حکومت کراچی سرکلر ریلوے شروع کرنے کیلیے تیار ہے، مراد علی شاہ

158

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) شروع کرنے کے لیے تیار ہے جس کے لیے پاکستان ریلوے کو اگلے 15 دنوں کے اندر سندھ حکومت کو رائیٹ آف وے (ROW) حوالے کرنا پڑے گا۔ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وزیر بلدیات سعید غنی، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ، پرنسپل سیکرٹری ساجد جمال ابڑو، سیکرٹری داخلہ قاضی کبیر، کمشنر کراچی افتخار شلوانی، سیکرٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، ایم ڈی واٹر بورڈ اسد اللہ، ڈی جی کے ڈی اے، ڈی جی ایس بی سی اے اور ٹرانسپورٹ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کے سی آر منصوبے کے آغاز کیلیے پرعزم ہیں جس کے لیے انہوں نے چین اور اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں بھی کیں اور اسے سی پیک سے متعلق جے سی سی اجلاس میں منظور بھی کیا گیا۔ اب وفاقی حکومت کو اس منصوبے کو منظور کرنا ہوگا کیونکہ فزیبلٹی اسٹڈی پہلے ہی کردی گئی ہے اور اس کی ساوورین گارنٹی (خودمختار ضمانت) دینا ہوگی۔ مراد علی شاہ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی ہے کہ ریلوے حکام کو ایک خط لکھ کر رائیٹ آف وے (ROW) سے ریلوے تجاوزات ہٹائے جائیں اور پھر اسے صوبائی حکومت کو منتقل کیا جائے تاکہ اس منصوبے کو شروع کرنے کے لیے بین الاقوامی ٹینڈرز کے ذریعے مدعو کیا جاسکے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان، کراچی میں حاضری سے قبل کڈنی ہل اور ہل پارک علاقوں کے غیر قانونی الاٹیز کو نوٹس جاری کیا جاسکتا ہے۔ کمشنر کراچی نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ ہاکی کے وائے ایم سی (YMC) گراؤنڈ کو بحال کیا گیا ہے اور اب وہاں ہاکی گیم کھیلا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ میٹروپول ہوٹل کے آس پاس معاہدے کے تحت فٹ پاتھ سے تجاوزات ختم کیے جائیں۔ کمشنر کراچی نے کہا کہ انہوں نے فٹ پاتھ کے کچھ حصوں کو صاف کروایا ہے اور میٹروپول ہوٹل کے کنارے پر ولیج ریسٹورنٹ کے حصے کو اگلے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹا دیا جائے گا۔ الہٰ دین پارک کی آفس کا علاقہ سیل کردیا گیا ہے جس کی رپورٹ عدالت عظمیٰ کو ارسال کردی گئی ہے۔