ایران مذاکرات پر آجائے گا،ٹرمپ،ظریف نے امکان مسترد کردیا

48

واشنگٹن/ ٹوکیو (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے کہ ایران ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر واپس آ جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تہران حکومت امریکی دباؤ کی وجہ سے مجبور ہو کر جلد ہی بات چیت پر راضی ہو جائے گی۔ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اختیار کردہ پالیسی پراپنی انتظامیہ میں اختلافات کی خبروں کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ کسی مسئلے پر مختلف آرا کا اظہار الگ بات ہے اور حتمی فیصلہ بہت سادہ طریقے سے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں شبہہ نہیں کہ مشرق وسطیٰ کو عدم استحکام کا شکارکرنے میں ایران کا کلیدی کردار ہے، مگرایران کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال میں عسکری اشتعال انگیزی کا شدید خطرہ ہے۔ امریکا ایک برس قبل ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا۔ دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے امریکا کے ساتھ بات چیت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کے مطابق جواد ظریف نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ادھر سعودی عرب نے 2 روز قبل تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا الزام ایران پر عائد کر دیا۔سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی تیل تنصیبات پر دہشت گرد حملوں کا حکم ایران کی حکومت نے دیا۔ شہزادہ خالد بن سلمان نے کہا کہ ایران نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملہ حوثی باغیوں سے کرایا۔سعودی وزیر نے کہا کہ ایران ان گروپوں کو خطے میں اپنے ایجنڈے پر عمل کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ادھر ایرانی وزیر دفاع میجر جنرل امیر حاتمی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکی اسرائیلی اتحاد کو شکست سے دوچار کر دے گا۔