افکار رمضان

97

حسن البناء شہیدؒ

ماہِ رمضان کے بارے میں اس زمین پر سب سے پہلے اترنے والی آیات یہ تھیں: ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ (البقرہ 185)
آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ قرآن کریم نفوس کا صیقل گر ہے، دلوں کا طبیب ہے، روحوں کی دوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہؐ رمضان میں جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے۔
غزوہ بدر بھی رمضان میں ہوا، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیؐ کی مدد کی اور اپنے دین غالب کیا۔ اور یہ مسلمانوں کی عملی دعوت کا پہلا دور تھا۔
’’آخر اس سے پہلے جنگِ بدر میں اللہ تمہاری مدد کرچکا ہے حالانکہ اْس وقت تم بہت کمزور تھے۔ لہٰذا تم کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری سے بچو، امید ہے کہ اب تم شکر گزار بنو گے۔‘‘ (آل عمران 123)
فتح مکہ بھی رمضان میں ہوئی اور اسی کی بدولت جزیرۃ العرب میں مختصر مدت میں اسلام پھیلا۔ اور یوں ایمان اور شرک کے مابین موجود فاصلہ مٹ گیا کیونکہ ایمان نے جزیرہ عرب کے دل پر، جزیرہ عرب کے شہروں کے کوہان کی چوٹی پر، اور فرزندانِ جزیرہ کے فخر پر اور عزت و تقدس کے گھر مکۃ المکرمہ پر قبضہ کرلیا جو اللہ تعالیٰ کے پرانے گھر کا مستقر ہے۔
’’اے نبیؐ! ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کردی تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کردے اور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے اور تم کو زبردست نصرت بخشے‘‘۔ (الفتح 3۔1)
اور رمضان میں وہ لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں کائنات مقرب فرشتوں سے آباد ہوتی ہے اور روح امین کے وجود سے شرف یاب ہوتی ہے۔
رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جس کے دن روزے سے معمور ہوتے ہیں اور راتیں قیام سے۔ یہ ماہِ خلوت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے مساجد میں اعتکاف سے نمایاں کیا ہے۔ لوگوں کے میل جول سے پیدا ہونے والے شوروغوغا سے دور رہنے کو مستحب قرار دیا ہے۔ دنیاوی معمولات میں چلت پھرت کے مضر نتائج سے محفوظ رہنے کے لیے اعتکاف کو پسندیدہ ٹھہرایا ہے تاکہ روح کی خلوت کمال پائے۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ سچے دلوں پر حق کے فیض عام ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے رابطہ مضبوط ہو۔ رسول اللہؐ اس مہینے کو ایک موقع غنیمت جان کر فائدہ اٹھاتے تھے۔ آپؐ اسے طرح طرح کی نیکیوں سے آباد رکھتے تھے۔ ہمارے گزشتہ نیک بزرگوں نے اس حقیقت کا ادراک کرلیا تھا۔
نبیؐ دن کے روزے کو بطریق احسن رکھتے تھے، اور یہ وہ فریضہ ہے جو اللہ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ہے۔ آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام اس ماہِ مبارک میں جود وسخاوت کا مظہر کامل ہوتے، کھل کر صدقات دیتے۔ صحابہ کرامؓ کے بقول آپؐ سخاوت میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہوتے تھے۔
سخاوت یوں تو آپؐ کا سال بھر کا معمول تھا، مگر رمضان میں آپ کی سخاوت کئی گنا بڑھ جایا کرتی تھی۔
آپؐ اپنی رات کو نماز تہجد اور نوافل سے آباد کرتے تھے۔ جب آپ لوگوں کو نماز پڑھاتے تو نماز کو مختصر کرتے، مگر جب اپنے گھر تشریف لے جاتے تو نماز لمبی پڑھتے، پھر اسے اور لمبا کرتے۔ آپؐ رات کو تسبیح و قرآن میں گزار دیتے تھے۔ آپ جبرائیل امین علیہ السلام کے ساتھ کتاب اللہ کا دور کرتے تھے۔ اس لیے کہ ماہِ رمضان دراصل ماہِ قرآن ہے۔ لہٰذا روحانی سرگرمی اور تزکیۂ نفس کے لیے رمضان و قرآن باہم دگر لازم و ملزوم ہیں۔ اسی سے صیام و قیام کے انوار براہِ راست دل پر پڑتے ہیں۔ نبیؐ اللہ کی کتاب کو سمجھتے اور اس میں تدبر کرتے، اس کے معنی میں غور کرتے۔ آپؐ آخری عشروں میں معتکف ہوتے، مستعد وچوکس ہوتے، اپنی کمر کس لیتے اور اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے۔
یہ تھا رسولؐ کا حال ماہِ رمضان میں۔ اور اسی کو صحابہ کرامؓ نے اپنایا۔ انہوں نے آپ کی سنت پر عمل کیا۔ اس امت کے تابعین صالحین نے صحابہ کی پیروی کی۔ ان میں سے وہ صاحب بھی تھے کہ جب رمضان آیا تو آپ نے اپنے دوستوں کو عید تک الوداع کردیا اور پھر مکمل طور پر اطاعتِ الٰہی میں مشغول ہوگئے۔ اپنے جسم و روح اور قلب و فواد کو لیے اللہ کی طرف راہِ فرار اختیار کی۔