کوئٹہ ، ایپکا کی مطالبات کی عدم منظوری کیخلاف قلم چھوڑ ہڑتال

35

 

کوئٹہ (نمائندہ جسارت) اپیکا بلوچستان کا کوئٹہ سمیت صوبے بھر کے سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال، ہڑتال کے باعث دفتری امور کی انجام دہی نہ ہوسکی۔ آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے صوبائی ترجمان غلام سرور مینگل کے مطابق چارٹر آف ڈیمانڈ کے حق میں کوئٹہ سمیت بلوچستان کے متعدد اضلاع مستونگ، قلات، خضدار، لسبیلہ، کیچ، پنجگور، آواران، واشک، خاران، چاغی، نوشکی، پشین، زیارت، قلعہ عبداللہ، لورالائی، ژوب، شیرانی، سبی، بولان، نصیرآباد، جعفر آباد، جھل مگسی، ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور بارکھان کے سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کی گئی۔ اپیکا کے ضلعی عہدیداروں نے اپنے اپنے علاقوں، دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال کا جائزہ لیا۔ ایپکا کے صوبائی صدر داد محمد بلوچ نے ضلع کوئٹہ کے صدر رحمت اللہ زہری ودیگر سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ٹیکنکل اسٹاف کو اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی تھی لیکن ایک مخصوص سوچ اور ذہنیت جو ہمیشہ ایپکا کو سراپا احتجاج بنا کر سرکاری مشینری کو متاثر کرنے کی خواہاں رہی ہے۔ انہوں نے دوبارہ سرکاری اْمور کو ٹھپ کرنے کی سازش کرتے ہوئے ہمارے جائزو حل شدہ مطالبات کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایپکا کے ورکرز شدید مہنگائی اور قلیل تنخواہوں کے باوجود سرکاری مشینری کو چلارہے ہیں، بہ حالت مجبوری حکمرانوں کے وعدہ وفا نہ ہونے کے باعث احتجاج کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ ہمارے تمام مطالبات جائز ہیں اگر ہمارے مطالبات پر عمل درآمد کے لیے ہمارے ساتھ مذاکرات نہیں کیے گئے تو پھر بہ حالت مجبوری ایپکا بلوچستان بجٹ اجلاس والے دن اسمبلی کے سامنے بھر پور احتجاج کرے گی اور اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے مسائل حل کروائے گی۔ ان کے مطابق ایپکا پُر امن جدوجہد، جمہوری طرز عمل اپناتے ہوئے آئین پاکستان کے دائرے میں رہ کر مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کررہی ہے اگر حکمرانوں کا یہ رویہ رہا تو عید کے بعد احتجاج میں مزید سختی لائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیکنیکل اسٹاف کی اپ گریڈیشن، کوئٹہ کے ملازمین کی ہائوسنگ اسکیم کی حوالگی اور دیگر مسائل کے حل ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔