پاک امریکا ترجیحی تجارتی معاہدے کی توسیع کیلیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے ،مرزا عبدالرحمان

27

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ایف پی سی سی آئی کی مجلس عاملہ کی ایگزیکٹو کمیٹی ممبر مر زا عبد الرحمان نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان پر PTA معاہدے کی توسیع پر پابندی لگا رکھی ہے اور پاکستانی برآمد کننگان کی امریکی منڈیوں تک رسائی کھٹائی میں پڑی ہے۔فیڈریشن چیمبر میں برسر اقتدار یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کو چاہیے تھا کہ اس سلسلے میں صدر امریکی چیمبرز اور پاک امریکہ بزنس کونسل سے ملتے اور اس سلسلے میں عملی اقدامت کرتے اور مذکورہ معاہدے کو بحال کرواتے مگر ایف پی سی سی آئی کا وفد امریکہ چھٹیاں گزار کر واپس آگیا اور اس سنجیدہ اور اہم ایشو پر کوئی کردار ادا نہیں کیا ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا پاک امریکہ بزنس چیمبرز اور پاک امریکہ بزنس کونسل کے ساتھ لابنگ کر کے امریکی تھنک ٹینک کے ساتھ میٹنگز کی جاتیں اور تجارتی معاہدہ بحال کرانے کی کوشیشیں کی جاتیں لیکن سراسرغیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا ۔ مرزا عبد الرحمان نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو دھوکہ دینا اور غلط بیانی کرنا چھوڑ دیں۔ بزنس کمیونٹی حقائق سے آگاہ ہے ۔متعدد چیمبرز ایف پی سی سی آئی کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔اس وقت ایف پی سی سی وہی کام کر رہا ہے جو ایک عام چیمبر کام کر رہا ہے۔تعمیری اور تخلیقی کام کیا جائے ممبران کی آنکھوں میں دھول نہ جھونکی جائے۔سیکرٹری جنرل بزنسمین پینل (فیڈرل) احمد جواد نے اس موقع پر کہا کہ یو بی جی کی قیادت نے کاروباری برادری کے کونسے ایسے مسائل حل کئے ہیں جس بنا پر وہ خود ساختہ طور پر کاروباری برادری کے نور چشم بنے پھرتے ہیں، اگر لامحالہ یہ مان لیا جائے کہ ملک بھر کی تاجر برادری کا آپ پر بھرپور اعتماد ہے تو آپ بتائیں آپ نے تقریروں، دعوتوں اور گروپ فوٹوز کے علاوہ اب تک کیا کیا ہے ۔ کوئی ایک ایسا ایشو بتایا جائے جو یو بی جی نے خالصتا کاروباری طبقہ کا مسئلہ جامع طور پر حل کروایا ہو۔ غیر ملکی دوروں پر بھی انھوں نے تقریروں اور گروپ فوٹوز کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔یو بی جی کا شیوہ ہے کہ ہر برسر اقتدار حکومت کی تعریفیں کرو اور اپنے ذاتی کام نکلوائو۔یو بی جی کے اس فلسفے سے کاروباری طبقہ تنگ آچکا ہے۔ احمد جواد نے مرزا عبد الرحمان کے ہمراہ ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہاکہ ایف پی سی سی آئی کی کارکردگی کا معیار گر چکاہے ملک بھر کی ٹری ڈ باڈیز کی جانب سے مسلسل تنقید کے باعث یو بی غلط بزنس کمیونٹی کو مس گائیڈ کر رہا ہے اور غلطہ تاثر دیا گیا ہے کہ فیڈریشن کا ادارہ بزنس کمیونٹی کے لئے کا م کر رہا ہے۔ نہ کوئی مثبت اور تخلیقی کام کیا گیا اور نہ بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کروائے گئے۔ احمد جواد نے کہا کہ کہ ہمیں کوئی ایسا ایشو نظر نہیں آتا جس پر یہ کہا جاسکے کہ ایف پی سی سی آئی میں برسر اقتدار گروپ یو بی جی نے بزنس کمیونٹی کیلئے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔سیمینارز میٹنگز اور خوش آمدی بیانات اور گروپ فوٹوز سے کاروباری طبقہ سے مسائل حل نہیں ہوتے، غیر ملکی سفیروں سے ملنے اور غیر تخلیقی رپورٹس جاری کرنے سے کاروبای طبقہ کے مسائل حل نہیں ہوتے۔FPCCI کو اسلامی ممالک کے چیمبرز آف کامرس کے اجلاس میں شدید پسپائی کا سامنا کرنا پڑا اور سیکرٹری جنرل فیڈریشن اپنی علحدہ پالیسیز بنا کر چل رہے ہیں جو کہ ادارے کے خلاف ہیں۔