علیم خان کی ضمانت،آغا سراج اور اکرم درانی کیخلاف ریفرنس اور تحقیقات کی منظوری

36

لاہور/کراچی (نمائندہ جسارت+اسٹاف رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پی ٹی آئی رہنما عبد العلیم خان کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے عبد العلیم خان کو10 لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ نیب کی جانب سے عبدالعلیم خان کی مشکوک بینک ٹرایکشنزاور سرمایہ کاری کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ عبد العلیم خان نے 2002 ء میں الیکشن لڑا اس وقت ان کے اثاثے 5.4 ملین تھے، وزیر بننے کے بعدان کے اثاثوں میں اضافہ ہوا۔ عبد العلیم خان کو ان کے والدین کی جانب سے بیرون ملک سے جو رقوم آئیں اب تک ان کا ثبوت نہیں دیا گیا اور نہ ہی آج تک یہ بتایا گیا کہ بیرون ملک سے یہ رقوم کس نے بھیجیں۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے عبد العلیم خان کی ضمانت منظور کرلی۔بعدازاں پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہنیب کو چاہیے کہ پہلے شواہد جمع کرے پھر گرفتار کرے پھر عدالت فیصلہ کرے کہ مجرم ہے یا نہیں۔دوسری جانب چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے آغاسراج درانی کیخلاف بدعنوانی کاریفرنس دائرکرنے کی منظوری دے دی۔ملزم پرقومی خزانے کو ایک ارب60کروڑ نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔چیئرمین نیب کی زیرصدارت ایگزیکٹوبورڈ کے اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب سمیت دیگرحکام نے شرکت کی۔اعلامیہ کے مطابق سینیٹرروبینہ خالداور مظہرالاسلام کے خلاف ریفرنس کی منظوری دی گئی جبکہ اکرم درانی،شیراعظم،غلام نظامانی سمیت12انکوائریوں کی بھی منظوری دے دی گئی۔نیب اعلامیہ میں کہا گیا سابق ڈائریکٹر تعلیم فاٹا فضل المنان کے خلاف بھی ریفرنس کی منظوری دی گئی ہے ، ملزم پر اساتذہ کی جعلی بھرتیوں کا الزام ہے۔اس موقع پر چیئرمین نیب نے کہا میگا کرپشن مقدمات کومنطقی انجام تک پہنچاناترجیح ہے، مقدمات کوقانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جارہا ہے۔