبل ازیں قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری ،سعد رفیق ، محسن داوڑ اور علی وزیر خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں، چیئرمین نیب مستعفی ہوں، پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے، ڈیل کا غلط الزام لگانے پر چیئرمین نیب کو پارلیمنٹ طلب کیاجائے۔ دوسری جانب مشیرداخلہ اعجاز شاہ نے کہا کہ آصف زرداری کی گرفتاری میں حکومت کا کوئی کردار نہیں، اپوزیشن احتجاج کررہی ہے، حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں جب کہ نیب ہم نے نہیں بنائی۔