پاکستان اور جماعت اسلامی پاکستان (۱۹۴۷ء تا ۱۹۵۰ء) (باب ہفتم )

96

 

محمود عالم صدیقی

مہاجرین کے لیے روپے کی ضرورت ہے جس سے مہاجرین کی مددکے مختلف کاموں کا سرو سامان کیا جائے اور سب سے بڑھ کر جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کی رائے عامہ ان بے درد اور شقی القلب پاکستانیوں کے خلاف بھڑک اٹھے جو اپنے لاکھوں مسلمان بھائیوں کی اس مصیبت سے طرح طرح کے ناجائز فائدے اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی بربادی پر پاکستان کے لوگوں کی سردمہری ہی کچھ کم افسوسناک نہیں ہے کہ نوبت اب یہاں تک پہنچ جائے کہ ان کی خانہ بربادی کو یہ اپنی خانہ آبادی کا ذریعہ بنائیں۔ پاکستان میں ایک ایسی عام رائے تیار ہونی چاہیے جو اس قسم کی بدترین خود غرضیوں کو جہاں بھی دیکھے جو اس پر بر سر عام لعنت کرے۔
اعانت مہاجرین کے سلسلے میں جو اصحاب رضا کارانہ خدمات انجام دینا چاہیں یا روپے اور سامان سے مدد کرنا چاہیں وہ ان پبلک جماعتوں کی طرف جلدی سے جلدی رجوع فرمائیں جن پر انہیں اعتماد ہو۔ پبلک جماعتوں کے لیڈروں اور کارکنوں سے بھی میں درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس نازک موقع پر کام کے لیے اٹھیں اور اپنی قوتوں کو مجتمع کرکے جلدی سے جلدی مہاجرین کی مدد کو پہنچیں۔ ہر لمحہ جو گزر رہا ہے ان کے مصائب اور مشکلات کو بڑھاتا جارہا ہے۔
جماعت اسلامی بھی اس سلسلے میں کچھ خدمت کررہی ہے‘ جن لوگوں کو ہمارے اوپر اعتماد ہو وہ ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں۔ ہمیں اس کام کے لیے ایسے رضاکاروں کی ضرورت ہے جو دلسوزی‘ جانفشانی اور اخلاص و دیانت کے ساتھ مہاجرین کی خدمت میں وقت صرف کرنے پر آمادہ ہوں۔ جن کے پیش نظر خدا کی خوشنودی کے سوا کوئی دوسرا مقصد نہ ہو‘ اور جو کم از کم خدمت کے اوقات میں جماعت اسلامی کے نظم وضبط کی پابندی کریں۔ ایسے حضرات اگر ہمارے ساتھ کام کرنا چاہیں تو براہ کرم جماعت اسلامی کے کیمپ واقع اسلامیہ پارک پونچھ روڈ پر مجھ سے ملیں یا مراسلت فرمائیں‘ نیز جولوگ ہم پر اعتماد رکھتے ہوں وہ روپے‘ کپڑے اور دواؤں سے بھی ہمارا ہاتھ بٹائیں۔ اس مدد کے لیے اللہ ان کو اجر عطا فرمائے گا اور اسی کا اجر کافی ہے۔
جماعت کی ان تمام شاخوں کو جو پاکستان میں واقع ہیں‘ یہ ہدایت کرتا ہوں کہ اپنے ارکان اور حلقہ ہمدرد کی نصف تعداد جلدی سے لاہور بھیجیں اور ایسا انتظام کریں کہ ایک پارٹی کے واپس جانے سے پہلے دوسری پارٹی اس کی جگہ کام کرنے کے لیے پہنچتی رہے۔
قیم جماعت میاں طفیل محمد صاحب کا خط
اس مرحلے پر محترم میاں طفیل محمد صاحب قیم جماعت اسلامی پاکستان کی طرف سے ایک تفصیلی خط جماعت اسلامی کے ارکان اور ہمدردوںکے نام جاری کیاگیا‘ اس خط میں انہوں نے مہاجر کیمپوں کا حال اور کیمپوں میں پیش آنے والے اخلاقی پستی کے تکلیف دہ واقعات بیان کرنے کے بعد لکھا کہ:
’’ مرکزی مجلس شوریٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان حالات میں کام کریں گے اور حالات کو سنبھالنے کے لیے اپنی قوت صرف کریں گے۔ لہٰذاپاکستانی علاقے کی جماعتیں اور قیمین حلقہ جات اپنے ارکان اور قریبی ہمدردان کی نصف تعداد فوراًمرکز روانہ کردیں۔ بیت المالوں میں موجود رقوم کا نصف حصہ بھی بہ تفصیل مدات فوراً بھیج دیا جائے۔ آنے والے حضرات جس حد تک ممکن ہو‘ زیادہ سے زیادہ راشن یعنی غلہ ‘آٹا‘ گھی اور گڑ وغیرہ اپنے ساتھ لے کر آئیں۔جب کہ پیچھے رہ جانے والے حضرات اپنے اپنے علاقوں میں پہنچنے والے مہاجرین کی ہر طرح سے طبی اور مالی امداد کے ساتھ ساتھ ان کی آبادکاری کا پورا اہتمام کریں‘‘۔
’’کیمپوں میں سرکاری کارکنان کی بدعنوانیوں (خاص طورپر رشوت) اور وہاں کی دوسری اخلاقی خرابیوں کی رپورٹ مرکز کو بھجوائی جاتی رہے۔ مصیبت زدگان کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع اور توکّل کی رغبت دلائی جائے۔ لاہور میں والٹن کیمپ میں کام شروع ہورہا ہے اور شہر کی صفائی پر بھی توجہ دی جارہی ہے‘‘۔
۲۵؍اکتوبر۱۹۴۷ء کو امیر جماعت مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے کیمپ جماعت اسلامی مبارک پارک پونچھ روڈلاہور سے ایک اپیل شائع کی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ جماعت اسلامی نے ہوائی اڈے (والٹن کیمپ) میں اپنا ایک اسپتال قائم کیا ہے۔ جس میں یونانی‘ ایلوپیتھک اور ہومیو پیتھک علاج کا انتظام ہے۔ لیکن مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ہماری طرف سے جو حکیم اور ڈاکٹر مقرر ہیں‘ وہ شب وروز کی محنت کے باوجود سب کی خدمت نہیں کرسکتے۔ہمیں ایسے طبیبوں اور ڈاکٹروں کی سخت ضرورت ہے‘ جو اس کام میں فی سبیل اللہ ہمارا ہاتھ بٹانے پر تیار ہوں۔ خصوصیت کے ساتھ میں جماعت اسلامی کے جملہ ہمدردوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ان میں جو حکیم‘ ڈاکٹر یا ہومیو پیتھ موجود ہوں‘ وہ اس خدمت کے لیے آگے بڑھیں۔
کارکنان کی آمد کے ساتھ ہی جماعت اسلامی نے پہلا کیمپ والٹن (ہوائی اڈّا) میں وسط ستمبر میں قائم کردیا۔ اگرچہ پہلے کیمپ کا نظام سرکاری طوپر ایک فوجی میجر کی کمان میں تھا اور کچھ انتظامیہ کے لوگ بھی وہاں مقرر تھے اور رضاکار کے طورپر بھی وہاں کچھ رنگا رنگ قسم کے نوجوان کام کررہے تھے۔ لیکن ہزار ہا مہاجرین وہاں روزانہ آرہے تھے۔ جن میں شدید مریض‘ ضعیف ‘بچے‘ زخمی اور معذور کیے گئے افراد کی بہت بڑی تعداد ہوتی تھی۔ اکثر لوگ بھوک اور فاقوں سے نڈھال تھے۔بے سہارا افراد تو شمار نہیں ہو سکتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے اکثر اعزاء یا شہید کردیے گئے تھے‘ یا راستوں کے حملوں میں ایک دوسرے سے الگ ہوگئے تھے۔ ان محروم اور مصیبتوں میں مبتلا حضرات کو سنبھالنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ پھر بد انتظامی کے باعث سخت ا فرا تفری کی فضا تھی۔
(جاری ہے)