سوڈان: فوجی قیادت نے مظاہرین سے مذاکرات معطل کر دیے

93

خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان کی فوجی قیادت نے عبوری کونسل اور مظاہرین کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات معطل کر دیے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عبوری فوجی کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح برہان نے بتایا کہ جب تک معاہدے کی تکمیل کے لیے ماحول سازگار نہیں ہوتا، بات چیت نہیں ہو گی، ساتھ ہی ان تمام علاقوں کو خالی کرایا جائے گا، جہاں 6 اپریل کے بعد سے مظاہرین تاحال دھرنا دیے ہوئے ہیں، اور اس دوران فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں میں کئی افراد اور اہل کار زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ بدھ کے روز فریقین میں ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق ایک نئی کونسل تشکیل دی جائے گی جس میں عسکری اور عوامی نمایندے شامل ہوں گے تاہم عوامی ارکان کی تعداد فوجی ارکان سے زیادہ ہوگی۔ دریں اثنا مظاہرین میں شامل سب سے بڑی تنظیم ڈیکلریشن آف فریڈم اینڈ چینج فورسز فوجی قیادت کے حالیہ فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عسکری کونسل کا عبوری مرحلے کے حوالے سے مذاکرات معطل کرنا افسوس ناک ہے۔ فریڈم اینڈ چینج نے اعلان کیا کہ وزارت دفاع کی جنرل کمان کے ہیڈ کوارٹر اور ملک میں دھرنوں کے تمام مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عبوری عسکری کونسل کا مذاکرات معطل کرنے کا فیصلہ دارالحکومت خرطوم میں فوج کی جنرل کمان کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے مظاہرین کے دھرنے کے اطراف فائرنگ کے بعد سامنے آیا۔