اپوزیشن متحد نہیں ہوسکتی یہ چلے ہوئے کارتوس ہیں ،فردوس عاشق اعوان

126
اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان میڈیا سے گفتگو کررہی ہیں
اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان میڈیا سے گفتگو کررہی ہیں

اسلام آباد(اے پی پی)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن متحد نہیں ہوسکتی یہ سب چلے ہوئے کارتوس ہیں،وہ دن دور نہیں جب یہ اپوزیشن والے ایک دوسرے پر کارتوس چلائیں گے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کبھی متحد نہیں ہو سکتی صرف ہوائی فائرنگ کر رہی ہے، یہ سب چلے ہوئے کارتوس ہیں، ان تلوں میں کوئی تیل نہیں، وہ دن دور نہیں جب یہ اپوزیشن والے ایک دوسرے پر کارتوس چلائیں گے۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ نیب ریاست کا آزاد اورخود مختار ادارہ ہے،جو آئین اور قانون کے طابع ہے، اپوزیشن کو نیب کی کارروائیوں پر خدشات ہیں یا وہ جہاں سمجھتی ہے نیب نے تجاوز کیا ہے تو عدالتیں موجود ہیں، اپوزیشن پہلے ہی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے اب زور زور سے بجانا شروع کر دے لیکن نیب پر حملے اور دھمکیاں دینے کے بجائے نیب کے سوالوں کے جواب دے دے،کیوں کہ نیب سے چھپن چھپائی کھیلنا مسئلہ کا حل نہیں ہے۔معاون خصوصی اطلاعات و نشر یات نے کہا کہ نواز شریف جب ضمانت پر تھے تو ایک دن بھی اسپتال میں نہیں گزارا، 6 ہفتے فائیو اسٹار گھر میں لیٹے رہے، یہ کیسی پراسرار بیماری ہے جو گھر جاتے ہی ٹھیک، جیل جاتے ہی جان لیوا بن جاتی ہے،ہم دعا کرتے ہیں کہ بیماری بھی اپنا ایک بیانیہ طے کر لے،نوازشریف طے کر لیں کہ انہیں بیماری کیا ہے حکومت معاونت کرے گی۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان رواں ہفتے میڈیا کو تیل کے نئے ذخائر، توانائی کے امور کے حوالے سے بریفنگ دیں گے، وزیراعظم عمران خان اور وزیراعظم بیٹ رپورٹرز کے مابین فاصلے کو کم کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ اینکرز، کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کی طرح بیٹ رپورٹرز کو بھی وقت دیں، وزیراعظم رواں ہفتے میری درخواست پر بیٹ رپورٹرز کو تیل کے نئے ذخائر اور توانائی کے امور پر تفصیلی بریفنگ دیںگے ۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات نے کہا کہ قومی احتساب بیورو آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جو حکومت یا اپوزیشن کی خواہش کے تابع نہیں بلکہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کام کر رہا ہے، توقع ہے کہ اپوزیشن نیب پر حملوں، دھمکیوں اور روز سیاست میں گھسیٹنے کے بجائے نیب کے پوچھے گئے سوالات کا جواب دے گی، اگر کسی کا دامن صاف ہو تو وہ لاپتا ہونے کے بجائے سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہے۔