نئی گج ڈیم تعمیر کیس، عدالت سندھ حکومت پربرہم، چیف سیکرٹری طلب

61

اسلام آباد( آن لائن ) نئی گج ڈیم کی تعمیر کیس میں عدالت عظمیٰ نے سندھ حکومت کے رویے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کر لیا، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سندھ حکومت پھر کہے گی پانی نہیں ملتا تو کوکا کولا پی لیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سندھ حکومت کے رویے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کو 23 مئی کو طلب کر لیا اور کہا کہ چیف سیکرٹری کا نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق بیان ریکارڈ کیا جائیگا۔جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا نئی گج ڈیم کس ضلع میں ہے؟ جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا نئی گج ڈیم ضلع دادو میں بنے گا۔جسٹس عظمت نے کہا کہ حکومت جن اضلاع، افراد کی زمینیں سیراب کرناچاہتی ہے معلوم ہے، کیا سندھ حکومت یہی چاہتی ہے کہ عدالت میں نام لیں؟ سندھ حکومت چاہتی ہے باقی عوام چاہیں مرجائیں فرق نہیں پڑتا۔ جسٹس عظمت سعید کا ریمارکس میں کہنا تھا چیف سیکرٹری بیان دیدیں کہ دادوکی زمین سیراب کرنیکی ضرورت نہیں، سندھ حکومت کہہ دے دادو کے عوام کو پانی ضرورت نہیں، سندھ والوں کو پانی نہیں چاہیے تو انکی مرضی، چیف سیکرٹری کے بیان کے بعد احکامات پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔جسٹس عظمت نے کہا کہ ممکن ہے عدالت ڈیم تعمیر کے حکم پر بھی نظرثانی کرلے، عدالت اب خود کوئی بوجھ نہیں اٹھائے گی، جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا سندھ حکومت ایکنک کا فیصلہ بھی تسلیم نہیں کر رہی، ہر گزرتے دن کیساتھ ڈیم کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے، سندھ حکومت پھر کہے گی پانی نہیں ملتا تو کوکا کولا پی لیں۔ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا منصوبہ 26 ارب کا تھا جو 46 ارب تک پہنچ چکا ہے، بعد ازاں سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت 23 مئی تک ملتوی کر د ی گئی۔